Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آج کیا حال ہے یا رب سر محفل میراکہ نکالے لیے جاتا ہے کوئی دل میراJigar Moradabadi (1890–1960)
  2. آدمی آدمی سے ملتا ہےدل مگر کم کسی سے ملتا ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  3. آنکھوں کا تھا قصور نہ دل کا قصور تھاآیا جو میرے سامنے میرا غرور تھاJigar Moradabadi (1890–1960)
  4. آنکھوں میں بس کے دل میں سما کر چلے گئےخوابیدہ زندگی تھی جگا کر چلے گئےJigar Moradabadi (1890–1960)
  5. آیا نہ راس نالۂ دل کا اثر مجھےاب تم ملے تو کچھ نہیں اپنی خبر مجھےJigar Moradabadi (1890–1960)
  6. اب تو یہ بھی نہیں رہا احساسدرد ہوتا ہے یا نہیں ہوتاJigar Moradabadi (1890–1960)
  7. اس عشق کے ہاتھوں سے ہرگز نہ مفر دیکھااتنی ہی بڑھی حسرت جتنا ہی ادھر دیکھاJigar Moradabadi (1890–1960)
  8. اس کی نظروں میں انتخاب ہوادل عجب حسن سے خراب ہواJigar Moradabadi (1890–1960)
  9. اسے حال و قال سے واسطہ نہ غرض مقام و قیام سےجسے کوئی نسبت خاص ہو ترے حسن برق خرام سےJigar Moradabadi (1890–1960)
  10. اک رند ہے اور مدحت سلطان مدینہہاں کوئی نظر رحمت سلطان مدینہJigar Moradabadi (1890–1960)
  11. اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانا ہےسمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانا ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  12. اگر نہ زہرہ جبینوں کے درمیاں گزرےتو پھر یہ کیسے کٹے زندگی کہاں گزرےJigar Moradabadi (1890–1960)
  13. اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیںفیضان محبت عام سہی عرفان محبت عام نہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
  14. اللہ رے اس گلشن ایجاد کا عالمجو صید کا عالم وہی صیاد کا عالمJigar Moradabadi (1890–1960)
  15. اے حسن یار شرم یہ کیا انقلاب ہےتجھ سے زیادہ درد ترا کامیاب ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  16. برابر سے بچ کر گزر جانے والےیہ نالے نہیں بے اثر جانے والےJigar Moradabadi (1890–1960)
  17. بے کیف دل ہے اور جیے جا رہا ہوں میںخالی ہے شیشہ اور پیے جا رہا ہوں میںJigar Moradabadi (1890–1960)
  18. تجھی سے ابتدا ہے تو ہی اک دن انتہا ہوگاصدائے ساز ہوگی اور نہ ساز بے صدا ہوگاJigar Moradabadi (1890–1960)
  19. ترے جمال حقیقت کی تاب ہی نہ ہوئیہزار بار نگہ کی مگر کبھی نہ ہوئیJigar Moradabadi (1890–1960)
  20. جان کر من جملۂ خاصان مے خانہ مجھےمدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھےJigar Moradabadi (1890–1960)
  21. جنوں کم جستجو کم تشنگی کمنظر آئے نہ کیوں دریا بھی شبنمJigar Moradabadi (1890–1960)
  22. جو اب بھی نہ تکلیف فرمائیے گاتو بس ہاتھ ملتے ہی رہ جائیے گاJigar Moradabadi (1890–1960)
  23. جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیںوہی دنیا بدلتے جا رہے ہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
  24. جہل خرد نے دن یہ دکھائےگھٹ گئے انساں بڑھ گئے سائےJigar Moradabadi (1890–1960)
  25. حسن کافر شباب کا عالمسر سے پا تک شراب کا عالمJigar Moradabadi (1890–1960)
  26. حسن کے احترام نے ماراعشق بے ننگ و نام نے ماراJigar Moradabadi (1890–1960)
  27. خوشا بیداد خون حسرت بیداد ہوتا ہےستم ایجاد کرتے ہو کرم ایجاد ہوتا ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  28. داستان غم دل ان کو سنائی نہ گئیبات بگڑی تھی کچھ ایسی کہ بنائی نہ گئیJigar Moradabadi (1890–1960)
  29. دل کو سکون روح کو آرام آ گیاموت آ گئی کہ دوست کا پیغام آ گیاJigar Moradabadi (1890–1960)
  30. دل کو مٹا کے داغ تمنا دیا مجھےاے عشق تیری خیر ہو یہ کیا دیا مجھےJigar Moradabadi (1890–1960)
  31. دل گیا رونق حیات گئیغم گیا ساری کائنات گئیJigar Moradabadi (1890–1960)
  32. دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میںکتنا حسیں گناہ کئے جا رہا ہوں میںJigar Moradabadi (1890–1960)
  33. دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاداب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یادJigar Moradabadi (1890–1960)
  34. راز جو سینۂ فطرت میں نہاں ہوتا ہےسب سے پہلے دل شاعر پہ عیاں ہوتا ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  35. رکھتے ہیں خضر سے نہ غرض رہ نما سے ہمچلتے ہیں بچ کے دور ہر اک نقش پا سے ہمJigar Moradabadi (1890–1960)
  36. سب پہ تو مہربان ہے پیارےکچھ ہمارا بھی دھیان ہے پیارےJigar Moradabadi (1890–1960)
  37. سبھی انداز حسن پیارے ہیںہم مگر سادگی کے مارے ہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
  38. ستم کامیاب نے ماراکرم لا جواب نے ماراJigar Moradabadi (1890–1960)
  39. سینے میں اگر ہو دل بیدار محبتہر سانس ہے پیغمبر اسرار محبتJigar Moradabadi (1890–1960)
  40. شاعر فطرت ہوں جب بھی فکر فرماتا ہوں میںروح بن کر ذرے ذرے میں سما جاتا ہوں میںJigar Moradabadi (1890–1960)
  41. شب فراق ہے اور نیند آئی جاتی ہےکچھ اس میں ان کی توجہ بھی پائی جاتی ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  42. شب وصل کیا مختصر ہو گئیذرا آنکھ جھپکی سحر ہو گئیJigar Moradabadi (1890–1960)
  43. شرما گئے لجا گئے دامن چھڑا گئےاے عشق مرحبا وہ یہاں تک تو آ گئےJigar Moradabadi (1890–1960)
  44. طبیعت ان دنوں بیگانۂ غم ہوتی جاتی ہےمرے حصے کی گویا ہر خوشی کم ہوتی جاتی ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  45. عشق کو بے نقاب ہونا تھاآپ اپنا جواب ہونا تھاJigar Moradabadi (1890–1960)
  46. عشق کی داستان ہے پیارےاپنی اپنی زبان ہے پیارےJigar Moradabadi (1890–1960)
  47. عشق لا محدود جب تک رہنما ہوتا نہیںزندگی سے زندگی کا حق ادا ہوتا نہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
  48. عشق میں لا جواب ہیں ہم لوگماہتاب آفتاب ہیں ہم لوگJigar Moradabadi (1890–1960)
  49. عشق ہی تنہا نہیں شوریدہ سر میرے لئےحسن بھی بیتاب ہے اور کس قدر میرے لئےJigar Moradabadi (1890–1960)
  50. فکر منزل ہے نہ ہوش جادۂ منزل مجھےجا رہا ہوں جس طرف لے جا رہا ہے دل مجھےJigar Moradabadi (1890–1960)