کام آخر جذبۂ بے اختیار آ ہی گیا

Jigar Moradabadi (1890–1960)

کام آخر جذبۂ بے اختیار آ ہی گیا

دل کچھ اس صورت سے تڑپا ان کو پیار آ ہی گیا

جب نگاہیں اٹھ گئیں اللہ ری معراج شوق

دیکھتا کیا ہوں وہ جان انتظار آ ہی گیا

ہائے یہ حسن تصور کا فریب رنگ و بو

میں یہ سمجھا جیسے وہ جان بہار آ ہی گیا

ہاں سزا دے اے خدائے عشق اے توفیق غم

پھر زبان بے ادب پر ذکر یار آ ہی گیا

اس طرح خوش ہوں کسی کے وعدۂ فردا پہ میں

در حقیقت جیسے مجھ کو اعتبار آ ہی گیا

ہائے کافر دل کی یہ کافر جنوں انگیزیاں

تم کو پیار آئے نہ آئے مجھ کو پیار آ ہی گیا

درد نے کروٹ ہی بدلی تھی کہ دل کی آڑ سے

دفعتاً پردہ اٹھا اور پردہ دار آ ہی گیا

دل نے اک نالہ کیا آج اس طرح دیوانہ وار

بال بکھرائے کوئی مستانہ وار آ ہی گیا

جان ہی دے دی جگرؔ نے آج پائے یار پر

عمر بھر کی بے قراری کو قرار آ ہی گیا