Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہملیکن یہ کیا کہ شہر ترا چھوڑ جائیں ہمHabib Jalib (1928–1993)
  2. یہ جو شب کے ایوانوں میں اک ہلچل اک حشر بپا ہےیہ جو اندھیرا سمٹ رہا ہے یہ جو اجالا پھیل رہا ہےHabib Jalib (1928–1993)
  3. یہ سوچ کر نہ مائل فریاد ہم ہوئےآباد کب ہوئے تھے کہ برباد ہم ہوئےHabib Jalib (1928–1993)
  4. اک پٹری پر سردی میں اپنی تقدیر کو روئےدوجا زلفوں کی چھاؤں میں سکھ کی سیج پہ سوئےHabib Jalib (1928–1993)
  5. اک حسیں گاؤں تھا کنار آبکتنا شاداب تھا دیار آبHabib Jalib (1928–1993)
  6. اے جہاں دیکھ لے کب سے بے گھر ہیں ہماب نکل آئے ہیں لے کے اپنا علمHabib Jalib (1928–1993)
  7. اے نظام کہن کے فرزندواے شب تار کے جگر بندوHabib Jalib (1928–1993)
  8. بازار ہے وہ اب تک جس میں تجھے نچوایادیوار ہے وہ اب تک جس میں تجھے چنوایاHabib Jalib (1928–1993)
  9. بچوں پہ چلی گولیماں دیکھ کے یہ بولیHabib Jalib (1928–1993)
  10. بہت میں نے سنی ہے آپ کی تقریر مولانامگر بدلی نہیں اب تک مری تقدیر مولاناHabib Jalib (1928–1993)
  11. پوچھ نہ کیا لاہور میں دیکھا ہم نے میاں نظیرؔپہنیں سوٹ انگریزی بولیں اور کہلائیں میرؔHabib Jalib (1928–1993)
  12. تو کہ ناواقف آداب شہنشاہی تھیرقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہےHabib Jalib (1928–1993)
  13. تیرے لئے میں کیا کیا صدمے سہتا ہوںسنگینوں کے راج میں بھی سچ کہتا ہوںHabib Jalib (1928–1993)
  14. تیرے مدھر گیتوں کے سہارےبیتے ہیں دن رین ہمارےHabib Jalib (1928–1993)
  15. جب تک چند لٹیرے اس دھرتی کو گھیرے ہیںاپنی جنگ رہے گیHabib Jalib (1928–1993)
  16. جب دیکھو تو پاس کھڑی ہے ننھی جا سو جاتجھے بلاتی ہے سپنوں کی نگری جا سو جاHabib Jalib (1928–1993)
  17. جو ہو نہ سکی بات وہ چہروں سے عیاں تھیحالات کا ماتم تھا ملاقات کہاں تھیHabib Jalib (1928–1993)
  18. جینے کا حق سامراج نے چھین لیااٹھو مرنے کا حق استعمال کروHabib Jalib (1928–1993)
  19. خدا تمہارا نہیں ہے خدا ہمارا ہےاسے زمین پہ یہ ظلم کب گوارا ہےHabib Jalib (1928–1993)
  20. دس کروڑ انسانو!زندگی سے بیگانو!Habib Jalib (1928–1993)
  21. دل کی کونپل ہری تیرے ہونے سے ہےزندگی زندگی تیرے ہونے سے ہےHabib Jalib (1928–1993)
  22. دن بھر کافی ہاؤس میں بیٹھے کچھ دبلے پتلے نقادبحث یہی کرتے رہتے ہیں سست ادب کی ہے رفتارHabib Jalib (1928–1993)
  23. دیپ جس کا محلات ہی میں جلےچند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلےHabib Jalib (1928–1993)
  24. دینا پڑے کچھ ہی ہرجانہ سچ ہی لکھتے جانامت گھبرانا مت ڈر جانا سچ ہی لکھتے جاناHabib Jalib (1928–1993)
  25. سلام اے دل فگار لوگوسلام اے اشک بار لوگوHabib Jalib (1928–1993)
  26. شہر میں ہو کا عالم تھاجن تھا یا ریفرنڈم تھاHabib Jalib (1928–1993)
  27. صدا آ رہی ہے مرے دل سے پیہمکہ ہوگا ہر اک دشمن جاں کا سر خمHabib Jalib (1928–1993)
  28. ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھناپتھر کو گہر دیوار کو در کرگس کو ہما کیا لکھناHabib Jalib (1928–1993)
  29. قوم کی بہتری کا چھوڑ خیالفکر تعمیر ملک دل سے نکالHabib Jalib (1928–1993)
  30. کچے آنگن کا وہ گھر وہ بام و درگاؤں کی پگڈنڈیاں وہ رہ گزرHabib Jalib (1928–1993)
  31. کہاں ٹوٹی ہیں زنجیریں ہماریکہاں بدلی ہیں تقریریں ہماریHabib Jalib (1928–1993)
  32. گولیوں سے یہ جواں آگ نہ بجھ پائے گیگیس پھینکو گے تو کچھ اور بھی لہرائے گیHabib Jalib (1928–1993)
  33. گیت کیا کیا لکھ گیا کیا کیا فسانے کہہ گیانام یوں ہی تو نہیں اس کا ادب میں رہ گیاHabib Jalib (1928–1993)
  34. لائل پور اک شہر ہے جس میں دل ہے مرا آباددھڑکن دھڑکن ساتھ رہے گی اس بستی کی یادHabib Jalib (1928–1993)
  35. میری بچی میں آؤں نہ آؤںآنے والا زمانہ ہے تیراHabib Jalib (1928–1993)
  36. میں تجھے پھول کہوں اور کہوں بھنوروں سےآؤ اس پھول کا رس چوس کے ناچو‌‌ جھوموHabib Jalib (1928–1993)
  37. میں نے اس سے یہ کہایہ جو دس کروڑ ہیںHabib Jalib (1928–1993)
  38. نغمہ بھی ہے اداس تو سر بھی ہے بے اماںرہنے دو کچھ تو نور اندھیروں کے درمیاںHabib Jalib (1928–1993)
  39. ہجوم یاس میں جوت آس کی تری آوازہم اہل درد کی ہے زندگی تری آوازHabib Jalib (1928–1993)
  40. ہریالی کو آنکھیں ترسیں بگیا لہولہانپیار کے گیت سناؤں کس کو شہر ہوئے ویرانHabib Jalib (1928–1993)
  41. یہ ایک عہد سزا ہے جزا کی بات نہ کردعا سے ہاتھ اٹھا رکھ دوا کی بات نہ کرHabib Jalib (1928–1993)
  42. یہ ضابطہ ہے کہ باطل کو مت کہوں باطلیہ ضابطہ ہے کہ گرداب کو کہوں ساحلHabib Jalib (1928–1993)
  43. یہ کہہ رہا ہے دل بے قرار تیز چلوبہت اداس ہیں زنجیر و دار تیز چلوHabib Jalib (1928–1993)
  44. ایک عورت جو میرے لیے مدتوںشمع کی طرح آنسو بہاتی رہیHabib Jalib (1928–1993)
  45. قصر شاہی سے یہ حکم صادر ہوا لاڑکانے چلوورنہ تھانے چلوHabib Jalib (1928–1993)
  46. اک تری یاد سے اک تیرے تصور سے ہمیںآ گئے یاد کئی نام حسیناؤں کےHabib Jalib (1928–1993)
  47. ان کے آنے کے بعد بھی جالبؔدیر تک ان کا انتظار رہاHabib Jalib (1928–1993)