Poetry
- یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہملیکن یہ کیا کہ شہر ترا چھوڑ جائیں ہمHabib Jalib (1928–1993)
- یہ جو شب کے ایوانوں میں اک ہلچل اک حشر بپا ہےیہ جو اندھیرا سمٹ رہا ہے یہ جو اجالا پھیل رہا ہےHabib Jalib (1928–1993)
- یہ سوچ کر نہ مائل فریاد ہم ہوئےآباد کب ہوئے تھے کہ برباد ہم ہوئےHabib Jalib (1928–1993)
- اک پٹری پر سردی میں اپنی تقدیر کو روئےدوجا زلفوں کی چھاؤں میں سکھ کی سیج پہ سوئےHabib Jalib (1928–1993)
- اک حسیں گاؤں تھا کنار آبکتنا شاداب تھا دیار آبHabib Jalib (1928–1993)
- اے جہاں دیکھ لے کب سے بے گھر ہیں ہماب نکل آئے ہیں لے کے اپنا علمHabib Jalib (1928–1993)
- اے نظام کہن کے فرزندواے شب تار کے جگر بندوHabib Jalib (1928–1993)
- بازار ہے وہ اب تک جس میں تجھے نچوایادیوار ہے وہ اب تک جس میں تجھے چنوایاHabib Jalib (1928–1993)
- بچوں پہ چلی گولیماں دیکھ کے یہ بولیHabib Jalib (1928–1993)
- بہت میں نے سنی ہے آپ کی تقریر مولانامگر بدلی نہیں اب تک مری تقدیر مولاناHabib Jalib (1928–1993)
- پوچھ نہ کیا لاہور میں دیکھا ہم نے میاں نظیرؔپہنیں سوٹ انگریزی بولیں اور کہلائیں میرؔHabib Jalib (1928–1993)
- تو کہ ناواقف آداب شہنشاہی تھیرقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہےHabib Jalib (1928–1993)
- تیرے لئے میں کیا کیا صدمے سہتا ہوںسنگینوں کے راج میں بھی سچ کہتا ہوںHabib Jalib (1928–1993)
- تیرے مدھر گیتوں کے سہارےبیتے ہیں دن رین ہمارےHabib Jalib (1928–1993)
- جب تک چند لٹیرے اس دھرتی کو گھیرے ہیںاپنی جنگ رہے گیHabib Jalib (1928–1993)
- جب دیکھو تو پاس کھڑی ہے ننھی جا سو جاتجھے بلاتی ہے سپنوں کی نگری جا سو جاHabib Jalib (1928–1993)
- جو ہو نہ سکی بات وہ چہروں سے عیاں تھیحالات کا ماتم تھا ملاقات کہاں تھیHabib Jalib (1928–1993)
- جینے کا حق سامراج نے چھین لیااٹھو مرنے کا حق استعمال کروHabib Jalib (1928–1993)
- خدا تمہارا نہیں ہے خدا ہمارا ہےاسے زمین پہ یہ ظلم کب گوارا ہےHabib Jalib (1928–1993)
- دس کروڑ انسانو!زندگی سے بیگانو!Habib Jalib (1928–1993)
- دل کی کونپل ہری تیرے ہونے سے ہےزندگی زندگی تیرے ہونے سے ہےHabib Jalib (1928–1993)
- دن بھر کافی ہاؤس میں بیٹھے کچھ دبلے پتلے نقادبحث یہی کرتے رہتے ہیں سست ادب کی ہے رفتارHabib Jalib (1928–1993)
- دیپ جس کا محلات ہی میں جلےچند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلےHabib Jalib (1928–1993)
- دینا پڑے کچھ ہی ہرجانہ سچ ہی لکھتے جانامت گھبرانا مت ڈر جانا سچ ہی لکھتے جاناHabib Jalib (1928–1993)
- سلام اے دل فگار لوگوسلام اے اشک بار لوگوHabib Jalib (1928–1993)
- شہر میں ہو کا عالم تھاجن تھا یا ریفرنڈم تھاHabib Jalib (1928–1993)
- صدا آ رہی ہے مرے دل سے پیہمکہ ہوگا ہر اک دشمن جاں کا سر خمHabib Jalib (1928–1993)
- ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھناپتھر کو گہر دیوار کو در کرگس کو ہما کیا لکھناHabib Jalib (1928–1993)
- قوم کی بہتری کا چھوڑ خیالفکر تعمیر ملک دل سے نکالHabib Jalib (1928–1993)
- کچے آنگن کا وہ گھر وہ بام و درگاؤں کی پگڈنڈیاں وہ رہ گزرHabib Jalib (1928–1993)
- کہاں ٹوٹی ہیں زنجیریں ہماریکہاں بدلی ہیں تقریریں ہماریHabib Jalib (1928–1993)
- گولیوں سے یہ جواں آگ نہ بجھ پائے گیگیس پھینکو گے تو کچھ اور بھی لہرائے گیHabib Jalib (1928–1993)
- گیت کیا کیا لکھ گیا کیا کیا فسانے کہہ گیانام یوں ہی تو نہیں اس کا ادب میں رہ گیاHabib Jalib (1928–1993)
- لائل پور اک شہر ہے جس میں دل ہے مرا آباددھڑکن دھڑکن ساتھ رہے گی اس بستی کی یادHabib Jalib (1928–1993)
- میری بچی میں آؤں نہ آؤںآنے والا زمانہ ہے تیراHabib Jalib (1928–1993)
- میں تجھے پھول کہوں اور کہوں بھنوروں سےآؤ اس پھول کا رس چوس کے ناچو جھوموHabib Jalib (1928–1993)
- میں نے اس سے یہ کہایہ جو دس کروڑ ہیںHabib Jalib (1928–1993)
- نغمہ بھی ہے اداس تو سر بھی ہے بے اماںرہنے دو کچھ تو نور اندھیروں کے درمیاںHabib Jalib (1928–1993)
- ہجوم یاس میں جوت آس کی تری آوازہم اہل درد کی ہے زندگی تری آوازHabib Jalib (1928–1993)
- ہریالی کو آنکھیں ترسیں بگیا لہولہانپیار کے گیت سناؤں کس کو شہر ہوئے ویرانHabib Jalib (1928–1993)
- یہ ایک عہد سزا ہے جزا کی بات نہ کردعا سے ہاتھ اٹھا رکھ دوا کی بات نہ کرHabib Jalib (1928–1993)
- یہ ضابطہ ہے کہ باطل کو مت کہوں باطلیہ ضابطہ ہے کہ گرداب کو کہوں ساحلHabib Jalib (1928–1993)
- یہ کہہ رہا ہے دل بے قرار تیز چلوبہت اداس ہیں زنجیر و دار تیز چلوHabib Jalib (1928–1993)
- ایک عورت جو میرے لیے مدتوںشمع کی طرح آنسو بہاتی رہیHabib Jalib (1928–1993)
- قصر شاہی سے یہ حکم صادر ہوا لاڑکانے چلوورنہ تھانے چلوHabib Jalib (1928–1993)
- اک تری یاد سے اک تیرے تصور سے ہمیںآ گئے یاد کئی نام حسیناؤں کےHabib Jalib (1928–1993)
- ان کے آنے کے بعد بھی جالبؔدیر تک ان کا انتظار رہاHabib Jalib (1928–1993)