جو مرے دل میں آہ ہو کے رہی
Habeeb Ashar Dehlavi (1919–1971)جو مرے دل میں آہ ہو کے رہی
وہ نظر بے پناہ ہو کے رہی
میں ہوں اور تہمت زبونیٔ دل
بے گناہی گناہ ہو کے رہی
خلش دل پہ کچھ بھروسا تھا
وہ بھی تیری نگاہ ہو کے رہی
دل کی عشرت پسندیاں توبہ
ہر تمنا گناہ ہو کے رہی