Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. گفتگو بند نہ ہوبات سے بات چلےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  2. لہو پکارتا ہےہر طرف پکارتا ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  3. ماں ہے ریشم کے کارخانے میںباپ مصروف سوتی مل میں ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  4. مری رگوں میں چہکتے ہوئے لہو کو سنوہزاروں لاکھوں ستاروں نے ساز چھیڑا ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  5. مرے عزیزو، مرے رفیقومری کمیونزم سے ہو خائفAli Sardar Jafri (1913–2000)
  6. معلوم نہیں ذہن کی پرواز کی زد میںسرسبز امیدوں کا چمن ہے کہ نہیں ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  7. مناؤ جشن محبت کہ خوں کی بو نہ رہیبرس کے کھل گئے بارود کے سیہ بادلAli Sardar Jafri (1913–2000)
  8. میرے دروازے سے اب چاند کو رخصت کر دوساتھ آیا ہے تمہارے جو تمہارے گھر سےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  9. میں کہ ہوں پیاس کے دریا کی تڑپتی ہوئی موجپی چکا ہوں میں سمندر کا سمندر پھر بھیAli Sardar Jafri (1913–2000)
  10. ہماری پیاری زبان اردوہماری نغموں کی جان اردوAli Sardar Jafri (1913–2000)
  11. ہمچو سبزہ بارہا روئیدہ ایمپھر اک دن ایسا آئے گاAli Sardar Jafri (1913–2000)
  12. یہ آدمی کی گزر گاہ شاہراہ حیاتہزاروں سال کا بار گراں اٹھائے ہوئےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  13. یہ کس نے فون پہ دی سال نو کی تہنیت مجھ کوتمنا رقص کرتی ہے تخیل گنگناتا ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  14. ناگہاں شور ہوالو شب تار غلامی کی سحر آ پہنچیAli Sardar Jafri (1913–2000)
  15. ان ہاتھوں کی تعظیم کروان ہاتھوں کی تکریم کروAli Sardar Jafri (1913–2000)
  16. پیاس بھی ایک سمندر ہے سمندر کی طرحجس میں ہر درد کی دھارAli Sardar Jafri (1913–2000)
  17. سبز و شاداب ساحلریت کے اور پانی کے گیتAli Sardar Jafri (1913–2000)
  18. اسی لیے تو ہے زنداں کو جستجو میریکہ مفلسی کو سکھائی ہے سرکشی میں نےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  19. انقلاب آئے گا رفتار سے مایوس نہ ہوبہت آہستہ نہیں ہے جو بہت تیز نہیںAli Sardar Jafri (1913–2000)
  20. بہت برباد ہیں لیکن صدائے انقلاب آئےوہیں سے وہ پکار اٹھے گا جو ذرہ جہاں ہوگاAli Sardar Jafri (1913–2000)
  21. پرتو سے جس کے عالم امکاں بہار ہےوہ نو بہار ناز ابھی رہ گزر میں ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  22. پیاس جہاں کی ایک بیاباں تیری سخاوت شبنم ہےپی کے اٹھا جو بزم سے تیری اور بھی تشنہ کام اٹھاAli Sardar Jafri (1913–2000)
  23. تو وہ بہار جو اپنے چمن میں آوارہمیں وہ چمن جو بہاراں کے انتظار میں ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  24. تہہ عارض جو فروزاں ہیں ہزاروں شمعیںلطف اقرار ہے یا شوخئ انکار کا رنگAli Sardar Jafri (1913–2000)
  25. دامن جھٹک کے وادئ غم سے گزر گیااٹھ اٹھ کے دیکھتی رہی گرد سفر مجھےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  26. دل و نظر کو ابھی تک وہ دے رہے ہیں فریبتصورات کہن کے قدیم بت خانےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  27. سو ملیں زندگی سے سوغاتیںہم کو آوارگی ہی راس آئیAli Sardar Jafri (1913–2000)
  28. شب کے سناٹے میں یہ کس کا لہو گاتا ہےسرحد درد سے یہ کس کی صدا آتی ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  29. کمی کمی سی تھی کچھ رنگ و بوئے گلشن میںلب بہار سے نکلی ہوئی دعا تم ہوAli Sardar Jafri (1913–2000)
  30. یہ تیرا گلستاں تیرا چمن کب میری نوا کے قابل ہےنغمہ مرا اپنے دامن میں آپ اپنا گلستاں لاتا ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  31. یہ مے کدہ ہے یہاں ہیں گناہ جام بدستوہ مدرسہ ہے وہ مسجد وہاں ملے گا ثوابAli Sardar Jafri (1913–2000)
  32. دنیا سبب شورش غم پوچھ رہی ہےاک مہر خموشی ہے کہ ہونٹوں پہ لگی ہےEjaz Siddiqi (1913–1978)
  33. ذروں کا مہر و ماہ سے یارانہ چاہئےبے نوریوں کو نور سے چمکانا چاہئےEjaz Siddiqi (1913–1978)
  34. مل سکے گی اب بھی داد آبلہ پائی تو کیافاصلے کم ہو گئے منزل قریب آئی تو کیاEjaz Siddiqi (1913–1978)
  35. ناسزا عالم امکاں میں سزا لگتا ہےناروا بھی کسی موقع پہ روا لگتا ہےEjaz Siddiqi (1913–1978)
  36. نظام فکر نے بدلا ہی تھا سوال کا رنگجھلک اٹھا کئی چہروں سے انفعال کا رنگEjaz Siddiqi (1913–1978)
  37. نور کی کرن اس سے خود نکلتی رہتی ہےوقت کٹتا رہتا ہے رات ڈھلتی رہتی ہےEjaz Siddiqi (1913–1978)
  38. وحشت آثار و سکوں سوز نظاروں کے سوااور سب کچھ ہے گلستاں میں بہاروں کے سواEjaz Siddiqi (1913–1978)
  39. ہوگی گواہ خاک ہندوستاں ہماریاس کی کیاریوں سے پھوٹی زباں ہماریEjaz Siddiqi (1913–1978)
  40. آنکھ میں آنسو ہیں احساس مسرت دل میں ہےایک فردوس نظارہ آپ کی محفل میں ہےEhsan Danish (1914–1982)
  41. آیا نہیں ہے راہ پہ چرخ کہن ابھیخطرے میں دیکھتا ہوں چمن کا چمن ابھیEhsan Danish (1914–1982)
  42. اب کہو کارواں کدھر کو چلےراستے کھو گئے چراغ جلےEhsan Danish (1914–1982)
  43. اپنی رسوائی کا احساس تو اب کچھ بھی نہیںہونٹ ہی سن ہیں خموشی کا سبب کچھ بھی نہیںEhsan Danish (1914–1982)
  44. اٹھا ہوں اک ہجوم تمنا لئے ہوئےدنیا سے جا رہا ہوں میں دنیا لئے ہوئےEhsan Danish (1914–1982)
  45. اظہار صداقت میں اثر کیوں نہیں ہوتااب میری طرف ان کا گزر کیوں نہیں ہوتاEhsan Danish (1914–1982)
  46. اگر محبت کے مدعی ہو تو یہ رویہ روا نہیں ہےجو شکوہ ہے روبرو نہیں ہے جو بات ہے برملا نہیں ہےEhsan Danish (1914–1982)
  47. بخش دی حال زبوں نے جلوہ سامانی مجھےکاش مل جائے زمانے کی پریشانی مجھےEhsan Danish (1914–1982)
  48. بنا دیں گی دنیا کو اک دن شرابییہ بد مست آنکھیں یہ ڈورے گلابیEhsan Danish (1914–1982)
  49. بہار آئی ہے پھر جھوم کر سحاب اٹھاکہاں ہے مطرب رنگیں نوا رباب اٹھاEhsan Danish (1914–1982)
  50. ترا جمال ترا حسن کامگار رہےوہ کیا کرے نہ جسے دل پہ اختیار رہےEhsan Danish (1914–1982)