Poetry
Poet
Meter
- گفتگو بند نہ ہوبات سے بات چلےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- لہو پکارتا ہےہر طرف پکارتا ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- ماں ہے ریشم کے کارخانے میںباپ مصروف سوتی مل میں ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- مری رگوں میں چہکتے ہوئے لہو کو سنوہزاروں لاکھوں ستاروں نے ساز چھیڑا ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- مرے عزیزو، مرے رفیقومری کمیونزم سے ہو خائفAli Sardar Jafri (1913–2000)
- معلوم نہیں ذہن کی پرواز کی زد میںسرسبز امیدوں کا چمن ہے کہ نہیں ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- مناؤ جشن محبت کہ خوں کی بو نہ رہیبرس کے کھل گئے بارود کے سیہ بادلAli Sardar Jafri (1913–2000)
- میرے دروازے سے اب چاند کو رخصت کر دوساتھ آیا ہے تمہارے جو تمہارے گھر سےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- میں کہ ہوں پیاس کے دریا کی تڑپتی ہوئی موجپی چکا ہوں میں سمندر کا سمندر پھر بھیAli Sardar Jafri (1913–2000)
- ہماری پیاری زبان اردوہماری نغموں کی جان اردوAli Sardar Jafri (1913–2000)
- ہمچو سبزہ بارہا روئیدہ ایمپھر اک دن ایسا آئے گاAli Sardar Jafri (1913–2000)
- یہ آدمی کی گزر گاہ شاہراہ حیاتہزاروں سال کا بار گراں اٹھائے ہوئےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- یہ کس نے فون پہ دی سال نو کی تہنیت مجھ کوتمنا رقص کرتی ہے تخیل گنگناتا ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- ناگہاں شور ہوالو شب تار غلامی کی سحر آ پہنچیAli Sardar Jafri (1913–2000)
- ان ہاتھوں کی تعظیم کروان ہاتھوں کی تکریم کروAli Sardar Jafri (1913–2000)
- پیاس بھی ایک سمندر ہے سمندر کی طرحجس میں ہر درد کی دھارAli Sardar Jafri (1913–2000)
- سبز و شاداب ساحلریت کے اور پانی کے گیتAli Sardar Jafri (1913–2000)
- اسی لیے تو ہے زنداں کو جستجو میریکہ مفلسی کو سکھائی ہے سرکشی میں نےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- انقلاب آئے گا رفتار سے مایوس نہ ہوبہت آہستہ نہیں ہے جو بہت تیز نہیںAli Sardar Jafri (1913–2000)
- بہت برباد ہیں لیکن صدائے انقلاب آئےوہیں سے وہ پکار اٹھے گا جو ذرہ جہاں ہوگاAli Sardar Jafri (1913–2000)
- پرتو سے جس کے عالم امکاں بہار ہےوہ نو بہار ناز ابھی رہ گزر میں ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- پیاس جہاں کی ایک بیاباں تیری سخاوت شبنم ہےپی کے اٹھا جو بزم سے تیری اور بھی تشنہ کام اٹھاAli Sardar Jafri (1913–2000)
- تو وہ بہار جو اپنے چمن میں آوارہمیں وہ چمن جو بہاراں کے انتظار میں ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- تہہ عارض جو فروزاں ہیں ہزاروں شمعیںلطف اقرار ہے یا شوخئ انکار کا رنگAli Sardar Jafri (1913–2000)
- دامن جھٹک کے وادئ غم سے گزر گیااٹھ اٹھ کے دیکھتی رہی گرد سفر مجھےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- دل و نظر کو ابھی تک وہ دے رہے ہیں فریبتصورات کہن کے قدیم بت خانےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- سو ملیں زندگی سے سوغاتیںہم کو آوارگی ہی راس آئیAli Sardar Jafri (1913–2000)
- شب کے سناٹے میں یہ کس کا لہو گاتا ہےسرحد درد سے یہ کس کی صدا آتی ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- کمی کمی سی تھی کچھ رنگ و بوئے گلشن میںلب بہار سے نکلی ہوئی دعا تم ہوAli Sardar Jafri (1913–2000)
- یہ تیرا گلستاں تیرا چمن کب میری نوا کے قابل ہےنغمہ مرا اپنے دامن میں آپ اپنا گلستاں لاتا ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- یہ مے کدہ ہے یہاں ہیں گناہ جام بدستوہ مدرسہ ہے وہ مسجد وہاں ملے گا ثوابAli Sardar Jafri (1913–2000)
- دنیا سبب شورش غم پوچھ رہی ہےاک مہر خموشی ہے کہ ہونٹوں پہ لگی ہےEjaz Siddiqi (1913–1978)
- ذروں کا مہر و ماہ سے یارانہ چاہئےبے نوریوں کو نور سے چمکانا چاہئےEjaz Siddiqi (1913–1978)
- مل سکے گی اب بھی داد آبلہ پائی تو کیافاصلے کم ہو گئے منزل قریب آئی تو کیاEjaz Siddiqi (1913–1978)
- ناسزا عالم امکاں میں سزا لگتا ہےناروا بھی کسی موقع پہ روا لگتا ہےEjaz Siddiqi (1913–1978)
- نظام فکر نے بدلا ہی تھا سوال کا رنگجھلک اٹھا کئی چہروں سے انفعال کا رنگEjaz Siddiqi (1913–1978)
- نور کی کرن اس سے خود نکلتی رہتی ہےوقت کٹتا رہتا ہے رات ڈھلتی رہتی ہےEjaz Siddiqi (1913–1978)
- وحشت آثار و سکوں سوز نظاروں کے سوااور سب کچھ ہے گلستاں میں بہاروں کے سواEjaz Siddiqi (1913–1978)
- ہوگی گواہ خاک ہندوستاں ہماریاس کی کیاریوں سے پھوٹی زباں ہماریEjaz Siddiqi (1913–1978)
- آنکھ میں آنسو ہیں احساس مسرت دل میں ہےایک فردوس نظارہ آپ کی محفل میں ہےEhsan Danish (1914–1982)
- آیا نہیں ہے راہ پہ چرخ کہن ابھیخطرے میں دیکھتا ہوں چمن کا چمن ابھیEhsan Danish (1914–1982)
- اب کہو کارواں کدھر کو چلےراستے کھو گئے چراغ جلےEhsan Danish (1914–1982)
- اپنی رسوائی کا احساس تو اب کچھ بھی نہیںہونٹ ہی سن ہیں خموشی کا سبب کچھ بھی نہیںEhsan Danish (1914–1982)
- اٹھا ہوں اک ہجوم تمنا لئے ہوئےدنیا سے جا رہا ہوں میں دنیا لئے ہوئےEhsan Danish (1914–1982)
- اظہار صداقت میں اثر کیوں نہیں ہوتااب میری طرف ان کا گزر کیوں نہیں ہوتاEhsan Danish (1914–1982)
- اگر محبت کے مدعی ہو تو یہ رویہ روا نہیں ہےجو شکوہ ہے روبرو نہیں ہے جو بات ہے برملا نہیں ہےEhsan Danish (1914–1982)
- بخش دی حال زبوں نے جلوہ سامانی مجھےکاش مل جائے زمانے کی پریشانی مجھےEhsan Danish (1914–1982)
- بنا دیں گی دنیا کو اک دن شرابییہ بد مست آنکھیں یہ ڈورے گلابیEhsan Danish (1914–1982)
- بہار آئی ہے پھر جھوم کر سحاب اٹھاکہاں ہے مطرب رنگیں نوا رباب اٹھاEhsan Danish (1914–1982)
- ترا جمال ترا حسن کامگار رہےوہ کیا کرے نہ جسے دل پہ اختیار رہےEhsan Danish (1914–1982)