Poetry
Poet
Meter
- اے نئے سال بتا تجھ میں نیاپن کیا ہےہر طرف خلق نے کیوں شور مچا رکھا ہےFaiz Ludhianvi (1911–1995)
- تیز سی تلوار سادہ سا قلمبس یہی دو طاقتیں ہیں بیش و کمFaiz Ludhianvi (1911–1995)
- جس قدر دنیا میں مخلوقات ہےسب سے اشرف آدمی کی ذات ہےFaiz Ludhianvi (1911–1995)
- عید مبارک آئی ہےسچی خوشیاں لائی ہےFaiz Ludhianvi (1911–1995)
- غور کے قابل ہے دنیا کا نظاماس کا ہر ذرہ ہے عبرت کا مقامFaiz Ludhianvi (1911–1995)
- کچھ کام کرو کچھ کام کرودنیا میں پیدا نام کروFaiz Ludhianvi (1911–1995)
- نیک بچے دل سے کرتے ہیں ادب استاد کاباپ کی الفت سے بہتر ہے غضب استاد کاFaiz Ludhianvi (1911–1995)
- وہ بشر جو پڑھ کے بھی کہتا ہو یوںبن کے طالب اور کچھ حاصل کروںFaiz Ludhianvi (1911–1995)
- ہر دم علم سکھاتی ہےعقل کے راز بتاتی ہےFaiz Ludhianvi (1911–1995)
- عقل گم ہے دل پریشاں ہے نظر بیتاب ہےجستجو سے بھی نہیں ملتا سراغ زندگیFaiz Ludhianvi (1911–1995)
- غریبی کس بلا کا نام ہے ان کی بلا جانےخدا ہے جن کی دولت جن کا شیوہ زر پرستی ہےFaiz Ludhianvi (1911–1995)
- جیسے ہوتی آئی ہے ویسے بسر ہو جائے گیزندگی اب مختصر سے مختصر ہو جائے گیMeeraji (1912–1949)
- چاند ستارے قید ہیں سارے وقت کے بندی خانے میںلیکن میں آزاد ہوں ساقی چھوٹے سے پیمانے میںMeeraji (1912–1949)
- دل محو جمال ہو گیا ہےیا صرف خیال ہو گیا ہےMeeraji (1912–1949)
- دیدۂ اشک بار ہے اپنااور دل بے قرار ہے اپناMeeraji (1912–1949)
- ڈھب دیکھے تو ہم نے جانا دل میں دھن بھی سمائی ہےمیراجیؔ دانا تو نہیں ہے عاشق ہے سودائی ہےMeeraji (1912–1949)
- زندگی ایک اذیت ہے مجھےتجھ سے ملنے کی ضرورت ہے مجھےMeeraji (1912–1949)
- غم کے بھروسے کیا کچھ چھوڑا کیا اب تم سے بیان کریںغم بھی راس نہ آیا دل کو اور ہی کچھ سامان کریںMeeraji (1912–1949)
- گناہوں سے نشوونما پا گیا دلدر پختہ کاری پہ پہنچا گیا دلMeeraji (1912–1949)
- ہنسو تو ساتھ ہنسے گی دنیا بیٹھ اکیلے رونا ہوگاچپکے چپکے بہا کر آنسو دل کے دکھ کو دھونا ہوگاMeeraji (1912–1949)
- الجھن کی کہانیMeeraji (1912–1949)
- لب جوئے بارےMeeraji (1912–1949)
- جنگ کا انجامMeeraji (1912–1949)
- رقیبMeeraji (1912–1949)
- سلسلۂ روز و شبMeeraji (1912–1949)
- نارسائیMeeraji (1912–1949)
- کلرک کا نغمۂ محبتMeeraji (1912–1949)
- ایک تضادMeeraji (1912–1949)
- کئی ستارے چمک رہے ہیںMeeraji (1912–1949)
- میں جنسی کھیل کو صرف اک تن آسانی سمجھتا ہوںذریعہ اور ہے معبود سے ملنے کا دنیا میںMeeraji (1912–1949)
- یعنیMeeraji (1912–1949)
- نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بھول گیاکیا ہے تیرا کیا ہے میرا اپنا پرایا بھول گیاMeeraji (1912–1949)
- سہاراMeeraji (1912–1949)
- دور کناراMeeraji (1912–1949)
- طالب علمMeeraji (1912–1949)
- دن کے روپ میں رات کہانیMeeraji (1912–1949)
- شام کو راستے پرMeeraji (1912–1949)
- بغاوت نفسMeeraji (1912–1949)
- جزو اور کلMeeraji (1912–1949)
- ایک تھی عورتMeeraji (1912–1949)
- جسم کے اس پارMeeraji (1912–1949)
- چل چلاؤMeeraji (1912–1949)
- اونچا مکانMeeraji (1912–1949)
- محرومیMeeraji (1912–1949)
- دھوبی کا گھاٹMeeraji (1912–1949)
- ترغیبMeeraji (1912–1949)
- یگانگتMeeraji (1912–1949)
- مجھے گھر یاد آتا ہےMeeraji (1912–1949)
- تن آسانیMeeraji (1912–1949)
- شرابMeeraji (1912–1949)