بھلا دینے والوں کی یاد آ رہی ہے

Habeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)

بھلا دینے والوں کی یاد آ رہی ہے

بھلائے ہوئے خواب دکھلا رہی ہے

اذیت میں راحت خلش میں سکوں ہے

طبیعت عجب لذتیں پا رہی ہے

تصور میں وہ زلف مشکیں بسی ہے

معطر معطر صبا آ رہی ہے

مرے واسطے غنچۂ جاں فزا میں

تبسم کی شوخی بھری جا رہی ہے

بہک کر بھٹک کر نگاہیں بچا کر

مرے دل کی جانب نظر آ رہی ہے

زباں کے توسط سے آزاد ہو کر

حدیث تمنا کہی جا رہی ہے

یہ میری تمنا کی گل کاریاں ہیں

کہ پھولوں سے دنیا پٹی جا رہی ہے

جوانی میں الفت کی حلقہ بگوشی

یہ رسم کہن تو چلی جا رہی ہے

محبت کو دیوانگی جانتے ہیں

محبت مگر پھر بھی کی جا رہی ہے