مجھے آماجگاہ ناوک بیداد رہنے دے

Habeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)

مجھے آماجگاہ ناوک بیداد رہنے دے

جو اس کا نام بربادی ہے تو برباد رہنے دے

سرشت عشق لذت آشنائے تلخ کامی ہے

میں ناشاد تمنا ہوں مجھے ناشاد رہنے دے

نہیں جب سبحہ و زنار کے پھندے میں گیرائی

مجھے دیر و حرم کے دام سے آزاد رہنے دے

ابھی سے کیوں بنی جاتی ہے چشم ناز بیگانہ

فریب آرزو کچھ دن ستم ایجاد رہنے دے

کیا ہے کن امیدوں پر فراہم آشیاں میں نے

خدارا موسم گل تک مرے صیاد رہنے دے

ہمیں آزادیٔ فکر و نظر کا ادعا تو ہے

کوئی غارت گر ایماں اگر آزاد رہنے دے

دل برباد سے یہ چشمک چشم طرب کیوں ہے

کرم نا آشنا کو خوگر بیداد رہنے دے