ہوش و ہمت آزما شان تجمل کیوں نہیں
Habeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)ہوش و ہمت آزما شان تجمل کیوں نہیں
وہ کسی کا آشنایانہ تغافل کیوں نہیں
ضبط کی تلقین اظہار تمنا کے لئے
ہوش کھونے کے لئے شرط تحمل کیوں نہیں
عندلیب خود نگر کیوں رات دن آہ و بکا
احترام جذبۂ خودداریٔ گل کیوں نہیں
شاد ہو محبوب تو ناشاد کوئی کس لئے
خندۂ گل باعث تسکین بلبل کیوں نہیں
ڈھونڈھتی ہے آنکھ پھر وہ سعیٔ بیگانہ وشی
دعوت ارماں بہ انداز تغافل کیوں نہیں
شرم کا لے کر سہارا وہ نظر اٹھی تو کیا
یہ شرار برق آزاد توسل کیوں نہیں
جو نگاہیں صرف تاراج شعور و ہوش تھیں
آج وہ غارت گر صبر و تحمل کیوں نہیں
جام خالی ہو تو رنگینی کو اس کی کیا کریں
بادۂ گلفام سے پر ساغر گل کیوں نہیں
وہ سکوں وہ آشتی وہ سر خوشی پائیں کہاں
زندگی تصویر فردوس تخیل کیوں نہیں