یوں تبسم ریز ہے دل چشم خنداں دیکھ کر

Habeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)

یوں تبسم ریز ہے دل چشم خنداں دیکھ کر

جیسے دریا مسکرائے ماہ تاباں دیکھ کر

بارگاہ ناز میں سر کو جھکانا ہی پڑا

حسن کی رنگینیوں کو جزو ایماں دیکھ کر

ان بتوں کے عشوۂ رنگیں کی رنگیں شوخیاں

التفات خاص ہے مجھ کو مسلماں دیکھ کر

گو نہ تھے ناآشنائے رسم و راہ دلبری

پھر بھی ہم کھوئے گئے چشم پشیماں دیکھ کر

زندگی میں قوت بالیدگی آتی گئی

ہر ادائے حسن میں اک راز پنہاں دیکھ کر

حسن کی معصومیت سے دل کو ہے امید لطف

زیر لب خنداں ہے کوئی دل کا ارماں دیکھ کر

بے دلی نے توڑ ڈالے رنگ و بو کے سب طلسم

کیا کرے کوئی بہار صد گلستاں دیکھ کر