کمال ضبط میں یوں اشک مضطر ٹوٹ کر نکلا

Saba Akbarabadi (1908–1991)

کمال ضبط میں یوں اشک مضطر ٹوٹ کر نکلا

اسیر غم کوئی زنداں سے جیسے چھوٹ کر نکلا