ہر چند اس نے خوگر آزار کر دیا

Habeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)

ہر چند اس نے خوگر آزار کر دیا

نغمات زندگی کو تو بیدار کر دیا

معصومیت نگاہ کرم کی ستم ہوئی

الفت کا اعتبار میں اظہار کر دیا

پھر اس کی یاد آئی لئے گلستان شوق

پھر آرزو کو تشنۂ دیدار کر دیا

اس نے بہ یک نگاہ خریدے دل و جگر

ہوش و خرد کو نذر خریدار کر دیا

دل گنج بے بہا سہی لیکن ترے لئے

ہم نے تو صرف رونق بازار کر دیا

ہر جرم عشق فخر ہے میرے لئے مگر

اس کی نگاہیں دیکھ کے انکار کر دیا

حسرت بھری نظر وہ کسی کی دم وداع

مرنا بھی میرے واسطے دشوار کر دیا