Poetry
- ترے شیشے میں مے باقی نہیں ہےبتا، کیا تُو مرا ساقی نہیں ہےAllama Iqbal (1877–1938)
- جان جائے ہاتھ سے جائے نہ ستہے یہی اک بات ہر مذہب کا تَتAllama Iqbal (1877–1938)
- دِلوں کو مرکزِ مہر و وفا کرحریمِ کبریا سے آشنا کرAllama Iqbal (1877–1938)
- دیکھئے چلتی ہے مشرق کی تجارت کب تکشیشۂ دِیں کے عَوض جام و سبُو لیتا ہےAllama Iqbal (1877–1938)
- سُنا ہے مَیں نے، کل یہ گفتگو تھی کارخانے میںپُرانے جھونپڑوں میں ہے ٹھکانا دستکاروں کاAllama Iqbal (1877–1938)
- شیخ صاحب بھی تو پردے کے کوئی حامی نہیںمفت میں کالج کے لڑکے ان سے بدظن ہو گئےAllama Iqbal (1877–1938)
- کارخانے کا ہے مالک مَردکِ ناکردہ کارعیش کا پُتلا ہے، محنت ہے اسے ناسازگارAllama Iqbal (1877–1938)
- کچھ غم نہیں جو حضرتِ واعظ ہیں تنگ دستتہذیبِ نَو کے سامنے سر اپنا خم کریںAllama Iqbal (1877–1938)
- ممبری امپِیریَل کونسل کی کچھ مشکل نہیںووٹ تو مِل جائیں گے، پیسے بھی دِلوائیں گے کیا؟Allama Iqbal (1877–1938)
- ناداں تھے اس قدر کہ نہ جانی عرب کی قدرحاصل ہوا یہی، نہ بچے مار پِیٹ سےAllama Iqbal (1877–1938)
- نہیں مقام کی خُوگر طبیعتِ آزادہُوائے سیر مثالِ نسیم پیدا کرAllama Iqbal (1877–1938)
- ہاتھوں سے اپنے دامنِ دُنیا نکل گیارُخصت ہُوا دلوں سے خیالِ معاد بھیAllama Iqbal (1877–1938)
- ہندوستاں میں جزوِ حکومت ہیں کونسلیںآغاز ہے ہمارے سیاسی کمال کاAllama Iqbal (1877–1938)
- یہ کوئی دن کی بات ہے اے مردِ ہوش مند!غیرت نہ تجھ میں ہو گی، نہ زن اوٹ چاہے گیAllama Iqbal (1877–1938)
- اُٹھا کر پھینک دو باہر گلی میںنئی تہذیب کے انڈے ہیں گندےAllama Iqbal (1877–1938)
- اُٹھ کہ خورشید کا سامانِ سفر تازہ کریںنفَسِ سوختۂ شام و سحَر تازہ کریںAllama Iqbal (1877–1938)
- فرمانِ خداAllama Iqbal (1877–1938)
- “اصلِ شہود و شاہد و مشہود ایک ہے”غالبؔ کا قول سچ ہے تو پھر ذکرِ غیر کیاAllama Iqbal (1877–1938)
- پھُول کی پتّی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگرمردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثرAllama Iqbal (1877–1938)
- تعلیمِ مغربی ہے بہت جُرأت آفریںپہلا سبَق ہے، بیٹھ کے کالج میں مار ڈِینگAllama Iqbal (1877–1938)
- تکرار تھی مزارع و مالک میں ایک روزدونوں یہ کہہ رہے تھے، مرا مال ہے زمیںAllama Iqbal (1877–1938)
- تہذیب کے مریض کو گولی سے فائدہ!دفعِ مَرض کے واسطے پِل پیش کیجیےAllama Iqbal (1877–1938)
- ناظرین سے (ضربِ کلیم)Allama Iqbal (1877–1938)
- دلیلِ مہر و وفا اس سے بڑھ کے کیا ہوگینہ ہو حضور سے اُلفت تو یہ ستم نہ سہیںAllama Iqbal (1877–1938)
- رات مچھّر نے کہہ دیا مجھ سےماجرا اپنی ناتمامی کاAllama Iqbal (1877–1938)
- شام کی سرحد سے رُخصت ہے وہ رندِ لم یزلرکھ کے میخانے کے سارے قاعدے بالائے طاقAllama Iqbal (1877–1938)
- فرما رہے تھے شیخ طریقِ عمل پہ وعظکُفّار ہند کے ہیں تجارت میں سخت کوشAllama Iqbal (1877–1938)
- گائے اک روز ہوئی اُونٹ سے یوں گرمِ سخننہیں اک حال پہ دنیا میں کسی شے کو قرارAllama Iqbal (1877–1938)
- لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزیڈھُونڈ لی قوم نے فلاح کی راہAllama Iqbal (1877–1938)
- محنت و سرمایہ دنیا میں صف آرا ہو گئےدیکھئے ہوتا ہے کس کس کی تمنّاؤں کا خُونAllama Iqbal (1877–1938)
- تمہید (ضربِ کلیم)Allama Iqbal (1877–1938)
- یہ آیۂ نو، جیل سے نازل ہوئی مجھ پرگِیتا میں ہے قرآن تو قرآن میں گیتاAllama Iqbal (1877–1938)
- آہ، اے اقبال وہ بلبل بھی اب خاموش ہےتیری متاع حیات، علم و ہنر کا سرورAllama Iqbal (1877–1938)
- آہ یہ گلشن نہیں ایسے ترانے کے لیےگرچہ تو زندانی اسباب ہےAllama Iqbal (1877–1938)
- آیہ لا یخلف المیعاد رکھیہ لسان العصر کا پیغام ہےAllama Iqbal (1877–1938)
- ان امتوں کے باطن نہیں پاکتہ دام بھی غزل آشنا رہے طائران چمن تو کیاAllama Iqbal (1877–1938)
- جوکام کچھ کر رہی ہیں قومیں ، انھیں مذاق سخن نہیں ہےلائوں وہ تنکے کہیں سے آشیانے کے لیےAllama Iqbal (1877–1938)
- سو سو امیدیں بندھتی ہے اک اک نگاہ پرمجھ کو نہ ایسے پیار سے دیکھا کرے کوئیAllama Iqbal (1877–1938)
- عشق ہو جس کا جسور ، فقر ہو جس کا غیورڈھونڈ رہا ہے فرنگ عیش جہاں کا دوامAllama Iqbal (1877–1938)
- مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نےمن اپنا پُرانا پاپی ہے، برسوں میں نمازی بن نہ سکاAllama Iqbal (1877–1938)
- ورنہ ہے مال فقیر سلطنت روم و شامدریا میں موتی ، اے موج بے باکAllama Iqbal (1877–1938)