عشق ہو جس کا جسور ، فقر ہو جس کا غیور

Allama Iqbal (1877–1938)

عشق ہو جس کا جسور ، فقر ہو جس کا غیور

ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عیش جہاں کا دوام