Poetry
Hazaj Musaddas Akhrab Maqbuz Mahzuf
ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف- ہم آپ کو دیکھتے تھے پہلےاب آپ کی راہ دیکھتے ہیںKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- لوٹا ہے مجھے اس کی ہر ادا نےانداز نے ناز نے حیا نےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- ادراک خود آشنا نہیں ہےورنہ انساں میں کیا نہیں ہےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- افسوس گزر گئی جوانیوہ لمحۂ کیف و شادمانیSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- بلبل اور گلابSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- ہم ہیں سر تا بہ پا تمناکیسی امید کیا تمناSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- اس وہم کی انتہا نہیں ہےسب کچھ ہے مگر خدا نہیں ہےAziz Lakhnavi (1882–1935)
- عشق رخ و زلف میں کیا کوچشب آ کے رہا سحر کیا کوچShad Lakhnavi (d. 1892)
- غیروں میں حنا وہ مل رہا ہےنیرنگ جہاں بدل رہا ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
- جی جاؤں جو بند ناطقہ ہوخاموش کہیں یہ بولتا ہوShad Lakhnavi (d. 1892)
- نظروں سے گلوں کی نونہالوشبنم کی طرح گرا سنبھالوShad Lakhnavi (d. 1892)
- آنکھوں میں جو بات ہو گئی ہےاک شرح حیات ہو گئی ہےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- رونے کو تو زندگی پڑی ہےکچھ تیرے ستم پہ مسکرا لیںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- ہم بن غم یار بھی جئے ہیںمرنے کے بڑے جتن کئے ہیںAbid Ali Abid (1906–1971)
- ذرے میں گم ہزار صحراقطرے میں محیط لاکھ قلزمTabish Dehlvi (1911–2004)
- دل محو جمال ہو گیا ہےیا صرف خیال ہو گیا ہےMeeraji (1912–1949)
- اک عمر سے ہم تم آشنا ہیںہم سے مہ و انجم آشنا ہیںHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- اک صبح ہے جو ہوئی نہیں ہےاک رات ہے جو کٹی نہیں ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- یہ بے کس و بے قرار چہرےصدیوں کے یہ سوگوار چہرےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- بہار حسن جواں مرگ صورت گل ترمثال خار مگر عمر درد عشق درازAli Sardar Jafri (1913–2000)
- جینے کے لیے جو مر رہے ہیںآغاز حیات کر رہے ہیںEhsan Danish (1914–1982)
- احساس میں پھول کھل رہے ہیںپت جھڑ کے عجیب سلسلے ہیںAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- جی چاہتا ہے فلک پہ جاؤںسورج کو غروب سے بچاؤںAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- ہر لمحہ اگر گریز پا ہےتو کیوں مرے دل میں بس گیا ہےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- ابا تو چلے گئے ہیں دفترامی کو بخار آ رہا ہےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- کس دل سے کروں وداع تجھ کوٹوٹا جو ستارہ بجھ گیا ہےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- مر جاتا ہوں جب یہ سوچتا ہوںمیں تیرے بغیر جی رہا ہوںAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- حالات سے خوف کھا رہا ہوںشیشے کے محل بنا رہا ہوںQateel Shifai (1919–2001)
- پتھر کے خدا وہاں بھی پائےہم چاند سے آج لوٹ آئےKaifi Azmi (1919–2002)
- تم اتنا جو مسکرا رہے ہوکیا غم ہے جس کو چھپا رہے ہوKaifi Azmi (1919–2002)
- ویسے ہی خیال آ گیا ہےیا دل میں ملال آ گیا ہےAda Jafri (1924–2015)
- ہر گام سنبھل سنبھل رہی تھییادوں کے بھنور میں چل رہی تھیAda Jafri (1924–2015)
- دل بے تب و تاب ہو گیا ہےآئینہ خراب ہو گیا ہےQaisarul Jafri (1926–2005)
- یہ خواب جو ہم سفر ہیں میرےقاتل ہیں کہ چارہ گر ہیں میرےQaisarul Jafri (1926–2005)
- اک سایۂ شام یاد آیاخوشبو کا خرام یاد آیاGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- بندوں کا مزاج ہم نے دیکھاکیا کچھ نہیں آج ہم نے دیکھاGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- دریا میں یہ ناؤ کس طرف ہےپانی کا بہاؤ کس طرف ہےGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- سر پر کوئی آسمان رکھ دےاک منہ میں مگر زبان رکھ دےGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- ہے جو بھی جزا سزا عطا ہوہونا ہے جو آج برملا ہوGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- اک سنگ تراش جس نے برسوںہیروں کی طرح صنم تراشےAhmad Faraz (1931–2008)
- اک عمر کے بعد تم ملے ہواے میرے وطن کے خوش نواؤAhmad Faraz (1931–2008)
- کس بوجھ سے جسم ٹوٹتا ہےاتنا تو کڑا سفر نہیں تھاAhmad Faraz (1931–2008)
- اے صبح میں اب کہاں رہا ہوںخوابوں ہی میں صرف ہو چکا ہوںJaun Elia (1931–2002)
- خود میں ہی گزر کے تھک گیا ہوںمیں کام نہ کر کے تھک گیا ہوںJaun Elia (1931–2002)
- دل سے ہے بہت گریز پا توتو کون ہے اور ہے بھی کیا توJaun Elia (1931–2002)
- کب اس کا وصال چاہیے تھابس ایک خیال چاہیے تھاJaun Elia (1931–2002)
- یادوں کا حساب رکھ رہا ہوںسینے میں عذاب رکھ رہا ہوںJaun Elia (1931–2002)
- پیدا یہ غبار کیوں ہوا ہےاور آخری بار کیوں ہوا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
- مقبول عوام ہو گیا میںگویا کہ تمام ہو گیا میںZafar Iqbal (b. 1932)
- یوں تو کس چیز کی کمی ہےہر شے لیکن بکھر گئی ہےZafar Iqbal (b. 1932)