Poetry
Hazaj Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف- اشکوں کے نشاں پرچۂ سادہ پہ ہیں قاصداب کچھ نہ بیاں کر یہ عبارت ہی بہت ہےEhsan Ali Khan (1922–1991)
- آئینۂ وحشت کو جلا جس سے ملی ہےوہ گرد رہ ترک مراسم سے اٹھی ہےUmmeed Fazli (1923–2005)
- انسان نہیں وہ جو گنہ گار نہیں ہیںوہ کون سا گلشن ہے جہاں خار نہیں ہیںD. Raj Kanwal (b. 1923)
- بیکار بھی اس دور میں بیکار نہیں ہےاس دور ترقی پہ بہت ناز نہ کیجےQadir Siddiqi (b. 1923)
- مٹنے کا جنوں لٹنے کا ارماں نظر آیاآپ آئے تو کچھ جینے کا ساماں نظر آیاQadir Siddiqi (b. 1923)
- کتنے مہ و انجم ہیں ضیا پاش ازل سےلیکن نہ ہوئی کم دل انساں کی سیاہیQadir Siddiqi (b. 1923)
- ان کی نگہ ناز کے ٹھکرائے ہوئے ہیںہم جرم محبت کی سزا پائے ہوئے ہیںVafa Malikpuri (1923–2003)
- اب معتقد گردش دوراں نہ رہے ہمقابل ترے اے دیدۂ جاناں نہ رہے ہمLalan Chaudhary (b. 1923)
- گلزار میں رفتار صبا اور ہی کچھ ہےاس شوخ کے چلنے کی ادا اور ہی کچھ ہےLalan Chaudhary (b. 1923)
- توفیق سے کب کوئی سروکار چلے ہےدنیا میں فقط طالع بیدار چلے ہےAda Jafri (1924–2015)
- دل اپنا جلایا ہے کسی نے بھی خوشی سےبن جاتی ہے جی پر تو گزر جاتے ہیں جی سےAda Jafri (1924–2015)
- کہتے ہیں کہ اب ہم سے خطا کار بہت ہیںاک رسم وفا تھی سو وفادار بہت ہیںAda Jafri (1924–2015)
- کیا جانئے کس بات پہ مغرور رہی ہوںکہنے کو تو جس راہ چلایا ہے چلی ہوںAda Jafri (1924–2015)
- وہ لمحہ کہ خاموشیٔ شب نغمہ سرا تھیکانوں پہ گراں دل کے دھڑکنے کی صدا تھیAda Jafri (1924–2015)
- مانجھی تری کشتی کے طلب گار بہت ہیںکچھ لوگ ہیں اس پار تو اس پار بہت ہیںUmar Quraishi (1924–2010)
- وحشت کے سوا کچھ نہ ملا در بدری سےباز آئے محبت کی ہم آشفتہ سری سےUmar Quraishi (1924–2010)
- ہے حسن کا اعجاز کہ اعجاز نظر کیاآنکھوں میں ہیں پوشیدہ ترے لعل و گہر کیاRabia Barni (b. 1924)
- اس دور کی پلکوں پہ ہیں آنسو کی طرح ہمکچھ دیر میں اڑ جائیں گے خوشبو کی طرح ہمQaisarul Jafri (1926–2005)
- ٹوٹے ہوئے خوابوں کی چبھن کم نہیں ہوتیاب رو کے بھی آنکھوں کی جلن کم نہیں ہوتیQaisarul Jafri (1926–2005)
- خوابوں کے کسی موڑ پہ دیکھا سا لگے ہےاپنا نہ سہی پھر بھی وہ اپنا سا لگے ہےQaisarul Jafri (1926–2005)
- زخموں کے نئے پھول کھلانے کے لئے آپھر موسم گل یاد دلانے کے لئے آKaleem Aajiz (1926–2015)
- شانے کا بہت خون جگر جائے ہے پیارےتب زلف کہیں تا بہ کمر جائے ہے پیارےKaleem Aajiz (1926–2015)
- قائم ہے سرور مئے گلفام ہماراکیا غم ہے اگر ٹوٹ گیا جام ہماراKaleem Aajiz (1926–2015)
- کس طرح کوئی دھوپ میں پگھلے ہے جلے ہےیہ بات وہ کیا جانے جو سائے میں پلے ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
- کیا غم ہے اگر شکوۂ غم عام ہے پیارےتو دل کو دکھا تیرا یہی کام ہے پیارےKaleem Aajiz (1926–2015)
- میرے ہی لہو پر گزر اوقات کرو ہومجھ سے ہی امیروں کی طرح بات کرو ہوKaleem Aajiz (1926–2015)
- ہر چند غم و درد کی قیمت بھی بہت تھیلینا ہی پڑا دل کو ضرورت بھی بہت تھیKaleem Aajiz (1926–2015)
- دل تھام کے کروٹ پہ لئے جاؤں ہوں کروٹوہ آگ لگی ہے کہ بجھائے نہ بنے ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
- غم ہے تو کوئی لطف نہیں بستر گل پرجی خوش ہے تو کانٹوں پہ بھی آرام بہت ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
- کل کہتے رہے ہیں وہی کل کہتے رہیں گےہر دور میں ہم ان پہ غزل کہتے رہیں گےKaleem Aajiz (1926–2015)
- مرنا تو بہت سہل سی اک بات لگے ہےجینا ہی محبت میں کرامات لگے ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
- تو خود بھی نہیں اور ترا ثانی نہیں ملتاپیغام ترا تیری زبانی نہیں ملتاZafar Hameedi (b. 1926)
- اس شام وہ رخصت کا سماں یاد رہے گاوہ شہر وہ کوچہ وہ مکاں یاد رہے گاIbn-e-Insha (1927–1978)
- تم میرے لیے اتنے پریشان سے کیوں ہومیں ڈوب بھی جاتا تو کہیں اور ابھرتاMunir Niazi (1928–2006)
- اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاںاب شوق کا کچھ اور ہی عالم ہے مری جاںHabib Jalib (1928–1993)
- اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارےزندہ ہیں یہی بات بڑی بات ہے پیارےHabib Jalib (1928–1993)
- افسوس تمہیں کار کے شیشے کا ہوا ہےپروا نہیں اک ماں کا جو دل ٹوٹ گیا ہےHabib Jalib (1928–1993)
- جب کوئی کلی صحن گلستاں میں کھلی ہےشبنم مری آنکھوں میں وہیں تیر گئی ہےHabib Jalib (1928–1993)
- ذرے ہی سہی کوہ سے ٹکرا تو گئے ہمدل لے کے سر عرصۂ غم آ تو گئے ہمHabib Jalib (1928–1993)
- کچھ لوگ خیالوں سے چلے جائیں تو سوئیںبیتے ہوئے دن رات نہ یاد آئیں تو سوئیںHabib Jalib (1928–1993)
- جو ہو نہ سکی بات وہ چہروں سے عیاں تھیحالات کا ماتم تھا ملاقات کہاں تھیHabib Jalib (1928–1993)
- زنجیر میں ہیں دیر و حرم کون و مکاں بھیہے عشق ہمیں ان سے نہیں جن کا گماں بھیGhalib Ahmad (b. 1928)
- فریاد نہیں اشک نہیں آہ نہیں ہےاے عشق ترا کوئی ہوا خواہ نہیں ہےQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
- ہیں وقت کے محکوم تو بہکیں گے قدم اوربدلے ہوئے حالات میں کھو جائیں گے ہم اورQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
- ممکن ہے شب ہجر دعا کا نہ اثر ہوہے رات وہ کیا رات کہ جس کی نہ سحر ہوA G Josh (1928–2007)
- ہے زیب گلو کب سے مرے دار کا پھندامجرم ہوں اگر میں تو سزا کیوں نہیں دیتےKaleem Usmani (1928–2000)
- یوں باغ کوئی ہم نے اجڑتا نہیں دیکھامدت سے کسی پھول کا چہرہ نہیں دیکھاYashpal Gupta (b. 1928)
- محدود ہے یہ وسعت عالم بھی نظر میںگم ہو گیا ہوں ایسا تری راہ گزر میںDaud Nishat (1929–1992)
- اپنوں نے اجاڑا ہے چمن جان گئے ہیںپردوں میں چھپا کون ہے پہچان گئے ہیںEhsan Jafri (1929–2002)
- تم اچھے مسیحا ہو دوا کیوں نہیں دیتےبے نور جو ہے شمع بجھا کیوں نہیں دیتےEhsan Jafri (1929–2002)