Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Hazaj Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf

ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. اشکوں کے نشاں پرچۂ سادہ پہ ہیں قاصداب کچھ نہ بیاں کر یہ عبارت ہی بہت ہےEhsan Ali Khan (1922–1991)
  2. آئینۂ وحشت کو جلا جس سے ملی ہےوہ گرد رہ ترک مراسم سے اٹھی ہےUmmeed Fazli (1923–2005)
  3. انسان نہیں وہ جو گنہ گار نہیں ہیںوہ کون سا گلشن ہے جہاں خار نہیں ہیںD. Raj Kanwal (b. 1923)
  4. بیکار بھی اس دور میں بیکار نہیں ہےاس دور ترقی پہ بہت ناز نہ کیجےQadir Siddiqi (b. 1923)
  5. مٹنے کا جنوں لٹنے کا ارماں نظر آیاآپ آئے تو کچھ جینے کا ساماں نظر آیاQadir Siddiqi (b. 1923)
  6. کتنے مہ و انجم ہیں ضیا پاش ازل سےلیکن نہ ہوئی کم دل انساں کی سیاہیQadir Siddiqi (b. 1923)
  7. ان کی نگہ ناز کے ٹھکرائے ہوئے ہیںہم جرم محبت کی سزا پائے ہوئے ہیںVafa Malikpuri (1923–2003)
  8. اب معتقد‌ گردش دوراں نہ رہے ہمقابل ترے اے دیدۂ جاناں نہ رہے ہمLalan Chaudhary (b. 1923)
  9. گلزار میں رفتار صبا اور ہی کچھ ہےاس شوخ کے چلنے کی ادا اور ہی کچھ ہےLalan Chaudhary (b. 1923)
  10. توفیق سے کب کوئی سروکار چلے ہےدنیا میں فقط طالع بیدار چلے ہےAda Jafri (1924–2015)
  11. دل اپنا جلایا ہے کسی نے بھی خوشی سےبن جاتی ہے جی پر تو گزر جاتے ہیں جی سےAda Jafri (1924–2015)
  12. کہتے ہیں کہ اب ہم سے خطا کار بہت ہیںاک رسم وفا تھی سو وفادار بہت ہیںAda Jafri (1924–2015)
  13. کیا جانئے کس بات پہ مغرور رہی ہوںکہنے کو تو جس راہ چلایا ہے چلی ہوںAda Jafri (1924–2015)
  14. وہ لمحہ کہ خاموشیٔ شب نغمہ سرا تھیکانوں پہ گراں دل کے دھڑکنے کی صدا تھیAda Jafri (1924–2015)
  15. مانجھی تری کشتی کے طلب گار بہت ہیںکچھ لوگ ہیں اس پار تو اس پار بہت ہیںUmar Quraishi (1924–2010)
  16. وحشت کے سوا کچھ نہ ملا در بدری سےباز آئے محبت کی ہم آشفتہ سری سےUmar Quraishi (1924–2010)
  17. ہے حسن کا اعجاز کہ اعجاز نظر کیاآنکھوں میں ہیں پوشیدہ ترے لعل و گہر کیاRabia Barni (b. 1924)
  18. اس دور کی پلکوں پہ ہیں آنسو کی طرح ہمکچھ دیر میں اڑ جائیں گے خوشبو کی طرح ہمQaisarul Jafri (1926–2005)
  19. ٹوٹے ہوئے خوابوں کی چبھن کم نہیں ہوتیاب رو کے بھی آنکھوں کی جلن کم نہیں ہوتیQaisarul Jafri (1926–2005)
  20. خوابوں کے کسی موڑ پہ دیکھا سا لگے ہےاپنا نہ سہی پھر بھی وہ اپنا سا لگے ہےQaisarul Jafri (1926–2005)
  21. زخموں کے نئے پھول کھلانے کے لئے آپھر موسم گل یاد دلانے کے لئے آKaleem Aajiz (1926–2015)
  22. شانے کا بہت خون جگر جائے ہے پیارےتب زلف کہیں تا بہ کمر جائے ہے پیارےKaleem Aajiz (1926–2015)
  23. قائم ہے سرور مئے گلفام ہماراکیا غم ہے اگر ٹوٹ گیا جام ہماراKaleem Aajiz (1926–2015)
  24. کس طرح کوئی دھوپ میں پگھلے ہے جلے ہےیہ بات وہ کیا جانے جو سائے میں پلے ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
  25. کیا غم ہے اگر شکوۂ غم عام ہے پیارےتو دل کو دکھا تیرا یہی کام ہے پیارےKaleem Aajiz (1926–2015)
  26. میرے ہی لہو پر گزر اوقات کرو ہومجھ سے ہی امیروں کی طرح بات کرو ہوKaleem Aajiz (1926–2015)
  27. ہر چند غم و درد کی قیمت بھی بہت تھیلینا ہی پڑا دل کو ضرورت بھی بہت تھیKaleem Aajiz (1926–2015)
  28. دل تھام کے کروٹ پہ لئے جاؤں ہوں کروٹوہ آگ لگی ہے کہ بجھائے نہ بنے ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
  29. غم ہے تو کوئی لطف نہیں بستر گل پرجی خوش ہے تو کانٹوں پہ بھی آرام بہت ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
  30. کل کہتے رہے ہیں وہی کل کہتے رہیں گےہر دور میں ہم ان پہ غزل کہتے رہیں گےKaleem Aajiz (1926–2015)
  31. مرنا تو بہت سہل سی اک بات لگے ہےجینا ہی محبت میں کرامات لگے ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
  32. تو خود بھی نہیں اور ترا ثانی نہیں ملتاپیغام ترا تیری زبانی نہیں ملتاZafar Hameedi (b. 1926)
  33. اس شام وہ رخصت کا سماں یاد رہے گاوہ شہر وہ کوچہ وہ مکاں یاد رہے گاIbn-e-Insha (1927–1978)
  34. تم میرے لیے اتنے پریشان سے کیوں ہومیں ڈوب بھی جاتا تو کہیں اور ابھرتاMunir Niazi (1928–2006)
  35. اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاںاب شوق کا کچھ اور ہی عالم ہے مری جاںHabib Jalib (1928–1993)
  36. اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارےزندہ ہیں یہی بات بڑی بات ہے پیارےHabib Jalib (1928–1993)
  37. افسوس تمہیں کار کے شیشے کا ہوا ہےپروا نہیں اک ماں کا جو دل ٹوٹ گیا ہےHabib Jalib (1928–1993)
  38. جب کوئی کلی صحن گلستاں میں کھلی ہےشبنم مری آنکھوں میں وہیں تیر گئی ہےHabib Jalib (1928–1993)
  39. ذرے ہی سہی کوہ سے ٹکرا تو گئے ہمدل لے کے سر عرصۂ غم آ تو گئے ہمHabib Jalib (1928–1993)
  40. کچھ لوگ خیالوں سے چلے جائیں تو سوئیںبیتے ہوئے دن رات نہ یاد آئیں تو سوئیںHabib Jalib (1928–1993)
  41. جو ہو نہ سکی بات وہ چہروں سے عیاں تھیحالات کا ماتم تھا ملاقات کہاں تھیHabib Jalib (1928–1993)
  42. زنجیر میں ہیں دیر و حرم کون و مکاں بھیہے عشق ہمیں ان سے نہیں جن کا گماں بھیGhalib Ahmad (b. 1928)
  43. فریاد نہیں اشک نہیں آہ نہیں ہےاے عشق ترا کوئی ہوا خواہ نہیں ہےQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  44. ہیں وقت کے محکوم تو بہکیں گے قدم اوربدلے ہوئے حالات میں کھو جائیں گے ہم اورQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  45. ممکن ہے شب ہجر دعا کا نہ اثر ہوہے رات وہ کیا رات کہ جس کی نہ سحر ہوA G Josh (1928–2007)
  46. ہے زیب گلو کب سے مرے دار کا پھندامجرم ہوں اگر میں تو سزا کیوں نہیں دیتےKaleem Usmani (1928–2000)
  47. یوں باغ کوئی ہم نے اجڑتا نہیں دیکھامدت سے کسی پھول کا چہرہ نہیں دیکھاYashpal Gupta (b. 1928)
  48. محدود ہے یہ وسعت عالم بھی نظر میںگم ہو گیا ہوں ایسا تری راہ گزر میںDaud Nishat (1929–1992)
  49. اپنوں نے اجاڑا ہے چمن جان گئے ہیںپردوں میں چھپا کون ہے پہچان گئے ہیںEhsan Jafri (1929–2002)
  50. تم اچھے مسیحا ہو دوا کیوں نہیں دیتےبے نور جو ہے شمع بجھا کیوں نہیں دیتےEhsan Jafri (1929–2002)