Poetry
Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف- ساقی گیا ہے روٹھ کے ہم سے ہزار حیفآتی ہے کیوں تو دھوم سے اب کے بہار حیفQadr Aurangabadi (b. 1785)
- جس دن تم آ کے ہم سے ہم آغوش ہو گئےشکوے جو دل میں تھے سو فراموش ہو گئےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- جو کچھ کہ تھا وظائف و اوراد رہ گیاتیرا ہی ایک نام فقط یاد رہ گیاMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- دیکھ اس پری سے کیجئے کیا اب تو جا لگیچھوٹی ہی کوئی بات ہے پھر یہ بلا لگیMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- شبنم تو باغ میں ہے نہ یوں چشم تر کہ ہمغنچہ بھی اس قدر ہے نہ خونی جگر کہ ہمMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- مقدور کیا مجھے کہ کہوں واں کہ یاں رہےہیں چشم و دل گھر اس کے جہاں چاہے واں رہےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- اس سنگ آستاں پہ جبین نیاز ہےوہ اپنی جانماز ہے اور یہ نماز ہےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- اک صدمہ درد دل سے مری جان پر تو ہےلیکن بلا سے یار کے زانو پہ سر تو ہےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- بادام دو جو بھیجے ہیں بٹوے میں ڈال کرایماں یہ ہے کہ بھیج دے آنکھیں نکال کرSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- کب حق پرست زاہد جنت پرست ہےحوروں پہ مر رہا ہے یہ شہوت پرست ہےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- کیا آئے تم جو آئے گھڑی دو گھڑی کے بعدسینے میں ہوگی سانس اڑی دو گھڑی کے بعدSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- لائی حیات آئے قضا لے چلی چلےاپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- محفل میں شور قلقل مینائے مل ہوالا ساقیا پیالہ کہ توبہ کا قل ہواSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کاچشمک ہے برق کی کہ تبسم شرار کاSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- دنیا سے ذوقؔ رشتۂ الفت کو توڑ دےجس سر کا ہے یہ بال اسی سر میں جوڑ دےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- ناصح نصیحتیں یہ کہاں یاد رہتی ہیںحضرت ابھی کسی سے طبیعت لگی نہیںLala Kanji Mal Saba (b. 1792)
- بگڑے وہ لاکھ طرح مگر گل نہ ہو سکامیں اپنے صدقے یاں بھی تامل نہ ہو سکاNaseem Dehlvi (1794–1864)
- سن لے یہ التماس مرا دوستانہ ہےہشیار ہو کہ تیر اجل کا نشانہ ہےNaseem Dehlvi (1794–1864)
- قربان ہو رہی ہے مری جاں ادھر ادھرواں رہ پہ ہے جو زلف پریشاں ادھر ادھرNaseem Dehlvi (1794–1864)
- یارو قسم ہے تم کو کہیں جستجو کروقاتل مرے کو مجھ سے ذرا روبرو کروDaulat Aasiri (b. 1795)
- دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا"عشقِ نبرد پیشہ" طلبگارِ مرد تھاMirza Ghalib (1797–1869)
- محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کایاں ورنہ جو حجاب ہے، پردہ ہے ساز کاMirza Ghalib (1797–1869)
- یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کایاں جادہ بھی فتیلہ ہے لالے کے داغ کاMirza Ghalib (1797–1869)
- عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہاجس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہاMirza Ghalib (1797–1869)
- گلشن میں بندوبست بہ رنگِ دگر ہے آجقمری کا طوق حلقۂ بیرونِ در ہے آجMirza Ghalib (1797–1869)
- لو ہم مریضِ عشق کے بیماردار ہیںاچھاّ اگر نہ ہو تو مسیحا کا کیا علاج!!Mirza Ghalib (1797–1869)
- تجھ سے مقابلے کی کسے تاب ہے ولےمیرا لہو بھی خوب ہے تیری حنا کے بعدMirza Ghalib (1797–1869)
- گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیرجانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر؟Mirza Ghalib (1797–1869)
- کیوں جل گیا نہ، تابِ رخِ یار دیکھ کرجلتا ہوں اپنی طاقتِ دیدار دیکھ کرMirza Ghalib (1797–1869)
- نامہ بھی لکھتے ہو تو بہ خطِ غبار حیفرکھتے ہو مجھ سے اتنی کدورت ہزار حیفMirza Ghalib (1797–1869)
- مجھ کو دیارِ غیر میں مارا، وطن سے دوررکھ لی مرے خدا نے مری بےکسی کی شرمMirza Ghalib (1797–1869)
- ہم پر جفا سے ترک وفا کا گماں نہیںاک چھیڑ ہے وگرنہ مراد امتحاں نہیںMirza Ghalib (1797–1869)
- ملتی ہے خُوئے یار سے نار التہاب میںکافر ہوں گر نہ ملتی ہو راحت عزاب میںMirza Ghalib (1797–1869)
- کل کے لئے کر آج نہ خسّت شراب میںیہ سُوء ظن ہے ساقئ کوثر کے باب میںMirza Ghalib (1797–1869)
- حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیںمقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو مَیںMirza Ghalib (1797–1869)
- دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہایاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریںMirza Ghalib (1797–1869)
- دائم پڑا ہُوا ترے در پر نہیں ہُوں میںخاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہُوں میںMirza Ghalib (1797–1869)
- ممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوںمیں دشتِ غم میں آہوۓ صیّاد دیدہ ہوںMirza Ghalib (1797–1869)
- آئی اگر بلا تو جگہ سے ٹلے نہیںایراہی دے کے ہم نے بچایا ہے کِشت کوMirza Ghalib (1797–1869)
- وارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہوکیجے ہمارے ساتھ، عداوت ہی کیوں نہ ہوMirza Ghalib (1797–1869)
- تم جانو، تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہومجھ کو بھی پوچھتے رہو تو کیا گناہ ہوMirza Ghalib (1797–1869)
- بھولے سے کاش وہ ادھر آئیں تو شام ہوکیا لطف ہو جو ابلقِ دوراں بھی رام ہوMirza Ghalib (1797–1869)
- از مہر تا بہ ذرّہ دل و دل ہے آئینہطوطی کو" شش جہت" سے مقابل ہے آئینہMirza Ghalib (1797–1869)
- صد جلوہ رو بہ رو ہے جو مژگاں اٹھائیےطاقت کہاں کہ دید کا احساں اٹھائیےMirza Ghalib (1797–1869)
- مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیےبھَوں پاس آنکھ قبلۂ حاجات چاہیےMirza Ghalib (1797–1869)
- کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہےجس میں کہ ایک بیضۂ مور آسمان ہےMirza Ghalib (1797–1869)
- اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیےبیٹھا رہا اگرچہ اشارے ہوا کیےMirza Ghalib (1797–1869)
- دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئیدونوں کو اک ادا میں رضامند کر گئیMirza Ghalib (1797–1869)
- تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوقِ نظر ملےحورانِ خلد میں تری صورت مگر ملےMirza Ghalib (1797–1869)
- بے اعتدالیوں سے سبُک سب میں ہم ہوئےجتنے زیادہ ہو گئے اتنے ہی کم ہوئےMirza Ghalib (1797–1869)