Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf

مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. روشن ہمارا دل ہے محمد کے نور سےلائے ہیں اس چراغ کو ہم کوہ طور سےBekhud Dehlvi (1863–1955)
  2. عاشق سمجھ رہے ہیں مجھے دل لگی سے آپواقف نہیں ابھی مرے دل کی لگی سے آپBekhud Dehlvi (1863–1955)
  3. کب تک کریں گے جبر دل ناصبور پرموسیٰ تو جا کے بیٹھ رہے کوہ طور پرBekhud Dehlvi (1863–1955)
  4. کیوں کہہ کے دل کا حال اسے بد گماں کروںیہ راز وہ نہیں ہے جسے میں بیاں کروںBekhud Dehlvi (1863–1955)
  5. منہ پھیر کر وہ کہتے ہیں بس مان جائیےاس شرم اس لحاظ کے قربان جائیےBekhud Dehlvi (1863–1955)
  6. مجھ کو نہ دل پسند نہ وہ بے وفا پسنددونوں ہیں خود غرض مجھے دونوں ہیں نا پسندBekhud Dehlvi (1863–1955)
  7. دل سوختہ کو اپنے جلایا غضب کیانیرنگ تم نے کیا یہ دکھایا غضب کیاPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  8. قالب کو اپنے چھوڑ کے مقلوب ہو گئےکیا اور کوئی قلب ہے اس انقلاب میںPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  9. نیرنگ عشق آج تو ہو جائے کچھ مددپر فن کو ہم کریں متحیر کسی طرحPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  10. تا چند اس کے جور کے صدمے اٹھائے دلپتھر نہیں ہے سینے میں جو تاب لائے دلMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  11. خم دار اور گیسوئے خم دار ہو گیاابروئے یار کا یہ طرف دار ہو گیاMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  12. محفل میں تیرے کون تھا جو شادماں نہ تھاسب تھے شریک بزم مگر میں وہاں نہ تھاMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  13. ہٹ دھرمی کی کہوں کہ میں ایمان کی کہوںاپنا کروں بیاں کہ تری شان کی کہوںMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  14. اس بات کا ملال نہیں ہے کہ دل گیامیں اس کو دیکھتا ہوں جو بدلے میں مل گیاMuztar Khairabadi (1865–1927)
  15. دل دادگان حسن سے پردا نہ چاہئےدل لے کے چھپ گئے تمہیں ایسا نہ چاہئےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  16. دل کا معاملہ جو سپرد نظر ہوادشوار سے یہ مرحلہ دشوار تر ہواMuztar Khairabadi (1865–1927)
  17. اب کون پھر کے جائے تری جلوہ گاہ سےاو شوخ چشم پھونک دے برق نگاہ سےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  18. اٹھا ہے ابر جوش کا عالم لیے ہوئےبیٹھا ہوں میں بھی دیدۂ پر نم لیے ہوئےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  19. چل کر نہ زلف یار کو تو اے صبا بگاڑاندھیر ہوگا اس سے اگر ہو گیا بگاڑJaleel Manikpuri (1866–1946)
  20. دیکھا جو حسن یار طبیعت مچل گئیآنکھوں کا تھا قصور چھری دل پہ چل گئیJaleel Manikpuri (1866–1946)
  21. راحت نہ مل سکی مجھے مے خانہ چھوڑ کرگردش میں ہوں میں گردش پیمانہ چھوڑ کرJaleel Manikpuri (1866–1946)
  22. رنگت یہ رخ کی اور یہ عالم نقاب کادامن میں کوئی پھول لیے ہے گلاب کاJaleel Manikpuri (1866–1946)
  23. ظالم بتوں سے آنکھ لگائی نہ جائے گیپتھر کی چوٹ دل سے اٹھائی نہ جائے گیJaleel Manikpuri (1866–1946)
  24. عصمت کا ہے لحاظ نہ پروا حیا کی ہےیہ سن غضب کا ہے یہ جوانی بلا کی ہےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  25. کیا جلد دن بہار کے یارب گزر گئےبجلی ہوا سے پوچھ رہی ہے کدھر گئےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  26. موجود تھے ابھی ابھی روپوش ہو گئےاے مست ناز تم تو مرے ہوش ہو گئےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  27. ہم تو قصوروار ہوئے آنکھ ڈال کےپوچھو کہ نکلے کیوں تھے وہ جوبن نکال کےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  28. دل کھو گیا ہمارا کسی سے ملا کے ہاتھہو دسترس تو کاٹیے دزد حنا کے ہاتھBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  29. قسمت برے کسی کے نہ اس طرح لائے دنآفت نئی ہے روز مصیبت ہے آئے دنBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  30. اردو ہے جس کا نام ہماری زبان ہےدنیا کی ہر زبان سے پیاری زبان ہےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  31. بازی پہ دل لگا ہے کوئی دل لگی نہیںیہ بھی ہے کوئی بات کبھی ہاں کبھی نہیںParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  32. پہلو و پشت و سینہ و رخسار آئنہہے رزم گاہ حسن کا یہ چار آئنہParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  33. پھیلا ہوا ہے باغ میں ہر سمت نور صبحبلبل کے چہچہوں سے ہے ظاہر سرور صبحParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  34. جس طرح دو جہاں میں خدا کا نہیں شریکتیرے جمال میں نہیں کوئی حسیں شریکParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  35. جو دل مرا نہیں مجھے اس دل سے کیا غرضچلنی نہ ہو جو راہ تو منزل سے کیا غرضParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  36. میرے لیے ہزار کرے اہتمام حرصمیں وہ ہوں مجھ پہ ڈال سکے گی نہ دام حرصParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  37. ہے اپنے قتل کی دل مضطر کو اطلاعگردن کو اطلاع نہ خنجر کو اطلاعParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  38. کچھ تو کمی ہو روز جزا کے عذاب میںاب سے پیا کریں گے ملا کر گلاب میںParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  39. گر آپ پہلے رشتۂ الفت نہ توڑتےمر مٹ کے ہم بھی خیر نبھاتے کسی طرحParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  40. مخلوق کو تمہاری محبت میں اے بتوایمان کا خیال نہ اسلام کا لحاظParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  41. دل اس لئے ہے دوست کہ دل میں ہے جائے دوستجب یہ نہ ہو بغل میں ہے دشمن بجائے دوستHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  42. دل پر لگا رہی ہے وہ نیچی نگاہ چوٹپھر چوٹ بھی وہ چوٹ جو ہے بے پناہ چوٹHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  43. دنیا میں یوں تو ہر کوئی اپنی سی کر گیازندہ ہے اس کا نام کسی پر جو مر گیاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  44. قاصد خلاف خط کہیں تیرا بیاں نہ ہوکرنا سنبھل کے بات کہ وہ بد گماں نہ ہوHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  45. زاہد شراب ناب ہو یا بادۂ طہورپینے ہی پر جب آئے حرام و حلال کیاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  46. سچ ہے اس ایک پردے میں چھپتے ہیں لاکھ عیبیعنی جناب شیخ کی داڑھی دراز ہےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  47. یاد آئیں اس کو دیکھ کے اپنی مصیبتیںروئے ہم آج خوب لپٹ کر رقیب سےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  48. سیاحت ظریفZarif Lakhnavi (1870–1937)
  49. پانی میں آگ دھیان سے تیرے بھڑک گئیآنسو میں کوندتی ہوئی بجلی جھلک گئیArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  50. چو کی لفظی تحقیقZafar Ali Khan (1873–1956)