Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf
مجتث مثمن مخبون محذوف- جپے ہے ورد سا تجھ سے صنم کے نام کو شیخنماز توڑ اٹھے تیرے رام رام کو شیخWali Uzlat (1692–1775)
- خدا کسی کوں کسی ساتھ آشنا نہ کرےوگرنہ یار کوں عاشق سوں بے وفا نہ کرےWali Uzlat (1692–1775)
- مرے نزع کو مت اس سے کہو ہوا سو ہواکہ دل دہندہ جیو یا مرو ہوا سو ہواWali Uzlat (1692–1775)
- تمہارے عشق میں ہم ننگ و نام بھول گئےجہاں میں کام تھے جتنے تمام بھول گئےShah Hatim (1699–1783)
- نہ محتسب سے یہ مجھ کو غرض نہ مست سے کاممجھے تو لینا ہے ساقی کے آج دست سے کامShah Hatim (1699–1783)
- تری نگاہ تلطف نے فیض عام کیاخرد کے شہر کے سب وحشیوں کوں رام کیاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- جو کچھ کہ تم سیں مجھے بولنا تھا بول چکابیان عشق کے طومار کوں میں کھول چکاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- صنم ہزار ہوا تو وہی صنم کا صنمکہ اصل ہستی نابود ہے عدم کا عدمSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- جو گزری مجھ پہ مت اس سے کہو ہوا سو ہوابلا کشان محبت پہ جو ہوا سو ہواMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- جیا بہ کام کب اس بخت ارجمند سے میںپھنسا قفس میں جو چھوٹا چمن کے بند سے میںQaem Chandpuri (1722–1793)
- ستم سے گو یہ ترے کشتۂ وفا نہ رہارہے جہان میں تو دیر میں رہا نہ رہاMir Taqi Mir (1723–1810)
- موہ میں سجدے میں پر نقش میرا بار رہااس آستاں پہ مری خاک سے غبار رہاMir Taqi Mir (1723–1810)
- نہ پوچھ خواب زلیخا نے کیا خیال لیاکہ کارواں کا کنعاں کے جی نکال لیاMir Taqi Mir (1723–1810)
- ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیادل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیاMir Taqi Mir (1723–1810)
- یہ ترک ہو کے خشن کج اگر کلاہ کریںتو بوالہوس نہ کبھو چشم کو سیاہ کریںMir Taqi Mir (1723–1810)
- ہوا ہے اہل مساجد پہ کام از بس تنگنہ شب کو جاگتے رہنے کا اضطراب کروMir Taqi Mir (1723–1810)
- نسیم غم سے ہے آتش بجاں امام حسیندم ایک اور ہے اب میہماں امام حسینMir Taqi Mir (1723–1810)
- کہیں جو دل نہ لگاویں تو پھر اداس پھریںوگر لگاویں تو مشکل کہ بے حواس پھریںMir Hasan (1727–1786)
- جب اس کی زلف کے حلقے میں ہم اسیر ہوئےشکن کے عادی ہوئے خم کے خو پذیر ہوئےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- جدا کسی سے کسی کا غرض حبیب نہ ہویہ داغ وہ ہے کہ دشمن کو بھی نصیب نہ ہوNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- جو کچھ ہے حسن میں ہر مہ لقا کو عیش و طربوہی ہے عشق میں ہر مبتلا کو عیش و طربNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- جھمک دکھاتے ہی اس دل ربا نے لوٹ لیاہمیں تو پہلے ہی اس کی ادا نے لوٹ لیاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- خیال یار سدا چشم نم کے ساتھ رہامرا جو چاہ میں دم تھا وہ دم کے ساتھ رہاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- کل اس کے چہرے کو ہم نے جو آفتاب لکھاتو اس نے پڑھ کے وہ نامہ بہت عتاب لکھاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- گلے سے دل کے رہی یوں ہے زلف یار لپٹکہ جوں سپیرے کی گردن میں جائے مار لپٹNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- نگہ کے سامنے اس کا جوں ہی جمال ہواوہ دل ہی جانے ہے اس دم جو دل کا حال ہواNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- نہ ٹوکو دوستو اس کی بہار نام خدایہی اب ایک ہے یاں گلعذار نام خداNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- نہ دل میں صبر نہ اب دیدۂ پر آب میں خوابشتاب آ کہ ہمیں آوے اس عذاب میں خوابNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- ہم اشک غم ہیں اگر تھم رہے رہے نہ رہےمژہ پہ آن کے ٹک جم رہے رہے نہ رہےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- ہے اب تو وہ ہمیں اس سرو سیم بر کی طلبکہ طائران ہوا سے ہے بال و پر کی طلبNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- تمہاری اور مری کج ادائیاں ہی رہیںرہے جو پاس تو باہم لڑائیاں ہی رہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- وہ آرزو نہ رہی اور وہ مدعا نہ رہاہمارے آپ کے ہرگز وہ ماجرا نہ رہاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کھڑا نہ سن کے صدا میری ایک یار رہامیں رہروان عدم کو بہت پکار رہاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- تفضلات نہیں لطف کی نگاہ نہیںمعاملہ ابھی مطلق وہ رو بہ راہ نہیںInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- دل ستم زدہ بیتابیوں نے لوٹ لیاہمارے قبلہ کو وہابیوں نے لوٹ لیاInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- جدا نہیں ہے ہر اک موج دیکھ آب کے بیچحباب بحر میں ہے بحر ہے حباب کے بیچShah Naseer (1756–1838)
- خدا کے واسطے چہرے سے ٹک نقاب اٹھایہ درمیان سے اب پردۂ حجاب اٹھاShah Naseer (1756–1838)
- شمیم زلف معنبر جو روئے یار سے لوںتو پھر خطا ہے مری مشک گر تتار سے لوںShah Naseer (1756–1838)
- بہار چشم ترے حسن کی بہار سے لوںشمیم لوں تو تری زلف مشکبار سے لوںChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
- بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوںسنے ہے کون مصیبت کہوں تو کس سے کہوںBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- جگر کے ٹکڑے ہوئے جل کے دل کباب ہوایہ عشق جان کو میرے کوئی عذاب ہواBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- نباہ بات کا اس حیلہ گر سے کچھ نہ ہواادھر سے کیا نہ ہوا پر ادھر سے کچھ نہ ہواBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- ہوا میں پھرتے ہو کیا حرص اور ہوا کے لیےغرور چھوڑ دو اے غافلو خدا کے لیےBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- یہ قصہ وہ نہیں تم جس کو قصہ خواں سے سنومرے فسانۂ غم کو مری زباں سے سنوBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- بلائے جاں مجھے ہر ایک خوش جمال ہواچھری جو تیز ہوئی پہلے میں حلال ہواHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- وہ نازنیں یہ نزاکت میں کچھ یگانہ ہواجو پہنی پھولوں کی بدھی تو درد شانہ ہواHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- گر ایک رات گزر یاں وہ رشک ماہ کرےعجب نہیں کہ گدا پر کرم جو شاہ کرےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جداہے اپنا اپنا مقدر جدا نصیب جداSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- کوئی کمر کو تری کچھ جو ہو کمر تو کہےکہ آدمی جو کہے بات سوچ کر تو کہےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- کہاں تلک کہوں ساقی کہ لا شراب تو دےنہ دے شراب ڈبو کر کوئی کباب تو دےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)