Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf

مجتث مثمن مخبون محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. جپے ہے ورد سا تجھ سے صنم کے نام کو شیخنماز توڑ اٹھے تیرے رام رام کو شیخWali Uzlat (1692–1775)
  2. خدا کسی کوں کسی ساتھ آشنا نہ کرےوگرنہ یار کوں عاشق سوں بے وفا نہ کرےWali Uzlat (1692–1775)
  3. مرے نزع کو مت اس سے کہو ہوا سو ہواکہ دل دہندہ جیو یا مرو ہوا سو ہواWali Uzlat (1692–1775)
  4. تمہارے عشق میں ہم ننگ و نام بھول گئےجہاں میں کام تھے جتنے تمام بھول گئےShah Hatim (1699–1783)
  5. نہ محتسب سے یہ مجھ کو غرض نہ مست سے کاممجھے تو لینا ہے ساقی کے آج دست سے کامShah Hatim (1699–1783)
  6. تری نگاہ تلطف نے فیض عام کیاخرد کے شہر کے سب وحشیوں کوں رام کیاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
  7. جو کچھ کہ تم سیں مجھے بولنا تھا بول چکابیان عشق کے طومار کوں میں کھول چکاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
  8. صنم ہزار ہوا تو وہی صنم کا صنمکہ اصل ہستی نابود ہے عدم کا عدمSiraj Aurangabadi (1712–1764)
  9. جو گزری مجھ پہ مت اس سے کہو ہوا سو ہوابلا کشان محبت پہ جو ہوا سو ہواMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  10. جیا بہ کام کب اس بخت ارجمند سے میںپھنسا قفس میں جو چھوٹا چمن کے بند سے میںQaem Chandpuri (1722–1793)
  11. ستم سے گو یہ ترے کشتۂ وفا نہ رہارہے جہان میں تو دیر میں رہا نہ رہاMir Taqi Mir (1723–1810)
  12. موہ میں سجدے میں پر نقش میرا بار رہااس آستاں پہ مری خاک سے غبار رہاMir Taqi Mir (1723–1810)
  13. نہ پوچھ خواب زلیخا نے کیا خیال لیاکہ کارواں کا کنعاں کے جی نکال لیاMir Taqi Mir (1723–1810)
  14. ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیادل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیاMir Taqi Mir (1723–1810)
  15. یہ ترک ہو کے خشن کج اگر کلاہ کریںتو بوالہوس نہ کبھو چشم کو سیاہ کریںMir Taqi Mir (1723–1810)
  16. ہوا ہے اہل مساجد پہ کام از بس تنگنہ شب کو جاگتے رہنے کا اضطراب کروMir Taqi Mir (1723–1810)
  17. نسیم غم سے ہے آتش بجاں امام حسیندم ایک اور ہے اب میہماں امام حسینMir Taqi Mir (1723–1810)
  18. کہیں جو دل نہ لگاویں تو پھر اداس پھریںوگر لگاویں تو مشکل کہ بے حواس پھریںMir Hasan (1727–1786)
  19. جب اس کی زلف کے حلقے میں ہم اسیر ہوئےشکن کے عادی ہوئے خم کے خو پذیر ہوئےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  20. جدا کسی سے کسی کا غرض حبیب نہ ہویہ داغ وہ ہے کہ دشمن کو بھی نصیب نہ ہوNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  21. جو کچھ ہے حسن میں ہر مہ لقا کو عیش و طربوہی ہے عشق میں ہر مبتلا کو عیش و طربNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  22. جھمک دکھاتے ہی اس دل ربا نے لوٹ لیاہمیں تو پہلے ہی اس کی ادا نے لوٹ لیاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  23. خیال یار سدا چشم نم کے ساتھ رہامرا جو چاہ میں دم تھا وہ دم کے ساتھ رہاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  24. کل اس کے چہرے کو ہم نے جو آفتاب لکھاتو اس نے پڑھ کے وہ نامہ بہت عتاب لکھاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  25. گلے سے دل کے رہی یوں ہے زلف یار لپٹکہ جوں سپیرے کی گردن میں جائے مار لپٹNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  26. نگہ کے سامنے اس کا جوں ہی جمال ہواوہ دل ہی جانے ہے اس دم جو دل کا حال ہواNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  27. نہ ٹوکو دوستو اس کی بہار نام خدایہی اب ایک ہے یاں گلعذار نام خداNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  28. نہ دل میں صبر نہ اب دیدۂ پر آب میں خوابشتاب آ کہ ہمیں آوے اس عذاب میں خوابNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  29. ہم اشک غم ہیں اگر تھم رہے رہے نہ رہےمژہ پہ آن کے ٹک جم رہے رہے نہ رہےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  30. ہے اب تو وہ ہمیں اس سرو سیم بر کی طلبکہ طائران ہوا سے ہے بال و پر کی طلبNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  31. تمہاری اور مری کج ادائیاں ہی رہیںرہے جو پاس تو باہم لڑائیاں ہی رہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  32. وہ آرزو نہ رہی اور وہ مدعا نہ رہاہمارے آپ کے ہرگز وہ ماجرا نہ رہاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  33. کھڑا نہ سن کے صدا میری ایک یار رہامیں رہروان عدم کو بہت پکار رہاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  34. تفضلات نہیں لطف کی نگاہ نہیںمعاملہ ابھی مطلق وہ رو بہ راہ نہیںInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  35. دل ستم زدہ بیتابیوں نے لوٹ لیاہمارے قبلہ کو وہابیوں نے لوٹ لیاInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  36. جدا نہیں ہے ہر اک موج دیکھ آب کے بیچحباب بحر میں ہے بحر ہے حباب کے بیچShah Naseer (1756–1838)
  37. خدا کے واسطے چہرے سے ٹک نقاب اٹھایہ درمیان سے اب پردۂ حجاب اٹھاShah Naseer (1756–1838)
  38. شمیم زلف معنبر جو روئے یار سے لوںتو پھر خطا ہے مری مشک گر تتار سے لوںShah Naseer (1756–1838)
  39. بہار چشم ترے حسن کی بہار سے لوںشمیم لوں تو تری زلف مشکبار سے لوںChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
  40. بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوںسنے ہے کون مصیبت کہوں تو کس سے کہوںBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  41. جگر کے ٹکڑے ہوئے جل کے دل کباب ہوایہ عشق جان کو میرے کوئی عذاب ہواBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  42. نباہ بات کا اس حیلہ گر سے کچھ نہ ہواادھر سے کیا نہ ہوا پر ادھر سے کچھ نہ ہواBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  43. ہوا میں پھرتے ہو کیا حرص اور ہوا کے لیےغرور چھوڑ دو اے غافلو خدا کے لیےBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  44. یہ قصہ وہ نہیں تم جس کو قصہ خواں سے سنومرے فسانۂ غم کو مری زباں سے سنوBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  45. بلائے جاں مجھے ہر ایک خوش جمال ہواچھری جو تیز ہوئی پہلے میں حلال ہواHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  46. وہ نازنیں یہ نزاکت میں کچھ یگانہ ہواجو پہنی پھولوں کی بدھی تو درد شانہ ہواHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  47. گر ایک رات گزر یاں وہ رشک ماہ کرےعجب نہیں کہ گدا پر کرم جو شاہ کرےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
  48. جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جداہے اپنا اپنا مقدر جدا نصیب جداSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  49. کوئی کمر کو تری کچھ جو ہو کمر تو کہےکہ آدمی جو کہے بات سوچ کر تو کہےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  50. کہاں تلک کہوں ساقی کہ لا شراب تو دےنہ دے شراب ڈبو کر کوئی کباب تو دےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)