Poetry
Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع- گر مرے دل کو چرایا نہیں تو نے ظالمکھول دے بند ہتھیلی کو دکھا ہاتھوں کوMah Laqa Chanda (1768–1824)
- ہجر کے ہاتھ سے اب خاک پڑے جینے میںدرد اک اور اٹھا آہ نیا سینے میںBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- آشنا گوش سے اس گل کے سخن ہے کس کاکچھ زباں سے کہے کوئی یہ دہن ہے کس کاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- قصۂ سلسلۂ زلف نہ کہنا بہترپیچ در پیچ ہے خاموش ہی رہنا بہترHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- کام ہمت سے جواں مرد اگر لیتا ہےسانپ کو مار کے گنجینۂ زر لیتا ہےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- کون سے دل میں محبت نہیں جانی تیریجس کو سنتا ہوں وہ کہتا ہے کہانی تیریHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- تم کو کہتے ہیں کہ عاشق کی فغاں سنتے ہویہ تو کہنے ہی کی باتیں ہیں کہاں سنتے ہوMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- تیرے کوچہ سے نہ یہ شیفتگاں جاتے ہیںجھوٹ کہتے ہیں کہ جاتے ہیں کہاں جاتے ہیںMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- جو ہوئی سو ہوئی جانے دو ملو بسم اللہجام مے ہاتھ سے لو میرے پیو بسم اللہMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- چمن لالہ یہ الفت تری دکھلاتی ہےسینکڑوں داغ ہیں اور ایک مری چھاتی ہےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- حسن سرشار ترا داروۓ بے ہوشی ہےہوش میں کون ہے کس کو سر مے نوشی ہےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- دل سے پوچھا تو کہاں ہے تو کہا تجھ کو کیاکس کی زلفوں میں نہاں ہے تو کہا تجھ کو کیاMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- ہم تری خاطر نازک سے خطر کرتے ہیںورنہ نالے تو یہ پتھر میں اثر کرتے ہیںMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- گر بڑے مرد ہو تو غیر کو یاں جا دیجےاس کو کہہ دیکھیے کچھ یا مجھے اٹھوا دیجےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- واں حنا بندی تھی اور زلف کو سلجھانا تھایاں پریشانی تھی اور خون جگر کھانا تھاLala Mauji Ram Mauji (b. 1789)
- تیرے آفت زدہ جن دشتوں میں اڑ جاتے ہیںصبر و طاقت کے وہاں پاؤں اکھڑ جاتے ہیںSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہےکون پھرتا ہے یہ مردار لیے پھرتی ہےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- قصد جب تیری زیارت کا کبھو کرتے ہیںچشم پر آب سے آئینے وضو کرتے ہیںSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- کیا غرض لاکھ خدائی میں ہوں دولت والےان کا بندہ ہوں جو بندے ہیں محبت والےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- مار کر تیر جو وہ دلبر جانی مانگےکہہ دو ہم سے نہ کوئی دے کے نشانی مانگےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- نالہ اس شور سے کیوں میرا دہائی دیتااے فلک گر تجھے اونچا نہ سنائی دیتاSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- نیمچہ یار نے جس وقت بغل میں ماراجو چڑھا منہ اسے میدان اجل میں ماراSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- یہ اقامت ہمیں پیغام سفر دیتی ہےزندگی موت کے آنے کی خبر دیتی ہےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- تو بھلا ہے تو برا ہو نہیں سکتا اے ذوقؔہے برا وہ ہی کہ جو تجھ کو برا جانتا ہےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- جن کو اس وقت میں اسلام کا دعویٰ ہے کمالغور سے دیکھو تو اے ذوقؔ ہے ان کا یہ حالSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- فصل گل آئی ہے کل اور ہی ساماں ہوں گےمیرے دامن میں ترے دست و گریباں ہوں گےNaseem Dehlvi (1794–1864)
- وصل کی رات ہے آخر کبھی عریاں ہوں گےمیں پشیماں ہوں تو کیا وہ نہ پشیماں ہوں گےNaseem Dehlvi (1794–1864)
- بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہوناآدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہوناMirza Ghalib (1797–1869)
- گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتابحر گر بحر نہ ہوتا تو بیاباں ہوتاMirza Ghalib (1797–1869)
- خلوتِ آبلۂ پا میں ہے جولاں میراخوں ہے دل تنگیٔ وحشت سے بیاباں میراMirza Ghalib (1797–1869)
- عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانادرد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جاناMirza Ghalib (1797–1869)
- آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تککون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تکMirza Ghalib (1797–1869)
- کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیںہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیںMirza Ghalib (1797–1869)
- واں پہنچ کر جو غش آتا پئے ہم ہے ہم کوصد رہ آہنگِ زمیں بوسِ قدم ہے ہم کوMirza Ghalib (1797–1869)
- گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتاوہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرتِ تعمیر، سو ہےMirza Ghalib (1797–1869)
- زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھےMirza Ghalib (1797–1869)
- اگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ غالبؔہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہےMirza Ghalib (1797–1869)
- حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچّھا ہےاس سے میرا مہِ خورشید جمال اچّھا ہےMirza Ghalib (1797–1869)
- شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہےیہ بھی مت کہہ کہ جو کہیے تو گِلا ہوتا ہےMirza Ghalib (1797–1869)
- لطفِ نظّارۂ قاتِل دمِ بسمل آئےجان جائے تو بلا سے پہ کہیں دِل آئےMirza Ghalib (1797–1869)
- آفت آہنگ ہے کچھ نالۂ بلبل ورنہپھول ہنس ہنس کے گلستاں میں فنا ہو جاتاMirza Ghalib (1797–1869)
- اور تو رکھنے کو ہم دہر میں کیا رکھتے تھےمگر ایک شعر میں اندازِ رسا رکھتے تھےMirza Ghalib (1797–1869)
- بس کہ مے پیتے ہیں اربابِ فنا پوشیدہخطِ پیمانۂ مے ہے نفسِ دزدیدہMirza Ghalib (1797–1869)
- چرخ تک دھوم ہے کس دھوم سے آیا سہراچاند کا دائرہ لے زہرہ نے گایا سہراMirza Ghalib (1797–1869)
- حسرتِ دست گہ و پائے تحمل تا چندرگِ گردن خطِ پیمانۂ بے مُل تا چندMirza Ghalib (1797–1869)
- خوابِ غفلت بہ کمیں گاہِ نظر پنہاں ہےشام سائے میں بہ تاراجِ سحر پنہاں ہےMirza Ghalib (1797–1869)
- خوش ہو اے بخت کہ ہے آج ترے سر سہراباندھ شہزادہ جواں بخت کے سر پر سہراMirza Ghalib (1797–1869)
- سیر آں سوئے تماشا ہے طلب گاروں کاخضر مشتاق ہے اس دشت کے آواروں کاMirza Ghalib (1797–1869)
- شبِ اختر قدحِ عیش نے محمل باندھاباریک قافلۂ آبلہ منزل باندھاMirza Ghalib (1797–1869)
- شب کہ دل زخمی عرضِ دو جہاں تیر آیانالہ بر خود غلطِ شوخیٔ تاثیر آیاMirza Ghalib (1797–1869)