Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'

رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
Poet
Meter
Clear
  1. گر مرے دل کو چرایا نہیں تو نے ظالمکھول دے بند ہتھیلی کو دکھا ہاتھوں کوMah Laqa Chanda (1768–1824)
  2. ہجر کے ہاتھ سے اب خاک پڑے جینے میںدرد اک اور اٹھا آہ نیا سینے میںBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  3. آشنا گوش سے اس گل کے سخن ہے کس کاکچھ زباں سے کہے کوئی یہ دہن ہے کس کاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  4. قصۂ سلسلۂ زلف نہ کہنا بہترپیچ در پیچ ہے خاموش ہی رہنا بہترHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  5. کام ہمت سے جواں مرد اگر لیتا ہےسانپ کو مار کے گنجینۂ زر لیتا ہےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  6. کون سے دل میں محبت نہیں جانی تیریجس کو سنتا ہوں وہ کہتا ہے کہانی تیریHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  7. تم کو کہتے ہیں کہ عاشق کی فغاں سنتے ہویہ تو کہنے ہی کی باتیں ہیں کہاں سنتے ہوMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
  8. تیرے کوچہ سے نہ یہ شیفتگاں جاتے ہیںجھوٹ کہتے ہیں کہ جاتے ہیں کہاں جاتے ہیںMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
  9. جو ہوئی سو ہوئی جانے دو ملو بسم اللہجام مے ہاتھ سے لو میرے پیو بسم اللہMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
  10. چمن لالہ یہ الفت تری دکھلاتی ہےسینکڑوں داغ ہیں اور ایک مری چھاتی ہےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
  11. حسن سرشار ترا داروۓ بے ہوشی ہےہوش میں کون ہے کس کو سر مے نوشی ہےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
  12. دل سے پوچھا تو کہاں ہے تو کہا تجھ کو کیاکس کی زلفوں میں نہاں ہے تو کہا تجھ کو کیاMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
  13. ہم تری خاطر نازک سے خطر کرتے ہیںورنہ نالے تو یہ پتھر میں اثر کرتے ہیںMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
  14. گر بڑے مرد ہو تو غیر کو یاں جا دیجےاس کو کہہ دیکھیے کچھ یا مجھے اٹھوا دیجےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
  15. واں حنا بندی تھی اور زلف کو سلجھانا تھایاں پریشانی تھی اور خون جگر کھانا تھاLala Mauji Ram Mauji (b. 1789)
  16. تیرے آفت زدہ جن دشتوں میں اڑ جاتے ہیںصبر و طاقت کے وہاں پاؤں اکھڑ جاتے ہیںSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  17. سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہےکون پھرتا ہے یہ مردار لیے پھرتی ہےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  18. قصد جب تیری زیارت کا کبھو کرتے ہیںچشم پر آب سے آئینے وضو کرتے ہیںSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  19. کیا غرض لاکھ خدائی میں ہوں دولت والےان کا بندہ ہوں جو بندے ہیں محبت والےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  20. مار کر تیر جو وہ دلبر جانی مانگےکہہ دو ہم سے نہ کوئی دے کے نشانی مانگےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  21. نالہ اس شور سے کیوں میرا دہائی دیتااے فلک گر تجھے اونچا نہ سنائی دیتاSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  22. نیمچہ یار نے جس وقت بغل میں ماراجو چڑھا منہ اسے میدان اجل میں ماراSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  23. یہ اقامت ہمیں پیغام سفر دیتی ہےزندگی موت کے آنے کی خبر دیتی ہےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  24. تو بھلا ہے تو برا ہو نہیں سکتا اے ذوقؔہے برا وہ ہی کہ جو تجھ کو برا جانتا ہےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  25. جن کو اس وقت میں اسلام کا دعویٰ ہے کمالغور سے دیکھو تو اے ذوقؔ ہے ان کا یہ حالSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  26. فصل گل آئی ہے کل اور ہی ساماں ہوں گےمیرے دامن میں ترے دست و گریباں ہوں گےNaseem Dehlvi (1794–1864)
  27. وصل کی رات ہے آخر کبھی عریاں ہوں گےمیں پشیماں ہوں تو کیا وہ نہ پشیماں ہوں گےNaseem Dehlvi (1794–1864)
  28. بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہوناآدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہوناMirza Ghalib (1797–1869)
  29. گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتابحر گر بحر نہ ہوتا تو بیاباں ہوتاMirza Ghalib (1797–1869)
  30. خلوتِ آبلۂ پا میں ہے جولاں میراخوں ہے دل تنگیٔ وحشت سے بیاباں میراMirza Ghalib (1797–1869)
  31. عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانادرد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جاناMirza Ghalib (1797–1869)
  32. آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تککون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تکMirza Ghalib (1797–1869)
  33. کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیںہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیںMirza Ghalib (1797–1869)
  34. واں پہنچ کر جو غش آتا پئے ہم ہے ہم کوصد رہ آہنگِ زمیں بوسِ قدم ہے ہم کوMirza Ghalib (1797–1869)
  35. گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتاوہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرتِ تعمیر، سو ہےMirza Ghalib (1797–1869)
  36. زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھےMirza Ghalib (1797–1869)
  37. اگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ غالبؔہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہےMirza Ghalib (1797–1869)
  38. حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچّھا ہےاس سے میرا مہِ خورشید جمال اچّھا ہےMirza Ghalib (1797–1869)
  39. شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہےیہ بھی مت کہہ کہ جو کہیے تو گِلا ہوتا ہےMirza Ghalib (1797–1869)
  40. لطفِ نظّارۂ قاتِل دمِ بسمل آئےجان جائے تو بلا سے پہ کہیں دِل آئےMirza Ghalib (1797–1869)
  41. آفت آہنگ ہے کچھ نالۂ بلبل ورنہپھول ہنس ہنس کے گلستاں میں فنا ہو جاتاMirza Ghalib (1797–1869)
  42. اور تو رکھنے کو ہم دہر میں کیا رکھتے تھےمگر ایک شعر میں اندازِ رسا رکھتے تھےMirza Ghalib (1797–1869)
  43. بس کہ مے پیتے ہیں اربابِ فنا پوشیدہخطِ پیمانۂ مے ہے نفسِ دزدیدہMirza Ghalib (1797–1869)
  44. چرخ تک دھوم ہے کس دھوم سے آیا سہراچاند کا دائرہ لے زہرہ نے گایا سہراMirza Ghalib (1797–1869)
  45. حسرتِ دست گہ و پائے تحمل تا چندرگِ گردن خطِ پیمانۂ بے مُل تا چندMirza Ghalib (1797–1869)
  46. خوابِ غفلت بہ کمیں گاہِ نظر پنہاں ہےشام سائے میں بہ تاراجِ سحر پنہاں ہےMirza Ghalib (1797–1869)
  47. خوش ہو اے بخت کہ ہے آج ترے سر سہراباندھ شہزادہ جواں بخت کے سر پر سہراMirza Ghalib (1797–1869)
  48. سیر آں سوئے تماشا ہے طلب گاروں کاخضر مشتاق ہے اس دشت کے آواروں کاMirza Ghalib (1797–1869)
  49. شبِ اختر قدحِ عیش نے محمل باندھاباریک قافلۂ آبلہ منزل باندھاMirza Ghalib (1797–1869)
  50. شب کہ دل زخمی عرضِ دو جہاں تیر آیانالہ بر خود غلطِ شوخیٔ تاثیر آیاMirza Ghalib (1797–1869)