Poetry
Ramal Musamman Mahzuf
رمل مثمن محذوف- موج دریا سے بلا کی چاہئے کشتی مجھےہو جو بالکل نا موافق وہ ہوا پیدا کروںTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- ہے خموشی ظلم چرخ دیو پیکر کا جوابآدمی ہوتا تو ہم دیتے برابر کا جوابAmeer Minai (1829–1900)
- کیجئے رندی کا پیشہ شیشہ شیشہ ہے شرابلیجئے اک گھونٹ شیشہ شیشہ شیشہ ہے شرابJoshish Azimabadi (d. 1830)
- یاد ہیں وے دن تجھے ہم کیسے آواروں میں تھےخار تھے ہر آبلوں میں آبلے خاروں میں تھےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- تیرے کوچے میں جو ہم با دیدہ تر بیٹھتےجوش طوفاں سے زمیں میں سینکڑوں گھر بیٹھتےDagh Dehlvi (1831–1905)
- خوب ہی چلتی ہوئی وہ نرگس مستانہ ہےآشنا سے آشنا بیگانے سے بیگانہ ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
- دیکھ کر جوبن ترا کس کس کو حیرانی ہوئیاس جوانی پر جوانی آپ دیوانی ہوئیDagh Dehlvi (1831–1905)
- ملتے ہی بے باک تھی وہ آنکھ شرمائی ہوئیپھر گئی پچھتا کے پلکوں تک حیا آئی ہوئیDagh Dehlvi (1831–1905)
- نامہ بر کہتا ہے اب لاتا ہوں دل بر کا جوابسن چکا میں چار دن آگے مقدر کا جوابDagh Dehlvi (1831–1905)
- برسوں آنکھوں میں رہے آنکھوں سے پھر کر دل میں آئےراہ سیدھی تھی مگر پہنچے بڑے چکر سے آپDagh Dehlvi (1831–1905)
- میں جو آیا غیر سے ہنس کر کہا اس نے جلالؔختم ہے جس پر شرافت وہ کمینہ آ گیاJalal Lakhnavi (1832–1909)
- کفر اور اسلام میں دیکھا تو نازک فرق تھادیر میں جو پاک تھا کعبے میں وہ ناپاک تھاQalaq Meerathi (1835–1880)
- بھول کر ہرگز نہ لیتے ہم زباں سے نام عشقگر نظر آتا ہمیں آغاز میں انجام عشقZaheer Dehlvi (1835–1911)
- کفر میں بھی ہم رہے قسمت سے ایماں کی طرفشکر ہے کعبہ بھی نکلا کوئے جاناں کی طرفZaheer Dehlvi (1835–1911)
- خوبیاں اپنے میں گو بے انتہا پاتے ہیں ہمپر ہر اک خوبی میں داغ اک عیب کا پاتے ہیں ہمAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- میڈیکل ٹیسٹAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- اپنی مرضی کے موافق دہر کو کیوں کر کروںبے حد آتا ہے مجھے غصہ مگر کس پر کروںAkbar Allahabadi (1846–1921)
- باغ دنیا میں نظر غم ناک ہو کر رہ گئیرنگ بدلے خاک نے پھر خاک ہو کر رہ گئیAkbar Allahabadi (1846–1921)
- جذبۂ دل نے مرے تاثیر دکھلائی تو ہےگھنگھروؤں کی جانب در کچھ صدا آئی تو ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- حاکم دل بن گئی ہیں یہ تھیٹر والیاںمیں لگاؤں گا گل داغ جگر کی ڈالیاںAkbar Allahabadi (1846–1921)
- درد تو موجود ہے دل میں دوا ہو یا نہ ہوبندگی حالت سے ظاہر ہے خدا ہو یا نہ ہوAkbar Allahabadi (1846–1921)
- شکوۂ بیداد سے مجھ کو تو ڈرنا چاہئےدل میں لیکن آپ کو انصاف کرنا چاہئےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- شیخ نے ناقوس کے سر میں جو خود ہی تان لیپھر تو یاروں نے بھجن گانے کی کھل کر ٹھان لیAkbar Allahabadi (1846–1921)
- فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیںڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیںAkbar Allahabadi (1846–1921)
- مسمریزم کے عمل میں دہر اب مشغول ہےمغرب و مشرق میں اک عامل ہے اک معمول ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- مہربانی ہے عیادت کو جو آتے ہیں مگرکس طرح ان سے ہمارا حال دیکھا جائے گاAkbar Allahabadi (1846–1921)
- میرے دل کو وہ بت دل خواہ جو چاہے کرےاب تو دے ڈالا اسے اللہ جو چاہے کرےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- ہر قدم کہتا ہے تو آیا ہے جانے کے لیےمنزل ہستی نہیں ہے دل لگانے کے لیےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- اب کہاں تک بت کدہ میں صرف ایماں کیجئےتا کجا عشق بتاں میں سست پیماں کیجئےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- بھولتا جاتا ہے یورپ آسمانی باپ کوبس خدا سمجھا ہے اس نے برق کو اور بھاپ کوAkbar Allahabadi (1846–1921)
- چھوڑ لٹریچر کو اپنی ہسٹری کو بھول جاشیخ و مسجد سے تعلق ترک کر اسکول جاAkbar Allahabadi (1846–1921)
- مس سیمیں بدنAkbar Allahabadi (1846–1921)
- عاشقی کا ہو برا اس نے بگاڑے سارے کامہم تو اے.بی میں رہے اغیار بے.اے. ہو گئےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- فکر منزل ہو گئی ان کا گزرنا دیکھ کرزندہ دل میں ہو گیا اوروں کا مرنا دیکھ اورAkbar Allahabadi (1846–1921)
- کوٹ اور پتلون جب پہنا تو مسٹر بن گیاجب کوئی تقریر کی جلسے میں لیڈر بن گیاAkbar Allahabadi (1846–1921)
- کچھ کہے جاتا تھا غرق اپنے ہی افسانے میں تھامرتے مرتے ہوش باقی تیرے دیوانے میں تھاShad Azimabadi (1846–1927)
- دیکھنے والے کو تیرے دیکھنے آتے ہیں لوگجو کشش تجھ میں تھی اب وو تیرے دیوانہ میں ہےShad Azimabadi (1846–1927)
- تیز ہے پینے میں ہو جائے گی آسانی مجھےزمزمی سے دے دے زاہد تو ذرا پانی مجھےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- جو پلائے وہ رہے یا رب مے و ساغر سے خوشخوش رہے پیر مغاں جاتے ہیں اس کے در سے خوشRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- چھیڑتے ہیں گدگداتے ہیں پھر ارماں آج کلجھوٹے سچے کوئی کر لے عہد و پیماں آج کلRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- ساتھ سائے کی طرح وحشت میں عریانی ہوئیمجھ سے دیوانے کے پیچھے یہ بھی دیوانی ہوئیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- عیش و عشرت سب سہی یہ دم نہیں تو کچھ نہیںایک دنیا ہو تو کیا جب ہم نہیں تو کچھ نہیںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- کیا ہوئی میری جوانی جوش پر آئی ہوئیہائے وہ نازک گلابی میری چھلکائی ہوئیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- گنبد مدفن ہے یا ہے آسماں بالائے سریہ مکیں رکھتے ہیں سب اپنے مکاں بالائے سرRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- مے رہے مینا رہے گردش میں پیمانہ رہےمیرے ساقی تو رہے آباد مے خانہ رہےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- ہنس کے پیمانہ دیا ظالم نے ترسانے کے بعدآج نازک سے لب ساقی ہیں پیمانے کے بعدRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- آ کے مجھ تک کشتیٔ مے ساقیا الٹی پھریآج کیا ندی بہی الٹی ہوا الٹی پھریNazm Tabatabai (1854–1933)
- اس مہینہ بھر کہاں تھا ساقیا اچھی طرحآ ادھر آ عید تو مل لیں ذرا اچھی طرحNazm Tabatabai (1854–1933)
- پھیر لیتا ہے مکدر ہو کے منہ جس سے کہیںہائے جو جی پر گزرتی ہے وہ ہم کس سے کہیںNadir Kakorvi (1857–1912)
- رات بھر گردش تھی ان کے پاسبانوں کی طرحپانو میں چکر تھا میرے آسمانوں کی طرحBekhud Dehlvi (1863–1955)