Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musamman Mahzuf

رمل مثمن محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. موج دریا سے بلا کی چاہئے کشتی مجھےہو جو بالکل نا موافق وہ ہوا پیدا کروںTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  2. ہے خموشی ظلم چرخ دیو پیکر کا جوابآدمی ہوتا تو ہم دیتے برابر کا جوابAmeer Minai (1829–1900)
  3. کیجئے رندی کا پیشہ شیشہ شیشہ ہے شرابلیجئے اک گھونٹ شیشہ شیشہ شیشہ ہے شرابJoshish Azimabadi (d. 1830)
  4. یاد ہیں وے دن تجھے ہم کیسے آواروں میں تھےخار تھے ہر آبلوں میں آبلے خاروں میں تھےJoshish Azimabadi (d. 1830)
  5. تیرے کوچے میں جو ہم با دیدہ تر بیٹھتےجوش طوفاں سے زمیں میں سینکڑوں گھر بیٹھتےDagh Dehlvi (1831–1905)
  6. خوب ہی چلتی ہوئی وہ نرگس مستانہ ہےآشنا سے آشنا بیگانے سے بیگانہ ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
  7. دیکھ کر جوبن ترا کس کس کو حیرانی ہوئیاس جوانی پر جوانی آپ دیوانی ہوئیDagh Dehlvi (1831–1905)
  8. ملتے ہی بے باک تھی وہ آنکھ شرمائی ہوئیپھر گئی پچھتا کے پلکوں تک حیا آئی ہوئیDagh Dehlvi (1831–1905)
  9. نامہ بر کہتا ہے اب لاتا ہوں دل بر کا جوابسن چکا میں چار دن آگے مقدر کا جوابDagh Dehlvi (1831–1905)
  10. برسوں آنکھوں میں رہے آنکھوں سے پھر کر دل میں آئےراہ سیدھی تھی مگر پہنچے بڑے چکر سے آپDagh Dehlvi (1831–1905)
  11. میں جو آیا غیر سے ہنس کر کہا اس نے جلالؔختم ہے جس پر شرافت وہ کمینہ آ گیاJalal Lakhnavi (1832–1909)
  12. کفر اور اسلام میں دیکھا تو نازک فرق تھادیر میں جو پاک تھا کعبے میں وہ ناپاک تھاQalaq Meerathi (1835–1880)
  13. بھول کر ہرگز نہ لیتے ہم زباں سے نام عشقگر نظر آتا ہمیں آغاز میں انجام عشقZaheer Dehlvi (1835–1911)
  14. کفر میں بھی ہم رہے قسمت سے ایماں کی طرفشکر ہے کعبہ بھی نکلا کوئے جاناں کی طرفZaheer Dehlvi (1835–1911)
  15. خوبیاں اپنے میں گو بے انتہا پاتے ہیں ہمپر ہر اک خوبی میں داغ اک عیب کا پاتے ہیں ہمAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  16. میڈیکل ٹیسٹAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  17. اپنی مرضی کے موافق دہر کو کیوں کر کروںبے حد آتا ہے مجھے غصہ مگر کس پر کروںAkbar Allahabadi (1846–1921)
  18. باغ دنیا میں نظر غم ناک ہو کر رہ گئیرنگ بدلے خاک نے پھر خاک ہو کر رہ گئیAkbar Allahabadi (1846–1921)
  19. جذبۂ دل نے مرے تاثیر دکھلائی تو ہےگھنگھروؤں کی جانب در کچھ صدا آئی تو ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  20. حاکم دل بن گئی ہیں یہ تھیٹر والیاںمیں لگاؤں گا گل داغ جگر کی ڈالیاںAkbar Allahabadi (1846–1921)
  21. درد تو موجود ہے دل میں دوا ہو یا نہ ہوبندگی حالت سے ظاہر ہے خدا ہو یا نہ ہوAkbar Allahabadi (1846–1921)
  22. شکوۂ بیداد سے مجھ کو تو ڈرنا چاہئےدل میں لیکن آپ کو انصاف کرنا چاہئےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  23. شیخ نے ناقوس کے سر میں جو خود ہی تان لیپھر تو یاروں نے بھجن گانے کی کھل کر ٹھان لیAkbar Allahabadi (1846–1921)
  24. فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیںڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیںAkbar Allahabadi (1846–1921)
  25. مسمریزم کے عمل میں دہر اب مشغول ہےمغرب و مشرق میں اک عامل ہے اک معمول ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  26. مہربانی ہے عیادت کو جو آتے ہیں مگرکس طرح ان سے ہمارا حال دیکھا جائے گاAkbar Allahabadi (1846–1921)
  27. میرے دل کو وہ بت دل خواہ جو چاہے کرےاب تو دے ڈالا اسے اللہ جو چاہے کرےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  28. ہر قدم کہتا ہے تو آیا ہے جانے کے لیےمنزل ہستی نہیں ہے دل لگانے کے لیےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  29. اب کہاں تک بت کدہ میں صرف ایماں کیجئےتا کجا عشق بتاں میں سست پیماں کیجئےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  30. بھولتا جاتا ہے یورپ آسمانی باپ کوبس خدا سمجھا ہے اس نے برق کو اور بھاپ کوAkbar Allahabadi (1846–1921)
  31. چھوڑ لٹریچر کو اپنی ہسٹری کو بھول جاشیخ و مسجد سے تعلق ترک کر اسکول جاAkbar Allahabadi (1846–1921)
  32. مس سیمیں بدنAkbar Allahabadi (1846–1921)
  33. عاشقی کا ہو برا اس نے بگاڑے سارے کامہم تو اے.بی میں رہے اغیار بے.اے. ہو گئےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  34. فکر منزل ہو گئی ان کا گزرنا دیکھ کرزندہ دل میں ہو گیا اوروں کا مرنا دیکھ اورAkbar Allahabadi (1846–1921)
  35. کوٹ اور پتلون جب پہنا تو مسٹر بن گیاجب کوئی تقریر کی جلسے میں لیڈر بن گیاAkbar Allahabadi (1846–1921)
  36. کچھ کہے جاتا تھا غرق اپنے ہی افسانے میں تھامرتے مرتے ہوش باقی تیرے دیوانے میں تھاShad Azimabadi (1846–1927)
  37. دیکھنے والے کو تیرے دیکھنے آتے ہیں لوگجو کشش تجھ میں تھی اب وو تیرے دیوانہ میں ہےShad Azimabadi (1846–1927)
  38. تیز ہے پینے میں ہو جائے گی آسانی مجھےزمزمی سے دے دے زاہد تو ذرا پانی مجھےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  39. جو پلائے وہ رہے یا رب مے و ساغر سے خوشخوش رہے پیر مغاں جاتے ہیں اس کے در سے خوشRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  40. چھیڑتے ہیں گدگداتے ہیں پھر ارماں آج کلجھوٹے سچے کوئی کر لے عہد و پیماں آج کلRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  41. ساتھ سائے کی طرح وحشت میں عریانی ہوئیمجھ سے دیوانے کے پیچھے یہ بھی دیوانی ہوئیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  42. عیش و عشرت سب سہی یہ دم نہیں تو کچھ نہیںایک دنیا ہو تو کیا جب ہم نہیں تو کچھ نہیںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  43. کیا ہوئی میری جوانی جوش پر آئی ہوئیہائے وہ نازک گلابی میری چھلکائی ہوئیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  44. گنبد مدفن ہے یا ہے آسماں بالائے سریہ مکیں رکھتے ہیں سب اپنے مکاں بالائے سرRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  45. مے رہے مینا رہے گردش میں پیمانہ رہےمیرے ساقی تو رہے آباد مے خانہ رہےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  46. ہنس کے پیمانہ دیا ظالم نے ترسانے کے بعدآج نازک سے لب ساقی ہیں پیمانے کے بعدRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  47. آ کے مجھ تک کشتیٔ مے ساقیا الٹی پھریآج کیا ندی بہی الٹی ہوا الٹی پھریNazm Tabatabai (1854–1933)
  48. اس مہینہ بھر کہاں تھا ساقیا اچھی طرحآ ادھر آ عید تو مل لیں ذرا اچھی طرحNazm Tabatabai (1854–1933)
  49. پھیر لیتا ہے مکدر ہو کے منہ جس سے کہیںہائے جو جی پر گزرتی ہے وہ ہم کس سے کہیںNadir Kakorvi (1857–1912)
  50. رات بھر گردش تھی ان کے پاسبانوں کی طرحپانو میں چکر تھا میرے آسمانوں کی طرحBekhud Dehlvi (1863–1955)