اپنی مرضی کے موافق دہر کو کیوں کر کروں
Akbar Allahabadi (1846–1921)اپنی مرضی کے موافق دہر کو کیوں کر کروں
بے حد آتا ہے مجھے غصہ مگر کس پر کروں
چل بسے چھوٹے بڑے تھا جن سے لطف زندگی
مجھ پے کس کو ناز ہے میں ناز اب کس پر کروں
وصل کی شب حسب موسم ہو ہی جائے گی سحر
لطف اٹھاؤں یا درازی کی دعا شب بھر کروں
دور بے مہری ہے امید محبت کس سے ہو
اڑ رہی ہے خاک ہر سو کس کے دل میں گھر کروں