باغ دنیا میں نظر غم ناک ہو کر رہ گئی
Akbar Allahabadi (1846–1921)باغ دنیا میں نظر غم ناک ہو کر رہ گئی
رنگ بدلے خاک نے پھر خاک ہو کر رہ گئی
داخل اسکول ہو دختر تو کچھ حاصل کرے
کیا نتیجہ صرف اگر بے باک ہو کر رہ گئی
وہ ترقی ہے کہ جو کر دے شگفتہ مثل گل
وہ کلی کیا جو گریباں چاک ہو کر رہ گئی