Poetry
Ramal Musamman Mahzuf
رمل مثمن محذوف- کھینچ کر اس ماہ رو کو آج یاں لائی ہے راتیہ خدا نے مدتوں میں ہم کو دکھلائی ہے راتNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- کیا کہیں دنیا میں ہم انسان یا حیوان تھےخاک تھے کیا تھے غرض اک آن کے مہمان تھےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- لاوے خاطر میں ہمارے دل کو وہ مغرور کیاجس کے آگے مہر کیا مہ کیا پری کیا حور کیاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- یار نے ہم کو اگر رسوا کہا اچھا کہاہم تو رسوا ہیں ہی کیا بے جا کہا اچھا کہاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- سچ تو یہ ہے بے جگہ ربط ان دنوں پیدا کیاسوچ ہے ہر دم یہی ہم کو کہ ہم نے کیا کیاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- کل جو رونے پر مرے ٹک دھیان اس کا پڑ گیاہنس کے یوں کہنے لگا کچھ آنکھ میں کیا پڑ گیا؟Qalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- نالۂ موزوں سے مصرع آہ کا چسپاں ہوازور یہ پر درد اپنا مطلع دیواں ہواQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- ہم تو کہتے تھے دم آخر ذرا سستا نہ جالے، چلے ہم جان سے، مختار ہے اب جا نہ جاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- یاد آتا ہے تو کیا پھرتا ہوں گھبرایا ہواچمپئی رنگ اس کا اور جوبن وہ گدرایا ہواQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- یہ غضب بیٹھے بٹھائے تجھ پہ کیا نازل ہوااٹھ چلا دنیا سے کیوں تو تجھ کو اے دل کیا ہواQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- اس کے کوچے کی طرف تھا شب جو دنگا آگ کاآہ سے کس کی پڑا تھا واں پتنگا آگ کاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- دم غنیمت ہے کہ وقت خوش دلی ملتا نہیںیہ سماں یہ چین دنیا میں کبھی ملتا نہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- ناتوانی کے سبب یاں کس سے اٹھا جائے ہےآہ اٹھنے کی کہیں کیا دم ہی بیٹھا جائے ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- بندگی ہم نے تو جی سے اپنی ٹھانی آپ کیبندہ پرور خیر آگے قدر دانی آپ کیInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- اس کی صورت کا تصور دل میں جب لاتے ہیں ہمخود بہ خود اپنے سے ہمدم آپ گھبراتے ہیں ہمGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
- شمع رو عاشق کو اپنے یوں جلانا چاہیئےکچھ ہنسانا چاہیئے اور کچھ رلانا چاہیئےGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
- مجھ سے آزردہ جو اس گل رو کو اب پاتے ہیں لوگاور ہی رنگت سے کچھ کچھ آ کے فرماتے ہیں لوگGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
- میری تربت پر چڑھانے ڈھونڈتا ہے کس کے پھولتیری آنکھوں کا ہوں کشتہ رکھ دے دو نرگس کے پھولShah Naseer (1756–1838)
- ایک ہوں نالاں قفس میں ہائے اے بلبل خموشسن ترا آواز اور صحرا ہوا ہے سبز پوشLutfunnisa Imtiyaz (b. 1761)
- دشت وحشت میں ہمارا اب ہوا ہے بود و باشسر پھرانے کو عبث صیاد کرتا ہے تلاشLutfunnisa Imtiyaz (b. 1761)
- ہم پریشاں ہیں تری اس زلف بکھرانے کے ہاتروز و شب تڑپے ہیں ظالم اس کے بل کھانے کے ہاتLutfunnisa Imtiyaz (b. 1761)
- آنکھ سے پردہ نہ کر پردے کا گھر یہ بھی تو ہےتو تو دیکھے ہم نہ دیکھیں طرفہ تر یہ بھی تو ہےChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
- جلوہ گر تھا ہر جگہ کعبہ تھا یا بت خانہ تھاگھر ہزاروں تھے مگر وہ ایک صاحب خانہ تھاChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
- نور تھا یا شعلہ تھا یا برق یا خورشید تھاکچھ تو اے موسیٰ کہو کیا تھا وہ جلوہ طور کاChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
- عشق میں نسبت نہیں بلبل کو پروانے کے ساتھوصل میں وہ جان دے یہ ہجر میں جیتی رہےJafar Ali Khan Zaki (b. 1764)
- گرچہ گل کی سیج ہو تس پر بھی اڑ جاتی ہے نیندسر رکھوں قدموں پہ جب تیرے مجھے آتی ہے نیندMah Laqa Chanda (1768–1824)
- ہم جو شب کو ناگہاں اس شوخ کے پالے پڑےدل تو جاتا ہی رہا اب جان کے لالے پڑےMah Laqa Chanda (1768–1824)
- تم کو ہے یارو اگر حسن بیاں کی احتیاطجیوں قلم ہر بات میں کیجیے زباں کی احتیاطIjad Burhanpuri (b. 1771)
- خواہ کر انصاف ظالم خواہ کر بیداد توپر جو فریادی ہیں ان کی سن تو لے فریاد توBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- عشق تو مشکل ہے اے دل کون کہتا سہل ہےلیک نادانی سے اپنی تو نے سمجھا سہل ہےBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- کیا کہوں دل مائل زلف دوتا کیونکر ہوایہ بھلا چنگا گرفتار بلا کیونکر ہواBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- کیونکہ ہم دنیا میں آئے کچھ سبب کھلتا نہیںاک سبب کیا بھید واں کا سب کا سب کھلتا نہیںBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- گالیاں تنخواہ ٹھہری ہے اگر بٹ جائے گیعاشقوں کے گھر مٹھائی لب شکر بٹ جائے گیBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- مر گئے اے واہ ان کی ناز برداری میں ہمدل کے ہاتھوں سے پڑے کیسی گرفتاری میں ہمBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- واں ارادہ آج اس قاتل کے دل میں اور ہےاور یہاں کچھ آرزو بسمل کے دل میں اور ہےBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- ہوتے ہوتے چشم سے آج اشک باری رہ گئیآبرو بارے تری ابر بہاری رہ گئیBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- حال دل کیوں کر کریں اپنا بیاں اچھی طرحروبرو ان کے نہیں چلتی زباں اچھی طرحBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- میں سسکتا رہ گیا اور مر گئے فرہاد و قیسکیا انہی دونوں کے حصے میں قضا تھی میں نہ تھاBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- اے جنوں ہوتے ہیں صحرا پر اتارے شہر سےفصل گل آئی کہ دیوانے سدھارے شہر سےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- توڑ کر تار نگہ کا سلسلہ جاتا رہاخاک ڈال آنکھوں میں میری قافلہ جاتا رہاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- یا علی کہہ کر بت پندار توڑا چاہئےنفس امارہ کی گردن کو مروڑا چاہئےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- بے مروت بے وفا نامہرباں نا آشناجس کے یہ اوصاف کوئی اس سے ہو کیا آشناMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- نشہ میں جی چاہتا ہے بوسہ بازی کیجئےاتنی رخصت دیجئے بندہ نوازی کیجئےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- یہ بھی کوئی وضع آنے کی ہے جو آتے ہو تمایک دم آئے نہیں گزرا کہ پھر جاتے ہو تمMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- چپکے چپکے غم کا کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائےجی ہی جی میں تلملانا کوئی ہم سے سیکھ جائےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- برق میرا آشیاں کب کا جلا کر لے گئیکچھ جو خاکستر بچا آندھی اڑا کر لے گئیSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلارکھیو یارب یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلاMirza Ghalib (1797–1869)
- شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرۂ ابر آب تھاشعلۂ جوّالہ ہر اِک حلقۂ گرداب تھاMirza Ghalib (1797–1869)
- نالۂ دل میں شب اندازِ اثر نایاب تھاتھا سپندِبزمِ وصلِ غیر ، گو بیتاب تھاMirza Ghalib (1797–1869)
- شب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھاتا محیطِ بادہ صورت خانۂ خمیازہ تھاMirza Ghalib (1797–1869)