Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musamman Mahzuf

رمل مثمن محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. کھینچ کر اس ماہ رو کو آج یاں لائی ہے راتیہ خدا نے مدتوں میں ہم کو دکھلائی ہے راتNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  2. کیا کہیں دنیا میں ہم انسان یا حیوان تھےخاک تھے کیا تھے غرض اک آن کے مہمان تھےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  3. لاوے خاطر میں ہمارے دل کو وہ مغرور کیاجس کے آگے مہر کیا مہ کیا پری کیا حور کیاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  4. یار نے ہم کو اگر رسوا کہا اچھا کہاہم تو رسوا ہیں ہی کیا بے جا کہا اچھا کہاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  5. سچ تو یہ ہے بے جگہ ربط ان دنوں پیدا کیاسوچ ہے ہر دم یہی ہم کو کہ ہم نے کیا کیاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  6. کل جو رونے پر مرے ٹک دھیان اس کا پڑ گیاہنس کے یوں کہنے لگا کچھ آنکھ میں کیا پڑ گیا؟Qalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  7. نالۂ موزوں سے مصرع آہ کا چسپاں ہوازور یہ پر درد اپنا مطلع دیواں ہواQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  8. ہم تو کہتے تھے دم آخر ذرا سستا نہ جالے، چلے ہم جان سے، مختار ہے اب جا نہ جاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  9. یاد آتا ہے تو کیا پھرتا ہوں گھبرایا ہواچمپئی رنگ اس کا اور جوبن وہ گدرایا ہواQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  10. یہ غضب بیٹھے بٹھائے تجھ پہ کیا نازل ہوااٹھ چلا دنیا سے کیوں تو تجھ کو اے دل کیا ہواQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  11. اس کے کوچے کی طرف تھا شب جو دنگا آگ کاآہ سے کس کی پڑا تھا واں پتنگا آگ کاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  12. دم غنیمت ہے کہ وقت خوش دلی ملتا نہیںیہ سماں یہ چین دنیا میں کبھی ملتا نہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  13. ناتوانی کے سبب یاں کس سے اٹھا جائے ہےآہ اٹھنے کی کہیں کیا دم ہی بیٹھا جائے ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  14. بندگی ہم نے تو جی سے اپنی ٹھانی آپ کیبندہ پرور خیر آگے قدر دانی آپ کیInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  15. اس کی صورت کا تصور دل میں جب لاتے ہیں ہمخود بہ خود اپنے سے ہمدم آپ گھبراتے ہیں ہمGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
  16. شمع رو عاشق کو اپنے یوں جلانا چاہیئےکچھ ہنسانا چاہیئے اور کچھ رلانا چاہیئےGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
  17. مجھ سے آزردہ جو اس گل رو کو اب پاتے ہیں لوگاور ہی رنگت سے کچھ کچھ آ کے فرماتے ہیں لوگGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
  18. میری تربت پر چڑھانے ڈھونڈتا ہے کس کے پھولتیری آنکھوں کا ہوں کشتہ رکھ دے دو نرگس کے پھولShah Naseer (1756–1838)
  19. ایک ہوں نالاں قفس میں ہائے اے بلبل خموشسن ترا آواز اور صحرا ہوا ہے سبز پوشLutfunnisa Imtiyaz (b. 1761)
  20. دشت وحشت میں ہمارا اب ہوا ہے بود و باشسر پھرانے کو عبث صیاد کرتا ہے تلاشLutfunnisa Imtiyaz (b. 1761)
  21. ہم پریشاں ہیں تری اس زلف بکھرانے کے ہاتروز و شب تڑپے ہیں ظالم اس کے بل کھانے کے ہاتLutfunnisa Imtiyaz (b. 1761)
  22. آنکھ سے پردہ نہ کر پردے کا گھر یہ بھی تو ہےتو تو دیکھے ہم نہ دیکھیں طرفہ تر یہ بھی تو ہےChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
  23. جلوہ گر تھا ہر جگہ کعبہ تھا یا بت خانہ تھاگھر ہزاروں تھے مگر وہ ایک صاحب خانہ تھاChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
  24. نور تھا یا شعلہ تھا یا برق یا خورشید تھاکچھ تو اے موسیٰ کہو کیا تھا وہ جلوہ طور کاChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
  25. عشق میں نسبت نہیں بلبل کو پروانے کے ساتھوصل میں وہ جان دے یہ ہجر میں جیتی رہےJafar Ali Khan Zaki (b. 1764)
  26. گرچہ گل کی سیج ہو تس پر بھی اڑ جاتی ہے نیندسر رکھوں قدموں پہ جب تیرے مجھے آتی ہے نیندMah Laqa Chanda (1768–1824)
  27. ہم جو شب کو ناگہاں اس شوخ کے پالے پڑےدل تو جاتا ہی رہا اب جان کے لالے پڑےMah Laqa Chanda (1768–1824)
  28. تم کو ہے یارو اگر حسن بیاں کی احتیاطجیوں قلم ہر بات میں کیجیے زباں کی احتیاطIjad Burhanpuri (b. 1771)
  29. خواہ کر انصاف ظالم خواہ کر بیداد توپر جو فریادی ہیں ان کی سن تو لے فریاد توBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  30. عشق تو مشکل ہے اے دل کون کہتا سہل ہےلیک نادانی سے اپنی تو نے سمجھا سہل ہےBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  31. کیا کہوں دل مائل زلف دوتا کیونکر ہوایہ بھلا چنگا گرفتار بلا کیونکر ہواBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  32. کیونکہ ہم دنیا میں آئے کچھ سبب کھلتا نہیںاک سبب کیا بھید واں کا سب کا سب کھلتا نہیںBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  33. گالیاں تنخواہ ٹھہری ہے اگر بٹ جائے گیعاشقوں کے گھر مٹھائی لب شکر بٹ جائے گیBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  34. مر گئے اے واہ ان کی ناز برداری میں ہمدل کے ہاتھوں سے پڑے کیسی گرفتاری میں ہمBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  35. واں ارادہ آج اس قاتل کے دل میں اور ہےاور یہاں کچھ آرزو بسمل کے دل میں اور ہےBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  36. ہوتے ہوتے چشم سے آج اشک باری رہ گئیآبرو بارے تری ابر بہاری رہ گئیBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  37. حال دل کیوں کر کریں اپنا بیاں اچھی طرحروبرو ان کے نہیں چلتی زباں اچھی طرحBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  38. میں سسکتا رہ گیا اور مر گئے فرہاد و قیسکیا انہی دونوں کے حصے میں قضا تھی میں نہ تھاBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  39. اے جنوں ہوتے ہیں صحرا پر اتارے شہر سےفصل گل آئی کہ دیوانے سدھارے شہر سےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  40. توڑ کر تار نگہ کا سلسلہ جاتا رہاخاک ڈال آنکھوں میں میری قافلہ جاتا رہاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  41. یا علی کہہ کر بت پندار توڑا چاہئےنفس امارہ کی گردن کو مروڑا چاہئےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  42. بے مروت بے وفا نامہرباں نا آشناجس کے یہ اوصاف کوئی اس سے ہو کیا آشناMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
  43. نشہ میں جی چاہتا ہے بوسہ بازی کیجئےاتنی رخصت دیجئے بندہ نوازی کیجئےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
  44. یہ بھی کوئی وضع آنے کی ہے جو آتے ہو تمایک دم آئے نہیں گزرا کہ پھر جاتے ہو تمMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
  45. چپکے چپکے غم کا کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائےجی ہی جی میں تلملانا کوئی ہم سے سیکھ جائےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  46. برق میرا آشیاں کب کا جلا کر لے گئیکچھ جو خاکستر بچا آندھی اڑا کر لے گئیSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  47. بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلارکھیو یارب یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلاMirza Ghalib (1797–1869)
  48. شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرۂ ابر آب تھاشعلۂ جوّالہ ہر اِک حلقۂ گرداب تھاMirza Ghalib (1797–1869)
  49. نالۂ دل میں شب اندازِ اثر نایاب تھاتھا سپندِبزمِ وصلِ غیر ، گو بیتاب تھاMirza Ghalib (1797–1869)
  50. شب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھاتا محیطِ بادہ صورت خانۂ خمیازہ تھاMirza Ghalib (1797–1869)