Poetry
- دنیا کا نہ کھا فریب ویراں ہے یہراحت سے نہ دل لگا کہ مہماں ہے یہIsmail Meeruthi (1844–1917)
- دنیا کو نہ تو قبلۂ حاجات سمجھجز ذکر خدا سب کو خرافات سمجھIsmail Meeruthi (1844–1917)
- دیکھا تو کہیں نظر نہ آیا ہرگزڈھونڈا تو کہیں پتا نہ پایا ہرگزIsmail Meeruthi (1844–1917)
- ڈھونڈا کرے کوئی لاکھ کیا ملتا ہےدن کا کہیں رات کو پتا ملتا ہےIsmail Meeruthi (1844–1917)
- ساقی و شراب و جام و پیمانہ کیاشمع و گل و عندلیب و پروانہ کیاIsmail Meeruthi (1844–1917)
- عاجز ہے خیال اور تفکر حیراںبے سود یقیں ہے اور بے ہودہ گماںIsmail Meeruthi (1844–1917)
- عید رمضاں ہے آج با عیش و سرورہم کو بھی ادائے تہنیت ہے منظورIsmail Meeruthi (1844–1917)
- عید قرباں ہے آج اے اہل ہمہمایسی عیدیں ہزار دیکھو پیہمIsmail Meeruthi (1844–1917)
- قلاش ہے قوم تو پڑھے گی کیوں کرپسماندہ ہے اب تو پھر بڑھے گی کیوں کرIsmail Meeruthi (1844–1917)
- کافر کو ہے بندگی بتوں کی غم خوارمومن کے لئے بھی ہے خدائے غفارIsmail Meeruthi (1844–1917)
- کہتے ہیں جو اہل عقل ہیں دور اندیشمخلوق کو ہے عدم کا رستہ درپیشIsmail Meeruthi (1844–1917)
- کہتے ہیں سبھی مسدام اللہ اللہکرتے ہیں برائے نام اللہ اللہIsmail Meeruthi (1844–1917)
- کیا کہتے ہیں اس میں مفتیان اسلامجب بیع مساجد سے نہیں چلتا کامIsmail Meeruthi (1844–1917)
- کیفیت و ذوق اور ذکر و اوراددین و اسلام اور کفر و الحادIsmail Meeruthi (1844–1917)
- گر جور و جفا کرے تو انعام سمجھجس کام سے وہ خوش ہو اسے کام سمجھIsmail Meeruthi (1844–1917)
- گر روح نہ پابند تعین ہوتییوں درد فراق سے نہ ہر دم روتیIsmail Meeruthi (1844–1917)
- گر نیک دلی سے کچھ بھلائی کی ہےیا بد منشی سے کچھ برائی کی ہےIsmail Meeruthi (1844–1917)
- لاکھوں چیزیں بنا کے بھیجیں انگریزسب کرتے ہیں دندان ہوس ان پر تیزIsmail Meeruthi (1844–1917)
- مجموعۂ خار و گل ہے زیب گلزارنیکی و بدی ہے جلوہ گاہ اظہارIsmail Meeruthi (1844–1917)
- مقصود ہے قید جستجو سے باہروہ گل ہے دلیل رنگ و بو سے باہرIsmail Meeruthi (1844–1917)
- مکشوف ہوا کہ دید حیرانی ہےمعلوم ہوا کہ علم نادانی ہےIsmail Meeruthi (1844–1917)
- ہر خواہش و عرض و التجا سے توبہہر فکر سے ذکر سے دعا سے توبہIsmail Meeruthi (1844–1917)
- ہوتی نہیں فکر سے کوئی افزائشچپکے رہنے میں ہے بڑی آسائشIsmail Meeruthi (1844–1917)
- ہے بار خدا کہ عالم آرا تو ہےدانائے نہان و آشکارا تو ہےIsmail Meeruthi (1844–1917)
- ہے شکر درست اور شکایت زیباہے کفر درست اور ہدایت زیباIsmail Meeruthi (1844–1917)
- ہے عشق سے حسن کی صفائی ظاہررندی سے ہوئی ہے پارسائی ظاہرIsmail Meeruthi (1844–1917)
- یا رب کوئی نقش مدعا بھی نہ رہےاور دل میں خیال ماسوا بھی نہ رہےIsmail Meeruthi (1844–1917)
- یہ قول کسی بزرگ کا سچا ہےڈالی سے جدا نہ ہو تو پھل کچا ہےIsmail Meeruthi (1844–1917)
- یہ مسئلۂ دقیق سنئے ہم سےآدم ہے مراد ہستئ عالم سےIsmail Meeruthi (1844–1917)
- اب تک جو کہیں ہماری قسمت نہ لڑیناحق تجھے ہم نشیں ہے فکر اس کی پڑیAkbar Allahabadi (1846–1921)
- اس قوم کو یک دلی کی رغبت ہی نہیںجو ایک کرے ادھر طبیعت ہی نہیںAkbar Allahabadi (1846–1921)
- اسمال نہیں گریٹ ہونا اچھادل ہونا برا ہے پیٹ ہونا اچھاAkbar Allahabadi (1846–1921)
- افسوس ان پر فلک نے پایا قابومطلق نہیں ان میں رنگ ڈھونڈو یا بوAkbar Allahabadi (1846–1921)
- افسوس سفید ہو گئے بال ترےلیکن ہیں سیاہ اب بھی اعمال ترےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- افسوس ہے بد گماں کی آزادی پرخالق کبھی خوش نہ ہوگا بربادی پرAkbar Allahabadi (1846–1921)
- اکبرؔ مجھے شک نہیں تیری تیزی میںاور تیرے بیان کی دلآویزی میںAkbar Allahabadi (1846–1921)
- الفت نہ ہو شیخ کی تو عزت ہی سہیمرشد نہ بناؤ ان کو دعوت ہی سہیAkbar Allahabadi (1846–1921)
- بھائے جو نگاہ کو وہی رنگ اچھالائے جو راہ پر وہی ڈھنگ اچھاAkbar Allahabadi (1846–1921)
- پابند اگرچہ اپنی خواہش کے رہولائل سبجیکٹ تم برٹش کے رہوAkbar Allahabadi (1846–1921)
- تدبیر کریں تو اس میں ناکامی ہوتقدیر کا نام لیں تو بد نامی ہوAkbar Allahabadi (1846–1921)
- جب تک ہے ہم میں قومی خصلت باقیبے شک پردے کی ہے ضرورت باقیAkbar Allahabadi (1846–1921)
- جو حسرت دل ہے وہ نکلنے کی نہیںجو بات ہے کام کی وہ چلنے کی نہیںAkbar Allahabadi (1846–1921)
- حاسد تجھ پر اگر حسد کرتا ہےکر صبر کہ خود وہ کار بد کرتا ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- در پر مظلوم اک پڑا روتا ہےبچارا بلا میں مبتلا روتا ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- دلکش نہیں وہ حسیں جسے شرم نہیںرونق نہیں اس کی جس کا دل گرم نہیںAkbar Allahabadi (1846–1921)
- دنیا کرتی ہے آدمی کو بربادافکار سے رہتی ہے طبیعت ناشادAkbar Allahabadi (1846–1921)
- دولت بھی ہے فلسفہ بھی ہے جاہ بھی ہےلطف حسن بتان دل خواہ بھی ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- رسوا وہ ہوا جو مست پیمانہ ہوالپکا جو سایہ پر وہ دیوانہ ہواAkbar Allahabadi (1846–1921)
- رکتا نہیں انقلاب چارا کیا ہےحیراں ہیں ملک بشر بچارا کیا ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- رکھو جو مقابل اس کے سارا عالمدنیا بخدا ہے اک ذرے سے بھی کمAkbar Allahabadi (1846–1921)