الفت نہ ہو شیخ کی تو عزت ہی سہی

Akbar Allahabadi (1846–1921)

الفت نہ ہو شیخ کی تو عزت ہی سہی

مرشد نہ بناؤ ان کو دعوت ہی سہی

بگڑا ہے جو دل زباں ہی کو روکو

رونا جو نہ آئے غم کی صورت ہی سہی