ڈھونڈا کرے کوئی لاکھ کیا ملتا ہے

Ismail Meeruthi (1844–1917)

ڈھونڈا کرے کوئی لاکھ کیا ملتا ہے

دن کا کہیں رات کو پتا ملتا ہے

جب تک کہ ہے بندگی خدائی کا حجاب

بندہ کو بھلا کہیں خدا ملتا ہے