اب تک جو کہیں ہماری قسمت نہ لڑی

Akbar Allahabadi (1846–1921)

اب تک جو کہیں ہماری قسمت نہ لڑی

ناحق تجھے ہم نشیں ہے فکر اس کی پڑی

انگریز کے ملک میں لڑائی کیسی

یہ ہند ہے یہاں خوش انتظامی ہے بڑی