Poetry
Khafif Musaddas Makhbun Mahzuf
خفیف مسدس مخبون محذوف- اب وہ اگلا سا التفات نہیںجس پہ بھولے تھے ہم وہ بات نہیںAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- حق وفا کے جو ہم جتانے لگےآپ کچھ کہہ کے مسکرانے لگےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- کام اگر حسب مدعا نہ ہواتیرا چاہا ہوا برا نہ ہواIsmail Meeruthi (1844–1917)
- کبھی تقصیر جس نے کی ہی نہیںہم سے پوچھو تو آدمی ہی نہیںIsmail Meeruthi (1844–1917)
- مہربانی بھی ہے عتاب بھی ہےکچھ تسلی کچھ اضطراب بھی ہےIsmail Meeruthi (1844–1917)
- چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیںآرزو میں نے کوئی کی ہی نہیںAkbar Allahabadi (1846–1921)
- مل گیا شرع سے شراب کا رنگخوب بدلا غرض جناب کا رنگAkbar Allahabadi (1846–1921)
- دل کو صبر و قرار بھی نہ ہواجبر پر اختیار بھی نہ ہواKaifi Kakorvi (1852–1928)
- بام پر آئے کتنی شان سے آجبڑھ گئے آپ آسمان سے آجRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- نہیں چھپتا ترے عتاب کا رنگکہ بدلنے لگا نقاب کا رنگRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- یہ بلا میرے سر چڑھی ہی نہیںمیں نے کچے گھڑے کی پی ہی نہیںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- آہ کرنا دل حزیں نہ کہیںآگ لگ جائے گی کہیں نہ کہیںBekhud Badayuni (1857–1912)
- جس میں سودا نہیں وہ سر ہی نہیںدرد جس میں نہیں جگر ہی نہیںBekhud Badayuni (1857–1912)
- حاصل اس مہ لقا کی دید نہیںعید ہے اور ہم کو عید نہیںBekhud Badayuni (1857–1912)
- کیوں مرا حال قصہ خواں سے سنویہ کہانی مری زباں سے سنوBekhud Badayuni (1857–1912)
- کیوں میں اب قابل جفا نہ رہاکیا ہوا کہیے مجھ میں کیا نہ رہاBekhud Badayuni (1857–1912)
- اب نہ حسرت نہ پاس ہے دل میںکوئی بھی اس مکان میں نہ رہاNadir Kakorvi (1857–1912)
- جذبۂ عشق چاہئے صوفیجو ہے افسردہ اہل حال نہیںPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- اپنے عہد وفا کو بھول گئےتم تو بالکل خدا کو بھول گئےMuztar Khairabadi (1865–1927)
- اس سے کہہ دو کہ وہ جفا نہ کرےکہیں مجھ سا اسے خدا نہ کرےMuztar Khairabadi (1865–1927)
- ہجر میں ہو گیا وصال کا کیاخواب ہی بن گیا خیال کا کیاMuztar Khairabadi (1865–1927)
- آج تک دل کی آرزو ہے وہیپھول مرجھا گیا ہے بو ہے وہیJaleel Manikpuri (1866–1946)
- ضبط نالہ سے آج کام لیاگرتی بجلی کو میں نے تھام لیاJaleel Manikpuri (1866–1946)
- قاصد آیا مگر جواب نہیںمیرے لکھے کا بھی جواب نہیںJaleel Manikpuri (1866–1946)
- ہائے دم بھر بھی دل ٹھہر نہ سکاہاتھ سینے پہ کوئی دھر نہ سکاJaleel Manikpuri (1866–1946)
- وصل کی ان بتوں سے آس نہیںکہ ٹکے دکشنا کو پاس نہیںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- نیک و بد کی جسے خبر ہی نہیںشر ہے کم بخت وہ بشر ہی نہیںParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- نازنیں جن کے کچھ نیاز نہیںان حسینوں سے دل کو ساز نہیںHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- یوں اٹھا دے ہمارے جی سے غرضہو نہ تیرے سوا کسی سے غرضHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- جب کہا میں نے اس سے الفت ہےہنس کے کہنے لگا اگر نہ ہوئیZarif Lakhnavi (1870–1937)
- ان کو رسوا مجھے خراب نہ کراے دل اتنا بھی اضطراب نہ کرHasrat Mohani (1875–1951)
- بس کہ نکلی نہ کوئی جی کی ہوساب ہوں میں اور بے دلی کی ہوسHasrat Mohani (1875–1951)
- تجھ سے گرویدہ یک زمانہ رہاکچھ فقط میں ہی مبتلا نہ رہاHasrat Mohani (1875–1951)
- درد دل کی انہیں خبر نہ ہوئیکوئی تدبیر کارگر نہ ہوئیHasrat Mohani (1875–1951)
- دیدنی ہیں دل خراب کے رنگآہ اس چشم پرحجاب کے رنگHasrat Mohani (1875–1951)
- قسمت شوق آزما نہ سکےان سے ہم آنکھ بھی ملا نہ سکےHasrat Mohani (1875–1951)
- لطف کی ان سے التجا نہ کریںہم نے ایسا کبھی کیا نہ کریںHasrat Mohani (1875–1951)
- نہ سہی گر انہیں خیال نہیںکہ ہمارا بھی اب وہ حال نہیںHasrat Mohani (1875–1951)
- یوں تو عاشق ترا زمانہ ہوامجھ سا جاں باز دوسرا نہ ہواHasrat Mohani (1875–1951)
- ایسے بگڑے کہ پھر جفا بھی نہ کیدشمنی کا بھی حق ادا نہ ہواHasrat Mohani (1875–1951)
- شکوۂ غم ترے حضور کیاہم نے بے شک بڑا قصور کیاHasrat Mohani (1875–1951)
- کٹ گئی احتیاط عشق میں عمرہم سے اظہار مدعا نہ ہواHasrat Mohani (1875–1951)
- عقل گو آستاں سے دُور نہیںاس کی تقدیر میں حضور نہیںAllama Iqbal (1877–1938)
- ایک سوالAllama Iqbal (1877–1938)
- میں کہوں کیا انہیں یقیں ہی نہیںوہ کہے جاتے ہیں نہیں ہی نہیںFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
- آپ سے شرح آرزو تو کریںآپ تکلیف گفتگو تو کریںFani Badayuni (1879–1941)
- آہ اب تک تو بے اثر نہ ہوئیکچھ تمہیں کو مری خبر نہ ہوئیFani Badayuni (1879–1941)
- ضبط اپنا شعار تھا نہ رہادل پہ کچھ اختیار تھا نہ رہاFani Badayuni (1879–1941)
- میرے لب پر کوئی دعا ہی نہیںاس کرم کی کچھ انتہا ہی نہیںFani Badayuni (1879–1941)
- سنگ طفلاں فدائے سر نہ ہواآج اس کوچے میں گزر نہ ہواWahshat Kalkatvi (1881–1956)