Poetry
- آئنے میں خود اپنا چہرا ہےپھر بھی کیوں اجنبی سا لگتا ہےZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- اترے تو کئی بار صحیفے مرے گھر میںملتے ہیں مگر صرف جریدے مرے گھر میںZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- ایسے لمحے پر ہمیں قربان ہو جانا پڑاایک ہی لغزش میں جب انسان ہو جانا پڑاZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- تخلیق کی دنیا تو اسرار کی دنیا ہےہر فکر میں جنت ہے ہر لفظ میں صحرا ہےZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- جو شور کرتے رہے شور ہی میں ڈوب گئےسب اپنے ذوق جنوں کی ندی میں ڈوب گئےZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- حقائق کتنے اے اہل نظر ہم بھول جاتے ہیںچھپے ہوتے ہیں پتھر میں گہر ہم بھول جاتے ہیںZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- فکر سے الفاظ تک پھیلا ہوا میری طرحمیں نہ تھا سچ ہے مگر وہ کون تھا میری طرحZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- کیا دعائے فرسودہ حرف بے اثر مانگوںتشنگی میں جینے کا اب کوئی ہنر مانگوںZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- لفظوں سے تصویر بناتا جاؤں میںہنستے گاتے رنگ دکھاتا جاؤں میںZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- محبت کرنے والوں کی دل آزاری نہیں کرتےخطا پر سر جھکانے والے مکاری نہیں کرتےZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- نگاہوں کو خلا میں ذہن کو دفتر میں رکھ دیں گےمگر اپنے مسائل گھر کے ہیں ہم گھر میں رکھ دیں گےZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- ہر آدمی کو خواب دکھانا محال ہےشعلوں میں جیسے پھول کھلانا محال ہےZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- ہر غزل ہر شعر اپنا استعارہ آشنافصل گل میں جیسے شاخ گل شرارا آشناZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- تجھے لذتوں کی سحر ملےتجھے آئنوں کا سفر ملےZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- چلو یہ بھی کریںہم روشنائی کو لہو کر کےZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- خدا کی طرف سےودیعت ہوئی ہےZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- یہ زمیں یہ حسیں سرزمیںجنگلوں پربتوں سبزہ زاروں نشیلی ہواؤں کی آماجگاہZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- بم پھٹے لوگ مرے خون بہا شہر لٹےاور کیا لکھا ہے اخبار میں آگے پڑھیےZaheer Ghazipuri (b. 1938)