Poetry
- آئنہ دیکھیں نہ ہم عکس ہی اپنا دیکھیںجب بھی دیکھیں تو ہم اپنے کو اکیلا دیکھیںzafar iqbal zafar (b. 1940)
- ایک اک پل ترا نایاب بھی ہو سکتا ہےحوصلہ ہو تو ظفر یاب بھی ہو سکتا ہےzafar iqbal zafar (b. 1940)
- ایک جنبش میں کٹ بھی سکتے ہیںدھار پر رکھے سب کے چہرے ہیںzafar iqbal zafar (b. 1940)
- پائی ہمیشہ ریت بھنور کاٹنے کے بعدتشنہ لبی کا لمبا سفر کاٹنے کے بعدzafar iqbal zafar (b. 1940)
- دریا گزر گئے ہیں سمندر گزر گئےپیاسا رہا میں کتنے ہی منظر گزر گئےzafar iqbal zafar (b. 1940)
- دل و نگاہ کو ویران کر دیا میں نےشکست خواب کا اعلان کر دیا میں نےzafar iqbal zafar (b. 1940)
- رابطہ کیوں رکھوں میں دریا سےپیاس بجھتی ہے میری صحرا سےzafar iqbal zafar (b. 1940)
- زندگی کو شعبدہ سمجھا تھا میںپتھروں کو آئنہ سمجھا تھا میںzafar iqbal zafar (b. 1940)
- زندگی کو کر گیا جنگل کوئیلے گیا خوشیوں کا میری پل کوئیzafar iqbal zafar (b. 1940)
- سر بریدہ ہوا مقابل ہےسب کی آنکھوں میں خوف شامل ہےzafar iqbal zafar (b. 1940)
- سفر کا سلسلہ آخر کہاں تمام کروںکہاں چراغ چلاؤں کہاں قیام کروںzafar iqbal zafar (b. 1940)
- صحرا کا سفر تھا تو شجر کیوں نہیں آیامانگی تھیں دعائیں تو اثر کیوں نہیں آیاzafar iqbal zafar (b. 1940)
- کنیز وقت کو نیلام کر دیا سب نےیہ وہم کیا ہے بڑا کام کر دیا سب نےzafar iqbal zafar (b. 1940)
- لبوں پر پیاس سب کے بے کراں ہےہر اک جانب مگر اندھا کنواں ہےzafar iqbal zafar (b. 1940)
- وہ نہیں اس کی مگر جادوگری موجود ہےاک سحر آلود مجھ میں بے خودی موجود ہےzafar iqbal zafar (b. 1940)
- ہر آدمی کہاں اوج کمال تک پہنچاعروج حد سے بڑھا تو زوال تک پہنچاzafar iqbal zafar (b. 1940)
- پھیلی ہوئی ہے چاندنی احساس میں مرےیہ کون میری ذات کے اندر اتر گیاzafar iqbal zafar (b. 1940)
- تہذیب ہی باقی ہے نہ اب شرم و حیا کچھکس درجہ اب انسان یہ بے باک ہوا ہےzafar iqbal zafar (b. 1940)
- مری چیخیں فصیلوں سے کبھی باہر نہیں جاتیںشکستہ ہو کے گرنے پر صدا دیتی ہیں دیواریںzafar iqbal zafar (b. 1940)
- ہماری زیست میں ایسے بھی لمحے آتے ہیں اکثردراروں کے توسط سے ہوا دیتی ہیں دیواریںzafar iqbal zafar (b. 1940)