Poetry
- آندھی ہے تیز دھول سے گھر اور اٹ نہ جائےٹوٹے کواڑ بند کرو دم الٹ نہ جائےZafar Ghauri
- ابھرتے ڈوبتے تاروں کے بھید کھولے گافصیل شب سے اتر کر کوئی تو بولے گاZafar Ghauri
- ترا یقین ہوں میں کب سے اس گمان میں تھامیں زندگی کے بڑے سخت امتحان میں تھاZafar Ghauri
- ٹوٹے تختے پر سمندر پار کرنے آئے تھےہم سفر طوفان غم سے پیار کرنے آئے تھےZafar Ghauri
- جاری ہے کب سے معرکہ یہ جسم و جاں میں سرد ساچھپ چھپ کے کوئی مجھ میں ہے مجھ سے ہی ہم نبرد ساZafar Ghauri
- چل پڑے ہم دشت بے سایہ بھی جنگل ہو گیاہم سفر جب مل گئے جنگل میں منگل ہو گیاZafar Ghauri
- خواب رنگوں سے بنی ہے یاد تازہدھوپ لکھ لائی مبارک یاد تازہZafar Ghauri
- دل میں رکھ زخم نوا راہ میں کام آئے گادشت بے سمت میں اک ہو کا مقام آئے گاZafar Ghauri
- سات رنگوں سے بنی ہے یاد تازہدھوپ لکھ لائی مبارک باد تازہZafar Ghauri
- سزا ملی ہے بکھرنے کی اور سمٹنے کیخطا ہوئی تھی ہواؤں سے کل لپٹنے کیZafar Ghauri
- شب کے تاریک سمندر سے گزر آیا ہوںٹوٹا تارہ ہوں خلاؤں سے اتر آیا ہوںZafar Ghauri
- شعلے سے چٹکتے ہیں ہر سانس میں خوشبو کےآئی ہے صبا شاید وہ پھول سا تن چھو کےZafar Ghauri
- فصل گل کو ضد ہے زخم دل کا ہرا کیسے ہوچاندنی بھی ڈس رہی ہے غم کی دوا کیسے ہوZafar Ghauri
- وقت کا سانس بھی طوفان کا ٹھہراؤ لگےاس کڑی رت میں کہاں ٹوٹی ہوئی ناؤ لگےZafar Ghauri
- ہمکتی کونپلوں کو خشک گھاس کر دے گیہوا درختوں کو پھر بے لباس کر دے گیZafar Ghauri