Poetry
- اس نے ایسے کہا شکریہ محترممیں بھی خود کو سمجھنے لگا محترمYasir Raza Asif (b. 1984)
- اور بھی کوئی رب سے ملنے کا رستہ ہے بابا جیدنیا کو ہم کھو نہ بیٹھیں جی ڈرتا ہے بابا جیYasir Raza Asif (b. 1984)
- ایسی ٹھہری ہے رت خزاؤں کیہم کو حسرت رہی ہے چھاؤں کیYasir Raza Asif (b. 1984)
- بارود کے ذرے جو فضاؤں میں رہیں گےپھر کیسے پرندے یہ ہواؤں میں رہیں گےYasir Raza Asif (b. 1984)
- تنہا کب ہوں میرے سنگ پرندے ہیںسپنے بھی تو رنگا رنگ پرندے ہیںYasir Raza Asif (b. 1984)
- جب مال و زر ایمان ہوا نقصان ہواپھر ہر جانب اعلان ہوا نقصان ہواYasir Raza Asif (b. 1984)
- چپ کی طاقت سے گزارہ نہیں ہونے والااب شرافت سے گزارہ نہیں ہونے والاYasir Raza Asif (b. 1984)
- دھڑکنوں کی سب کہانی ختم شدمیری آنکھوں کا بھی پانی ختم شدYasir Raza Asif (b. 1984)
- دیواروں سے بنتی ہے کب درویشوآؤ شہر سے کوچ کریں اب درویشوYasir Raza Asif (b. 1984)
- ساتھ لے کر آئے ہیں وہ روشنی اور چند پھولمنسلک باہم ہوئے ہیں زندگی اور چند پھولYasir Raza Asif (b. 1984)
- سنبھل سنبھل کے چلو گے تو فائدہ ہوگابڑوں کی بات سنو گے تو فائدہ ہوگاYasir Raza Asif (b. 1984)
- کچھ سزائیں اور بھی ہیں تازیانوں سے پرےاک اسیری اور بھی ہے قید خانوں سے پرےYasir Raza Asif (b. 1984)
- گھر کے بڑے بوڑھوں کو یہی کہتے سنا ہےجھک جھک کے جو ملتا ہے وہی قد میں بڑا ہےYasir Raza Asif (b. 1984)
- میں نے اک آواز سنی تھی کمرے میں خاموشی کیمیرے کان میں آ کر تیری یادوں نے سرگوشی کیYasir Raza Asif (b. 1984)
- نت نئے ظلم جھیلتا ہوں میںجرم یہ ہے کہ سوچتا ہوں میںYasir Raza Asif (b. 1984)
- ہنس کر ملتے ہو بھائیبغض بھی رکھتے ہو بھائیYasir Raza Asif (b. 1984)