Poetry
- اب انجمن میں وہ یاران غم گسار کہاںنگاہ لطف کہاں ہم کہاں بہار کہاںTahavvur Ali Zaidi
- اے چارہ ساز کاہش درد نہاں نہ پوچھکچھ اور پوچھ مجھ سے مری داستاں نہ پوچھTahavvur Ali Zaidi
- تجلیاں ہیں کہ ان کا کوئی حساب نہیںنگاہ شوق ہے اور دیکھنے کی تاب نہیںTahavvur Ali Zaidi
- تجلی سے تری معمور ہوناکوئی دیکھے مرا مغرور ہوناTahavvur Ali Zaidi
- تم ساتھ ہو تو کچھ نہیں خوف و خطر مجھےکافی ہے اک چراغ سر رہ گزر مجھےTahavvur Ali Zaidi
- جب تری بزم سے اٹھ کر کوئی ناشاد آیااپنے انجام کا آغاز مجھے یاد آیاTahavvur Ali Zaidi
- خلش دل کی رفیق شام تنہائی بھی ہوتی ہےمگر جب حد سے بڑھ جاتی ہے رسوائی بھی ہوتی ہےTahavvur Ali Zaidi
- صحن چمن سے ہم نہ بیاباں سے آئے ہیںبرباد ہو کے کوچۂ جاناں سے آئے ہیںTahavvur Ali Zaidi
- غم سے جب فیضیاب ہوتا ہےدل بشکل رباب ہوتا ہےTahavvur Ali Zaidi
- غم عشق بتاں ہے اور میں ہوںیہ جان ناتواں ہے اور میں ہوںTahavvur Ali Zaidi
- کہوں بھی تو کہوں اس کے سوا کیاکہ میں کیا اور میرا مدعا کیاTahavvur Ali Zaidi
- محبت حاصل کون و مکاں بھیمحبت ایک سعیٔ رائیگاں بھیTahavvur Ali Zaidi
- مقصود جان و دل شہ ذیشان آپؐ ہیںحقا کہ میرا دیں مرا ایمان آپؐ ہیںTahavvur Ali Zaidi
- نگاہ عاصی کی روز محشر امین رحمت کو تک رہی ہےعجیب عالم ہے بیکسی کا نظر سے حسرت ٹپک رہی ہےTahavvur Ali Zaidi
- وہ اک نظر جو دل سے جگر تک اتر گئیافسانۂ حیات کی تکمیل کر گئیTahavvur Ali Zaidi
- ہر آہ بے اثر ہی نہیں با اثر بھی ہےمدت سے جو ادھر تھا وہ عالم ادھر بھی ہےTahavvur Ali Zaidi