Poetry
- آئینہ اک خیال کا ہوں شیشہ گر نہیںمیں وہ مکاں ہوں جس کا کوئی بام و در نہیںNaeem Saba
- اب میرے لئے آنکھ تیری نم ہے مجھے کیااب ترک مراسم کا تجھے غم ہے مجھے کیاNaeem Saba
- حجاب حسن میں یا حسن بے حجاب میں ہےیہ روشنی کا سفر عکس ماہتاب میں ہےNaeem Saba
- رخت سفر کا میں نے ارادہ نہیں کیاروشن چراغ منزل جادہ نہیں کیاNaeem Saba
- فراق یار میں ایسی بھی ایک شب آئیچراغ جل گیا آنکھوں میں نیند جب آئیNaeem Saba
- کبھی مسجد کبھی مندر سے اٹھااک سوالی تھا ترے در سے اٹھاNaeem Saba
- کف غبار میں ملبوس میرا پیکر تھایہ سانحہ تو ازل سے مرا مقدر تھاNaeem Saba
- گلہ ہے اپنے مقدر کی بے حسی سے ہمیںاور اس سے بڑھ کے شکایت ہے زندگی سے ہمیںNaeem Saba
- مرے قریب وہ آیا تھا روبرو نہ ہوانظر ملا کے بھی مائل بہ گفتگو نہ ہواNaeem Saba
- نشاط مے ہے کہ جام شراب ہے کیا ہےوہ خواب حسن ہے یا حسن خواب ہے کیا ہےNaeem Saba
- وہ دل کشی جو ترے حسن اور جمال میں ہےاسی کا عکس فروزاں مرے خیال میں ہےNaeem Saba
- ہزار غم ہوں تو پھر انتخاب کیسے کروںدریدہ دل کو میں نذر عذاب کیسے کروںNaeem Saba
- ہوا کی زد پہ دیے کو سنبھال رکھا ہےفصیل شب پہ اجالا بحال رکھا ہےNaeem Saba
- یہ تیرے ہجر کا موسم سراب جیسا ہےہر ایک لمحہ مسلسل عذاب جیسا ہےNaeem Saba
- خطۂ ارض پہ ایسی بھی جگہ ہے کہ جہاںشب میں تاریک اجالے کا گماں ہوتا ہےNaeem Saba
- وہ مری زندگی کا افسانہجب کبھی مجھ کو یاد آتا ہےNaeem Saba
- جب مرا چاک گریباں نہ ملادل نے پھر جسم سے ہر رشتہ کوNaeem Saba