Poetry
- اس پری رو نے نہ مجھ سے ہے نباہی کیا کروںسر کدھر پٹکوں کدھر جاؤں الٰہی کیا کروںمرزا محمد تقی ہوس
- بے وجہ نہیں گرد پریشاں پس محفلآتا ہے کوئی بے سر و ساماں پس محفلمرزا محمد تقی ہوس
- تو جو پڑا پھرتا ہے آج کہیں کل کہیںاے دل خانہ خراب تجھ کو بھی ہے کل کہیںمرزا محمد تقی ہوس
- جنگلوں میں جستجوئے قیس صحرائی کروںکب تلک ڈھونڈوں کہاں تک جادہ پیمائی کروںمرزا محمد تقی ہوس
- جوانی یاد ہم کو اپنی پھر بے اختیار آئیہوا دیوانوں میں جب غل بہار آئی بہار آئیمرزا محمد تقی ہوس
- دیکھیں کیا اب کے اسیری ہمیں دکھلاتی ہےلوگ کہتے ہیں کہ پھر فصل بہار آتی ہےمرزا محمد تقی ہوس
- رنگ گل شگفتہ ہوں آب رخ چمن ہوں میںشمع حرم چراغ دیر قشقہ برہمن ہوں میںمرزا محمد تقی ہوس
- شوق خراش خار مرے دل میں رہ گیاپائے تلاش پہلی ہی منزل میں رہ گیامرزا محمد تقی ہوس
- کیا دن تھے جب چھپ چھپ کر تم پاس ہمارے آتے تھےکانپتے تھے بدنامی کے ڈر سے آنسو پی پی جاتے تھےمرزا محمد تقی ہوس
- کیا مزا ہو جو کسی سے تجھے الفت ہو جائےجی کڑھے فکر رہے میری سی حالت ہو جائےمرزا محمد تقی ہوس
- مژدہ یہ صبا اس بت بے باک کو پہنچایہ دود دل سوختہ افلاک کو پہنچامرزا محمد تقی ہوس
- میں کہا بولنا شب غیر سے تھا تم کو کیامسکرا کہنے لگا شوق مرا تم کو کیامرزا محمد تقی ہوس
- میں نہ سمجھا بلبل بے بال و پر نے کیا کہاگوش گل میں قاصد باد سحر نے کیا کہامرزا محمد تقی ہوس
- نت جی ہی جی میں عشق کے صدمے اٹھائیوشکوے کی بات منہ پہ ہوسؔ تم نہ لائیومرزا محمد تقی ہوس
- نہ پایا کھوج برسوں نقش پائے رفتگاں ڈھونڈھےنہ ہو ممکن پتا جن کا انہیں کوئی کہاں ڈھونڈھےمرزا محمد تقی ہوس
- ہرگز نہ مرے محرم ہمراز ہوئے تمآئینے میں اپنے ہی نظر باز ہوئے تممرزا محمد تقی ہوس
- ہم سے وارفتہ الفت ہیں بہت کم پیداہاتھ سے کھو نہ ہمیں ہوں گے نہ پھر ہم پیدامرزا محمد تقی ہوس
- ہنستے تھے مرے حال کو جو یار دیکھ کران سب نے رو دیا مجھے بیمار دیکھ کرمرزا محمد تقی ہوس
- ہوئے آج بوڑھے جوانی میں کیا تھےجب اٹھے تھے زانو سے ہاتھ آشنا تھےمرزا محمد تقی ہوس
- یہی کہتی لیلیٔ سوختہ جاں نہیں کھاتی ادب سے خدا کی قسمغم قیس سوا مجھے غم نہیں کچھ اسی کشتۂ ناز و ادا کی قسممرزا محمد تقی ہوس
- ماتھے پہ لگا صندل وہ ہار پہن نکلےہم کھینچ وہیں قشقہ زنار پہن نکلےمرزا محمد تقی ہوس
- ہوئے عازم ملک عدم جو ہوسؔ تو خوشی یہ ہوئی تھی کہ غم سے چھٹےکبھی دیر میں تھے کسی بت پہ فدا کبھی کعبہ میں کرتے جا کے دعامرزا محمد تقی ہوس