Poetry
- اس وقت بارے کچھ تو کرم بخشی کیجئےگزرے ہم اور بات سے گالی ہی دیجئےمرزا جواں بخت جہاں دار
- اے ظالم ترے جب سے پالے پڑےہمیں اپنے جینے کے لالے پڑےمرزا جواں بخت جہاں دار
- تجھ بے وفا کی آہ کوئی چاہ کیا کرےدل تجھ کو دے کے تو ہی بتا آہ کیا کرےمرزا جواں بخت جہاں دار
- جس کو کہ دسترس ہوئی دامان یار تکگلشن میں دہر کے وہی پہنچا بہار تکمرزا جواں بخت جہاں دار
- جو کچھ کیا سو ہم نے کیا اپنی چاہ سےاب شکوہ کیجیے نہ کچھ اس رشک ماہ سےمرزا جواں بخت جہاں دار
- در پہ تیرے پکار کی فریادسمع تو نے نہ یار کی فریادمرزا جواں بخت جہاں دار
- دل پر خوں جو جام ہے میراخون شرب مدام ہے میرامرزا جواں بخت جہاں دار
- دل پرستار ہیں سب خلق کے مورت کی تریدیدہ ہیں قبلہ نما کعبۂ صورت کی تریمرزا جواں بخت جہاں دار
- دنیا میں کوئی دل کا خریدار نہ پایاسب دیکھے دل آزار ہی دل دار نہ پایامرزا جواں بخت جہاں دار
- دیکھ تیرا جمال کچھ کا کچھدل میں آیا خیال کچھ کا کچھمرزا جواں بخت جہاں دار
- دیکھو تو میرے نالہ و آہ و فغاں کی اوربان اس کڑک سے جاوے ہے کب آسماں کی اورمرزا جواں بخت جہاں دار
- سنتا نہیں کسو ہی کی وہ یار دیکھناکیجو نہ اس سے حال دل اظہار دیکھنامرزا جواں بخت جہاں دار
- سینۂ پر سوز یکسو چشم گریاں یک طرفدل بچے کیا یک طرف آتش ہے طوفاں یک طرفمرزا جواں بخت جہاں دار
- قسمت کو اپنے لکھے کے تئیں کون دھو سکےسب ہو سکے ولیک یہ اتنا نہ ہو سکےمرزا جواں بخت جہاں دار
- کل تک اس کی وہ مہربانی تھیآج دیکھا تو سرگرانی تھیمرزا جواں بخت جہاں دار
- کون سی بات تری ہم سے اٹھائی نہ گئیپر جفا جو تری یہ نت کی لڑائی نہ گئیمرزا جواں بخت جہاں دار
- کوئی کر سکتا ہے یارو جیسا میں نے کام کیایار کے ذمے دی کر نیکی اپنے تئیں بد نام کیامرزا جواں بخت جہاں دار
- مت بولیو تو اوس سے جہاں دارؔ دیکھناکھینچے ہوئے ہے آج وہ تلوار دیکھنامرزا جواں بخت جہاں دار
- مجھ سے عاشق کے تئیں مار کے کیا پاوے گامفت بدنامی تجھے ہووے گی پچھتاوے گامرزا جواں بخت جہاں دار
- میں تو سو بار ترے ملنے کو آیا تنہالیکن افسوس کبھی تجھ کو نہ پایا تنہامرزا جواں بخت جہاں دار
- نالہ جدھر میرا گزر کر گیاتیر سا ہر دل میں اثر کر گیامرزا جواں بخت جہاں دار
- یار جب ہم کنار ہووے گادل کو میرے قرار ہووے گامرزا جواں بخت جہاں دار
- یار کے بن بہار کیا کیجےگل نہ ہووے تو خار کیا کیجےمرزا جواں بخت جہاں دار
- یک دو جام اور بھی دے تو ساقینہ رہے دل میں آرزو ساقیمرزا جواں بخت جہاں دار
- جب آفتاب ہو طالع سریر حشمت پرتجلی نور خداوند کی نظر آوےمرزا جواں بخت جہاں دار
- جو کچھ کہ تو نے سر پہ مرے دل ربا کیادل ہی وہ جانتا ہے کہوں کیا میں کیا کیامرزا جواں بخت جہاں دار
- جو مر گئے تری چشم سیاہ کے مارےنہ حشر کو بھی اٹھیں گے نگاہ کے مارےمرزا جواں بخت جہاں دار
- جی بھرا آتا ہے خالی مے کا پیالہ دے گیادیکھیو کیا آج ہم کو شوخ بالا دے گیامرزا جواں بخت جہاں دار