Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اس وقت بارے کچھ تو کرم بخشی کیجئےگزرے ہم اور بات سے گالی ہی دیجئےمرزا جواں بخت جہاں دار
  2. اے ظالم ترے جب سے پالے پڑےہمیں اپنے جینے کے لالے پڑےمرزا جواں بخت جہاں دار
  3. تجھ بے وفا کی آہ کوئی چاہ کیا کرےدل تجھ کو دے کے تو ہی بتا آہ کیا کرےمرزا جواں بخت جہاں دار
  4. جس کو کہ دسترس ہوئی دامان یار تکگلشن میں دہر کے وہی پہنچا بہار تکمرزا جواں بخت جہاں دار
  5. جو کچھ کیا سو ہم نے کیا اپنی چاہ سےاب شکوہ کیجیے نہ کچھ اس رشک ماہ سےمرزا جواں بخت جہاں دار
  6. در پہ تیرے پکار کی فریادسمع تو نے نہ یار کی فریادمرزا جواں بخت جہاں دار
  7. دل پر خوں جو جام ہے میراخون شرب مدام ہے میرامرزا جواں بخت جہاں دار
  8. دل پرستار ہیں سب خلق کے مورت کی تریدیدہ ہیں قبلہ نما کعبۂ صورت کی تریمرزا جواں بخت جہاں دار
  9. دنیا میں کوئی دل کا خریدار نہ پایاسب دیکھے دل آزار ہی دل دار نہ پایامرزا جواں بخت جہاں دار
  10. دیکھ تیرا جمال کچھ کا کچھدل میں آیا خیال کچھ کا کچھمرزا جواں بخت جہاں دار
  11. دیکھو تو میرے نالہ و آہ و فغاں کی اوربان اس کڑک سے جاوے ہے کب آسماں کی اورمرزا جواں بخت جہاں دار
  12. سنتا نہیں کسو ہی کی وہ یار دیکھناکیجو نہ اس سے حال دل اظہار دیکھنامرزا جواں بخت جہاں دار
  13. سینۂ پر سوز یکسو چشم گریاں یک طرفدل بچے کیا یک طرف آتش ہے طوفاں یک طرفمرزا جواں بخت جہاں دار
  14. قسمت کو اپنے لکھے کے تئیں کون دھو سکےسب ہو سکے ولیک یہ اتنا نہ ہو سکےمرزا جواں بخت جہاں دار
  15. کل تک اس کی وہ مہربانی تھیآج دیکھا تو سرگرانی تھیمرزا جواں بخت جہاں دار
  16. کون سی بات تری ہم سے اٹھائی نہ گئیپر جفا جو تری یہ نت کی لڑائی نہ گئیمرزا جواں بخت جہاں دار
  17. کوئی کر سکتا ہے یارو جیسا میں نے کام کیایار کے ذمے دی کر نیکی اپنے تئیں بد نام کیامرزا جواں بخت جہاں دار
  18. مت بولیو تو اوس سے جہاں دارؔ دیکھناکھینچے ہوئے ہے آج وہ تلوار دیکھنامرزا جواں بخت جہاں دار
  19. مجھ سے عاشق کے تئیں مار کے کیا پاوے گامفت بدنامی تجھے ہووے گی پچھتاوے گامرزا جواں بخت جہاں دار
  20. میں تو سو بار ترے ملنے کو آیا تنہالیکن افسوس کبھی تجھ کو نہ پایا تنہامرزا جواں بخت جہاں دار
  21. نالہ جدھر میرا گزر کر گیاتیر سا ہر دل میں اثر کر گیامرزا جواں بخت جہاں دار
  22. یار جب ہم کنار ہووے گادل کو میرے قرار ہووے گامرزا جواں بخت جہاں دار
  23. یار کے بن بہار کیا کیجےگل نہ ہووے تو خار کیا کیجےمرزا جواں بخت جہاں دار
  24. یک دو جام اور بھی دے تو ساقینہ رہے دل میں آرزو ساقیمرزا جواں بخت جہاں دار
  25. جب آفتاب ہو طالع سریر حشمت پرتجلی نور خداوند کی نظر آوےمرزا جواں بخت جہاں دار
  26. جو کچھ کہ تو نے سر پہ مرے دل ربا کیادل ہی وہ جانتا ہے کہوں کیا میں کیا کیامرزا جواں بخت جہاں دار
  27. جو مر گئے تری چشم سیاہ کے مارےنہ حشر کو بھی اٹھیں گے نگاہ کے مارےمرزا جواں بخت جہاں دار
  28. جی بھرا آتا ہے خالی مے کا پیالہ دے گیادیکھیو کیا آج ہم کو شوخ بالا دے گیامرزا جواں بخت جہاں دار