Poetry
- آج مہندی لگائے بیٹھے ہیںخوب وہ رنگ لائے بیٹھے ہیںمرزا آسمان جاہ انجم
- اس نے آنے کا جو وعدہ کیا جاتے جاتےدم مرا سینے میں رکنے لگا آتے جاتےمرزا آسمان جاہ انجم
- الٰہی کوئی ہوا کا جھونکا دکھا دے چہرہ اڑا کے آنچلکہ جھانکتا بھی ہے وہ ستمگر تو کھڑکھڑی میں لگا کے آنچلمرزا آسمان جاہ انجم
- امید مہر پر اک حسرت دل ہم بھی رکھتے تھےتمنا وصل کی اے ماہ کامل ہم بھی رکھتے تھےمرزا آسمان جاہ انجم
- انجمؔ اگر نہیں در دل دار تک پہنچہو جائے کاش روزن دیوار تک پہنچمرزا آسمان جاہ انجم
- انجمؔ تمہیں الفت ابھی کرنا نہیں آتاہر ایک پہ مرتے ہو پہ مرنا نہیں آتامرزا آسمان جاہ انجم
- باعث ترک ملاقات بتاؤ تو سہیچاہنے والا کوئی ہم سا دکھاؤ تو سہیمرزا آسمان جاہ انجم
- بتا تو دل کے بچانے کی کوئی راہ بھی ہےتری نگاہ کی ناوک فگن پناہ بھی ہےمرزا آسمان جاہ انجم
- بطرز دلبری بیداد کیجےجفاؤں میں ادا ایجاد کیجےمرزا آسمان جاہ انجم
- پھول جتنے ہیں تمہارے ہار میںسب گندھے ہیں آنسوؤں کے تار میںمرزا آسمان جاہ انجم
- پئے گناہ ہے تیری پناہ کی تخصیصکہ ہے تجھی پہ ہر اک داد خواہ کی تخصیصمرزا آسمان جاہ انجم
- جوش پر اپنی مستیاں آئیںیاد کس کی یہ شوخیاں آئیںمرزا آسمان جاہ انجم
- چل بسے جو کہ تھے جانے والےاب نہیں پھر کے وہ آنے والےمرزا آسمان جاہ انجم
- چلے آؤ اگر دم بھر کو تم تو یہ جاتا رہے فی الفور مرضکہ نہیں ہے بجز بیماریٔ غم مری جان مجھے کوئی اور مرضمرزا آسمان جاہ انجم
- خدا خدا کر کے آئے بھی وہ تو منہ لپیٹے پڑے ہوئے ہیںنہ کہتے ہیں کچھ نہ سنتے ہیں کچھ کسی سے جیسے لڑے ہوئے ہیںمرزا آسمان جاہ انجم
- دکھاتا ہے مرا دل بے الف رےہوا ہوں رنج سے میں زے الف رےمرزا آسمان جاہ انجم
- دل لے کے برائی کرتے ہیں لو اور سنو لو اور سنوپھر ذکر جدائی کرتے ہیں لو اور سنو لو اور سنومرزا آسمان جاہ انجم
- دل لے کے ہمارا پھرتا ہے یہ کون وطیرہ تیرا ہےکرتا ہے چھچھوری باتیں کیوں ہر بات میں تیرا میرا ہےمرزا آسمان جاہ انجم
- دم رخصت جو ان سے کہہ کے میں اٹھا خدا حافظلگے جھنجھلا کے وہ کہنے بہت اچھا خدا حافظمرزا آسمان جاہ انجم
- رنگ بدلا ہے کئی دن سے مزاج یار کاجوڑ شاید چل گیا پھر آج کل اغیار کامرزا آسمان جاہ انجم
- سارے عالم میں نور ہے تیراہر جگہ پر ظہور ہے تیرامرزا آسمان جاہ انجم
- سوال کیا کروں تجھ سے گناہ گار ہوں میںنگاہ چار ہو کیوں کر کہ شرمسار ہوں میںمرزا آسمان جاہ انجم
- شبیہ خنجر قاتل بنا کررکھی سینے میں ہم نے دل بنا کرمرزا آسمان جاہ انجم
- صاف ہم تم سے آج کتنے ہیںسب تمہیں بد مزاج کہتے ہیںمرزا آسمان جاہ انجم
- عرش و کرسی کی خبر لائے ہیں لانے والےایک موسیٰ ہی نہ تھے طور کے جانے والےمرزا آسمان جاہ انجم
- کبھی انجمؔ اسے ہشیار تو کرکوئی نالہ پس دیوار تو کرمرزا آسمان جاہ انجم
- کبھی لکھتا ہوں میں ان کو اگر خطچلا جاتا ہے قاصد بھول کر خطمرزا آسمان جاہ انجم
- کیوں خود بخود پھری نگہ یار کیا سببکیوں سرنگوں ہے ابروئے خمدار کیا سببمرزا آسمان جاہ انجم
- گر انہیں ہے اپنی صورت پر گھمنڈہم کو ہے اپنی محبت پر گھمنڈمرزا آسمان جاہ انجم
- گر جفا کی نہ ہو وفا مانعکوئی ظالم نہیں ترا مانعمرزا آسمان جاہ انجم
- لطف ہو گر تو ہو اور مے خانہ ہومیں ہوں اور میرا دل دیوانہ ہومرزا آسمان جاہ انجم
- لگی ہے مسی پان کھائے ہوئے ہیںسنانے پہ بیڑا اٹھائے ہوئے ہیںمرزا آسمان جاہ انجم
- مری جاں جدائی نہ ہوگی تو ہوگیکسی دن لڑائی نہ ہوگی تو ہوگیمرزا آسمان جاہ انجم
- میرے جانب سے اسے جا جا کے سمجھاتے ہیں لوگوہ نہیں سننے کا ضد بیکار دلواتے ہیں لوگمرزا آسمان جاہ انجم
- نگہ کیا اور مژہ کیا اے صنم اس کو بھی اس کو بھیسمجھتے ہیں قضا کا تیر ہم اس کو بھی اس کو بھیمرزا آسمان جاہ انجم
- نہ تھا دل ہمارا کبھی غم سے واقفمگر اب ہوا آپ کے دم سے واقفمرزا آسمان جاہ انجم
- نہ ہوئی صاف طبیعت ہی تو ہےرہ گئی دل میں کدورت ہی تو ہےمرزا آسمان جاہ انجم
- وہ چال اٹکھیلیوں سے چل کر دل و جگر روندے ڈالتے ہیںابھی جوانی کا ہے جو عالم نہ دیکھتے ہیں نہ بھالتے ہیںمرزا آسمان جاہ انجم
- ہٹا دو چہرے سے گر دوپٹہ تم اپنے اے لالہ فام آدھاتو ہو یہ ثابت کہ نکلا ابر سیہ سے ماہ تمام آدھامرزا آسمان جاہ انجم
- ہم سے نہ ہوگی ترک وفا یہ اور کسی کو سنائیں آپہم نہ سنیں گے حضرت ناصح لاکھ ہمیں سمجھائیں آپمرزا آسمان جاہ انجم
- ہمیں زاہد جو کافر جانتا ہےتو پھر پتھر کو تو کیوں مانتا ہےمرزا آسمان جاہ انجم
- یاں کفر سے غرض ہے نہ اسلام سے غرضبس ہے اگر غرض تو ترے نام سے غرضمرزا آسمان جاہ انجم
- یوں تو ان آنکھوں سے ہم نے او بت کہنے کو دنیا دیکھیلیکن ساری خدائی بھر تیری صورت یکتا دیکھیمرزا آسمان جاہ انجم
- یہ بھی نہ پوچھا تم نے انجمؔ جیتا ہے یا مرتا ہےواہ جی وا عاشق سے کوئی ایسی غفلت کرتا ہےمرزا آسمان جاہ انجم
- صنم ہے یا خدا کیا جانے کیا ہےہمارا دل ربا کیا جانے کیا ہےمرزا آسمان جاہ انجم
- غم ہجر کے گئے دن گزر ہوا آخر اپنا وصال ہیپہ یہ کیا غضب ہے پئے خدا تجھے آج تک ہے ملال ہیمرزا آسمان جاہ انجم
- مثال چرخ رہا آسماںؔ سر گرداںپر آج تک نہ کھلا یہ کہ جستجو کیا ہےمرزا آسمان جاہ انجم