Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آج مہندی لگائے بیٹھے ہیںخوب وہ رنگ لائے بیٹھے ہیںمرزا آسمان جاہ انجم
  2. اس نے آنے کا جو وعدہ کیا جاتے جاتےدم مرا سینے میں رکنے لگا آتے جاتےمرزا آسمان جاہ انجم
  3. الٰہی کوئی ہوا کا جھونکا دکھا دے چہرہ اڑا کے آنچلکہ جھانکتا بھی ہے وہ ستمگر تو کھڑکھڑی میں لگا کے آنچلمرزا آسمان جاہ انجم
  4. امید مہر پر اک حسرت دل ہم بھی رکھتے تھےتمنا وصل کی اے ماہ کامل ہم بھی رکھتے تھےمرزا آسمان جاہ انجم
  5. انجمؔ اگر نہیں در دل دار تک پہنچہو جائے کاش روزن دیوار تک پہنچمرزا آسمان جاہ انجم
  6. انجمؔ تمہیں الفت ابھی کرنا نہیں آتاہر ایک پہ مرتے ہو پہ مرنا نہیں آتامرزا آسمان جاہ انجم
  7. باعث ترک ملاقات بتاؤ تو سہیچاہنے والا کوئی ہم سا دکھاؤ تو سہیمرزا آسمان جاہ انجم
  8. بتا تو دل کے بچانے کی کوئی راہ بھی ہےتری نگاہ کی ناوک فگن پناہ بھی ہےمرزا آسمان جاہ انجم
  9. بطرز دلبری بیداد کیجےجفاؤں میں ادا ایجاد کیجےمرزا آسمان جاہ انجم
  10. پھول جتنے ہیں تمہارے ہار میںسب گندھے ہیں آنسوؤں کے تار میںمرزا آسمان جاہ انجم
  11. پئے گناہ ہے تیری پناہ کی تخصیصکہ ہے تجھی پہ ہر اک داد خواہ کی تخصیصمرزا آسمان جاہ انجم
  12. جوش پر اپنی مستیاں آئیںیاد کس کی یہ شوخیاں آئیںمرزا آسمان جاہ انجم
  13. چل بسے جو کہ تھے جانے والےاب نہیں پھر کے وہ آنے والےمرزا آسمان جاہ انجم
  14. چلے آؤ اگر دم بھر کو تم تو یہ جاتا رہے فی الفور مرضکہ نہیں ہے بجز بیماریٔ غم مری جان مجھے کوئی اور مرضمرزا آسمان جاہ انجم
  15. خدا خدا کر کے آئے بھی وہ تو منہ لپیٹے پڑے ہوئے ہیںنہ کہتے ہیں کچھ نہ سنتے ہیں کچھ کسی سے جیسے لڑے ہوئے ہیںمرزا آسمان جاہ انجم
  16. دکھاتا ہے مرا دل بے الف رےہوا ہوں رنج سے میں زے الف رےمرزا آسمان جاہ انجم
  17. دل لے کے برائی کرتے ہیں لو اور سنو لو اور سنوپھر ذکر جدائی کرتے ہیں لو اور سنو لو اور سنومرزا آسمان جاہ انجم
  18. دل لے کے ہمارا پھرتا ہے یہ کون وطیرہ تیرا ہےکرتا ہے چھچھوری باتیں کیوں ہر بات میں تیرا میرا ہےمرزا آسمان جاہ انجم
  19. دم رخصت جو ان سے کہہ کے میں اٹھا خدا حافظلگے جھنجھلا کے وہ کہنے بہت اچھا خدا حافظمرزا آسمان جاہ انجم
  20. رنگ بدلا ہے کئی دن سے مزاج یار کاجوڑ شاید چل گیا پھر آج کل اغیار کامرزا آسمان جاہ انجم
  21. سارے عالم میں نور ہے تیراہر جگہ پر ظہور ہے تیرامرزا آسمان جاہ انجم
  22. سوال کیا کروں تجھ سے گناہ گار ہوں میںنگاہ چار ہو کیوں کر کہ شرمسار ہوں میںمرزا آسمان جاہ انجم
  23. شبیہ خنجر قاتل بنا کررکھی سینے میں ہم نے دل بنا کرمرزا آسمان جاہ انجم
  24. صاف ہم تم سے آج کتنے ہیںسب تمہیں بد مزاج کہتے ہیںمرزا آسمان جاہ انجم
  25. عرش و کرسی کی خبر لائے ہیں لانے والےایک موسیٰ ہی نہ تھے طور کے جانے والےمرزا آسمان جاہ انجم
  26. کبھی انجمؔ اسے ہشیار تو کرکوئی نالہ پس دیوار تو کرمرزا آسمان جاہ انجم
  27. کبھی لکھتا ہوں میں ان کو اگر خطچلا جاتا ہے قاصد بھول کر خطمرزا آسمان جاہ انجم
  28. کیوں خود بخود پھری نگہ یار کیا سببکیوں سرنگوں ہے ابروئے خمدار کیا سببمرزا آسمان جاہ انجم
  29. گر انہیں ہے اپنی صورت پر گھمنڈہم کو ہے اپنی محبت پر گھمنڈمرزا آسمان جاہ انجم
  30. گر جفا کی نہ ہو وفا مانعکوئی ظالم نہیں ترا مانعمرزا آسمان جاہ انجم
  31. لطف ہو گر تو ہو اور مے خانہ ہومیں ہوں اور میرا دل دیوانہ ہومرزا آسمان جاہ انجم
  32. لگی ہے مسی پان کھائے ہوئے ہیںسنانے پہ بیڑا اٹھائے ہوئے ہیںمرزا آسمان جاہ انجم
  33. مری جاں جدائی نہ ہوگی تو ہوگیکسی دن لڑائی نہ ہوگی تو ہوگیمرزا آسمان جاہ انجم
  34. میرے جانب سے اسے جا جا کے سمجھاتے ہیں لوگوہ نہیں سننے کا ضد بیکار دلواتے ہیں لوگمرزا آسمان جاہ انجم
  35. نگہ کیا اور مژہ کیا اے صنم اس کو بھی اس کو بھیسمجھتے ہیں قضا کا تیر ہم اس کو بھی اس کو بھیمرزا آسمان جاہ انجم
  36. نہ تھا دل ہمارا کبھی غم سے واقفمگر اب ہوا آپ کے دم سے واقفمرزا آسمان جاہ انجم
  37. نہ ہوئی صاف طبیعت ہی تو ہےرہ گئی دل میں کدورت ہی تو ہےمرزا آسمان جاہ انجم
  38. وہ چال اٹکھیلیوں سے چل کر دل و جگر روندے ڈالتے ہیںابھی جوانی کا ہے جو عالم نہ دیکھتے ہیں نہ بھالتے ہیںمرزا آسمان جاہ انجم
  39. ہٹا دو چہرے سے گر دوپٹہ تم اپنے اے لالہ فام آدھاتو ہو یہ ثابت کہ نکلا ابر سیہ سے ماہ تمام آدھامرزا آسمان جاہ انجم
  40. ہم سے نہ ہوگی ترک وفا یہ اور کسی کو سنائیں آپہم نہ سنیں گے حضرت ناصح لاکھ ہمیں سمجھائیں آپمرزا آسمان جاہ انجم
  41. ہمیں زاہد جو کافر جانتا ہےتو پھر پتھر کو تو کیوں مانتا ہےمرزا آسمان جاہ انجم
  42. یاں کفر سے غرض ہے نہ اسلام سے غرضبس ہے اگر غرض تو ترے نام سے غرضمرزا آسمان جاہ انجم
  43. یوں تو ان آنکھوں سے ہم نے او بت کہنے کو دنیا دیکھیلیکن ساری خدائی بھر تیری صورت یکتا دیکھیمرزا آسمان جاہ انجم
  44. یہ بھی نہ پوچھا تم نے انجمؔ جیتا ہے یا مرتا ہےواہ جی وا عاشق سے کوئی ایسی غفلت کرتا ہےمرزا آسمان جاہ انجم
  45. صنم ہے یا خدا کیا جانے کیا ہےہمارا دل ربا کیا جانے کیا ہےمرزا آسمان جاہ انجم
  46. غم ہجر کے گئے دن گزر ہوا آخر اپنا وصال ہیپہ یہ کیا غضب ہے پئے خدا تجھے آج تک ہے ملال ہیمرزا آسمان جاہ انجم
  47. مثال چرخ رہا آسماںؔ سر گرداںپر آج تک نہ کھلا یہ کہ جستجو کیا ہےمرزا آسمان جاہ انجم