Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آبلہ پا کوئی گزرا تھا جو پچھلے سن میںسرخ کانٹوں کی بہار آئی ہے اب کے بن میںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  2. آخر غم جاناں کو اے دل بڑھ کر غم دوراں ہونا تھااس قطرے کو بننا تھا دریا اس موج کو طوفاں ہونا تھاMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  3. آ نکل کے میداں میں دو رخی کے خانے سےکام چل نہیں سکتا اب کسی بہانے سےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  4. آہ جاں سوز کی محرومی تاثیر نہ دیکھہو ہی جائے گی کوئی جینے کی تدبیر نہ دیکھMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  5. آ ہی جائے گی سحر مطلع امکاں تو کھلانہ سہی باب قفس روزن زنداں تو کھلاMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  6. اب اہل درد یہ جینے کا اہتمام کریںاسے بھلا کے غم زندگی کا نام کریںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  7. اٹھائے جا ان کے ستم اور جئے جایوں ہی مسکرائے جا آنسو پئے جاMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  8. ادائے طول سخن کیا وہ اختیار کرےجو عرض حال بہ طرز نگاہ یار کرےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  9. اس باغ میں وہ سنگ کے قابل کہا نہ جائےجب تک کسی ثمر کو مرا دل کہا نہ جائےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  10. اہل طوفاں آؤ دل والوں کا افسانہ کہیںموج کو گیسو بھنور کو چشم جانانہ کہیںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  11. اے دل مجھے ایسی جگہ لے چل جہاں کوئی نہ ہواپنا پرایا مہرباں نا مہرباں کوئی نہ ہوMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  12. بہ نام کوچۂ دل دار گل برسے کہ سنگ آئےہنسا ہے چاک پیراہن نہ کیوں چہرے پہ رنگ آئےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  13. تجھے کیا سناؤں میں دل ربا ترے سامنے مرا حال ہےتری اک نگاہ کی بات ہے مری زندگی کا سوال ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  14. تقدیر کا شکوہ بے معنی جینا ہی تجھے منظور نہیںآپ اپنا مقدر بن نہ سکے اتنا تو کوئی مجبور نہیںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  15. جب ہوا عرفاں تو غم آرام جاں بنتا گیاسوز جاناں دل میں سوز دیگراں بنتا گیاMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  16. جس دم یہ سنا ہے صبح وطن محبوس فضائے زنداں میںجیسے کہ صبا اے ہم قفسو بیتاب ہم آئے زنداں میںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  17. جلا کے مشعل جاں ہم جنوں صفات چلےجو گھر کو آگ لگائے ہمارے ساتھ چلےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  18. جلوۂ گل کا سبب دیدۂ تر ہے کہ نہیںمیری آہوں سے بہاراں کی سحر ہے کہ نہیںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  19. جو سمجھاتے بھی آ کر واعظ برہم تو کیا کرتےہم اس دنیا کے آگے اس جہاں کا غم تو کیا کرتےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  20. چمن ہے مقتل نغمہ اب اور کیا کہیےبس اک سکوت کا عالم جسے نوا کہیےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  21. ختم شور طوفاں تھا دور تھی سیاہی بھیدم کے دم میں افسانہ تھی مری تباہی بھیMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  22. خنجر کی طرح بوئے سمن تیز بہت ہےموسم کی ہوا اب کے جنوں خیز بہت ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  23. دست پر خوں کو کف دست نگاراں سمجھےقتل گہہ تھی جسے ہم محفل یاراں سمجھےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  24. دست منعم مری محنت کا خریدار سہیکوئی دن اور میں رسوا سر بازار سہیMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  25. دشمن کی دوستی ہے اب اہل وطن کے ساتھہے اب خزاں چمن میں نئے پیرہن کے ساتھMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  26. دل پریشان ہے رات ویران ہے دیکھ جا کس طرح آج تنہا ہیں ہمچین کیسا جو پہلو میں تو ہی نہیں مار ڈالے نہ درد جدائی کہیںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  27. دور دور مجھ سے وہ اس طرح خراماں ہےہر قدم ہے نقش دل ہر نگہ رگ جاں ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  28. ڈرا کے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کویہی تو ہیں جو ڈبویا کئے سفینوں کوMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  29. رہتے تھے کبھی جن کے دل میں ہم جان سے بھی پیاروں کی طرحبیٹھے ہیں انہی کے کوچے میں ہم آج گنہ گاروں کی طرحMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  30. سوئے مقتل کہ پئے سیر چمن جاتے ہیںاہل دل جام بہ کف سر بہ کفن جاتے ہیںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  31. کسی نے بھی تو نہ دیکھا نگاہ بھر کے مجھےگیا پھر آج کا دن بھی اداس کر کے مجھےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  32. کوئی ہم دم نہ رہا کوئی سہارا نہ رہاہم کسی کے نہ رہے کوئی ہمارا نہ رہاMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  33. کہیں بے خیال ہو کر یوں ہی چھو لیا کسی نےکئی خواب دیکھ ڈالے یہاں میری بے خودی نےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  34. گو رات مری صبح کی محرم تو نہیں ہےسورج سے ترا رنگ حنا کم تو نہیں ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  35. مجھ سے کہا جبریل جنوں نے یہ بھی وحیٔ الٰہی ہےمذہب تو بس مذہب دل ہے باقی سب گمراہی ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  36. مجھے سہل ہو گئیں منزلیں وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئےترا ہاتھ ہاتھ میں آ گیا کہ چراغ راہ میں جل گئےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  37. مرے پیچھے یہ تو محال ہے کہ زمانہ گرم سفر نہ ہوکہ نہیں مرا کوئی نقش پا جو چراغ راہ گزر نہ ہوMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  38. مسرتوں کو یہ اہل ہوس نہ کھو دیتےجو ہر خوشی میں ترے غم کو بھی سمو دیتےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  39. نگاہ ساقیٔ نامہرباں یہ کیا جانےکہ ٹوٹ جاتے ہیں خود دل کے ساتھ پیمانےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  40. وہ تو گیا یہ دیدۂ خوں بار دیکھیےدامن پہ رنگ پیرہن یار دیکھیےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  41. وہ جس پہ تمہیں شمع‌ سر رہ کا گماں ہےوہ شعلۂ آوارہ ہماری ہی زباں ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  42. ہمارے بعد اب محفل میں افسانے بیاں ہوں گےبہاریں ہم کو ڈھونڈھیں گی نہ جانے ہم کہاں ہوں گےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  43. ہم کو جنوں کیا سکھلاتے ہو ہم تھے پریشاں تم سے زیادہچاک کئے ہیں ہم نے عزیزو چار گریباں تم سے زیادہMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  44. ہم ہیں متاع کوچہ و بازار کی طرحاٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرحMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  45. ہمیں شعور جنوں ہے کہ جس چمن میں رہےنگاہ بن کے حسینوں کی انجمن میں رہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  46. ہوں جو سارے دست و پا ہیں خوں میں نہلائے ہوئےہم بھی ہیں اے دل بہاراں کی قسم کھائے ہوئےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  47. یوں تو آپس میں بگڑتے ہیں خفا ہوتے ہیںملنے والے کہیں الفت میں جدا ہوتے ہیںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  48. یہ رکے رکے سے آنسو یہ دبی دبی سی آہیںیوں ہی کب تلک خدایا غم زندگی نباہیںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  49. اب سوچتے ہیں لائیں گے تجھ سا کہاں سے ہماٹھنے کو اٹھ تو آئے ترے آستاں سے ہمMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  50. اشکوں میں رنگ و بوئے چمن دور تک ملےجس دم اسیر ہو کے چلے گلستاں سے ہمMajrooh Sultanpuri (1919–2000)