Poetry
- آبلہ پا کوئی گزرا تھا جو پچھلے سن میںسرخ کانٹوں کی بہار آئی ہے اب کے بن میںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- آخر غم جاناں کو اے دل بڑھ کر غم دوراں ہونا تھااس قطرے کو بننا تھا دریا اس موج کو طوفاں ہونا تھاMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- آ نکل کے میداں میں دو رخی کے خانے سےکام چل نہیں سکتا اب کسی بہانے سےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- آہ جاں سوز کی محرومی تاثیر نہ دیکھہو ہی جائے گی کوئی جینے کی تدبیر نہ دیکھMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- آ ہی جائے گی سحر مطلع امکاں تو کھلانہ سہی باب قفس روزن زنداں تو کھلاMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- اب اہل درد یہ جینے کا اہتمام کریںاسے بھلا کے غم زندگی کا نام کریںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- اٹھائے جا ان کے ستم اور جئے جایوں ہی مسکرائے جا آنسو پئے جاMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- ادائے طول سخن کیا وہ اختیار کرےجو عرض حال بہ طرز نگاہ یار کرےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- اس باغ میں وہ سنگ کے قابل کہا نہ جائےجب تک کسی ثمر کو مرا دل کہا نہ جائےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- اہل طوفاں آؤ دل والوں کا افسانہ کہیںموج کو گیسو بھنور کو چشم جانانہ کہیںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- اے دل مجھے ایسی جگہ لے چل جہاں کوئی نہ ہواپنا پرایا مہرباں نا مہرباں کوئی نہ ہوMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- بہ نام کوچۂ دل دار گل برسے کہ سنگ آئےہنسا ہے چاک پیراہن نہ کیوں چہرے پہ رنگ آئےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- تجھے کیا سناؤں میں دل ربا ترے سامنے مرا حال ہےتری اک نگاہ کی بات ہے مری زندگی کا سوال ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- تقدیر کا شکوہ بے معنی جینا ہی تجھے منظور نہیںآپ اپنا مقدر بن نہ سکے اتنا تو کوئی مجبور نہیںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- جب ہوا عرفاں تو غم آرام جاں بنتا گیاسوز جاناں دل میں سوز دیگراں بنتا گیاMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- جس دم یہ سنا ہے صبح وطن محبوس فضائے زنداں میںجیسے کہ صبا اے ہم قفسو بیتاب ہم آئے زنداں میںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- جلا کے مشعل جاں ہم جنوں صفات چلےجو گھر کو آگ لگائے ہمارے ساتھ چلےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- جلوۂ گل کا سبب دیدۂ تر ہے کہ نہیںمیری آہوں سے بہاراں کی سحر ہے کہ نہیںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- جو سمجھاتے بھی آ کر واعظ برہم تو کیا کرتےہم اس دنیا کے آگے اس جہاں کا غم تو کیا کرتےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- چمن ہے مقتل نغمہ اب اور کیا کہیےبس اک سکوت کا عالم جسے نوا کہیےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- ختم شور طوفاں تھا دور تھی سیاہی بھیدم کے دم میں افسانہ تھی مری تباہی بھیMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- خنجر کی طرح بوئے سمن تیز بہت ہےموسم کی ہوا اب کے جنوں خیز بہت ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- دست پر خوں کو کف دست نگاراں سمجھےقتل گہہ تھی جسے ہم محفل یاراں سمجھےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- دست منعم مری محنت کا خریدار سہیکوئی دن اور میں رسوا سر بازار سہیMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- دشمن کی دوستی ہے اب اہل وطن کے ساتھہے اب خزاں چمن میں نئے پیرہن کے ساتھMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- دل پریشان ہے رات ویران ہے دیکھ جا کس طرح آج تنہا ہیں ہمچین کیسا جو پہلو میں تو ہی نہیں مار ڈالے نہ درد جدائی کہیںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- دور دور مجھ سے وہ اس طرح خراماں ہےہر قدم ہے نقش دل ہر نگہ رگ جاں ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- ڈرا کے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کویہی تو ہیں جو ڈبویا کئے سفینوں کوMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- رہتے تھے کبھی جن کے دل میں ہم جان سے بھی پیاروں کی طرحبیٹھے ہیں انہی کے کوچے میں ہم آج گنہ گاروں کی طرحMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- سوئے مقتل کہ پئے سیر چمن جاتے ہیںاہل دل جام بہ کف سر بہ کفن جاتے ہیںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- کسی نے بھی تو نہ دیکھا نگاہ بھر کے مجھےگیا پھر آج کا دن بھی اداس کر کے مجھےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- کوئی ہم دم نہ رہا کوئی سہارا نہ رہاہم کسی کے نہ رہے کوئی ہمارا نہ رہاMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- کہیں بے خیال ہو کر یوں ہی چھو لیا کسی نےکئی خواب دیکھ ڈالے یہاں میری بے خودی نےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- گو رات مری صبح کی محرم تو نہیں ہےسورج سے ترا رنگ حنا کم تو نہیں ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- مجھ سے کہا جبریل جنوں نے یہ بھی وحیٔ الٰہی ہےمذہب تو بس مذہب دل ہے باقی سب گمراہی ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- مجھے سہل ہو گئیں منزلیں وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئےترا ہاتھ ہاتھ میں آ گیا کہ چراغ راہ میں جل گئےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- مرے پیچھے یہ تو محال ہے کہ زمانہ گرم سفر نہ ہوکہ نہیں مرا کوئی نقش پا جو چراغ راہ گزر نہ ہوMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- مسرتوں کو یہ اہل ہوس نہ کھو دیتےجو ہر خوشی میں ترے غم کو بھی سمو دیتےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- نگاہ ساقیٔ نامہرباں یہ کیا جانےکہ ٹوٹ جاتے ہیں خود دل کے ساتھ پیمانےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- وہ تو گیا یہ دیدۂ خوں بار دیکھیےدامن پہ رنگ پیرہن یار دیکھیےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- وہ جس پہ تمہیں شمع سر رہ کا گماں ہےوہ شعلۂ آوارہ ہماری ہی زباں ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- ہمارے بعد اب محفل میں افسانے بیاں ہوں گےبہاریں ہم کو ڈھونڈھیں گی نہ جانے ہم کہاں ہوں گےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- ہم کو جنوں کیا سکھلاتے ہو ہم تھے پریشاں تم سے زیادہچاک کئے ہیں ہم نے عزیزو چار گریباں تم سے زیادہMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- ہم ہیں متاع کوچہ و بازار کی طرحاٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرحMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- ہمیں شعور جنوں ہے کہ جس چمن میں رہےنگاہ بن کے حسینوں کی انجمن میں رہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- ہوں جو سارے دست و پا ہیں خوں میں نہلائے ہوئےہم بھی ہیں اے دل بہاراں کی قسم کھائے ہوئےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- یوں تو آپس میں بگڑتے ہیں خفا ہوتے ہیںملنے والے کہیں الفت میں جدا ہوتے ہیںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- یہ رکے رکے سے آنسو یہ دبی دبی سی آہیںیوں ہی کب تلک خدایا غم زندگی نباہیںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- اب سوچتے ہیں لائیں گے تجھ سا کہاں سے ہماٹھنے کو اٹھ تو آئے ترے آستاں سے ہمMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- اشکوں میں رنگ و بوئے چمن دور تک ملےجس دم اسیر ہو کے چلے گلستاں سے ہمMajrooh Sultanpuri (1919–2000)