Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آتا ہوں جب اس گلی سے سو سو خواری کھینچ کرپھر وہیں لے جائے مجھ کو بے قراری کھینچ کرحسرت عظیم آبادی
  2. آشنا کب ہو ہے یہ ذکر دل شاد کے ساتھلب کو نسبت ہے مرے زمزمۂ داد کے ساتھحسرت عظیم آبادی
  3. آئے ہیں ہم جہاں میں غم لے کردل پر خوں و چشم نم لے کرحسرت عظیم آبادی
  4. اب تجھ سے پھرا یہ دل ناکام ہمارااس کوچے میں کم ہی رہے گا کام ہماراحسرت عظیم آبادی
  5. اس زلف سے دل ہو کر آزاد بہت رویایہ سلسلۂ الفت کر یاد بہت رویاحسرت عظیم آبادی
  6. ان دونوں گھر کا خانہ خدا کون غیر ہےشیخ حرم عبث تھے انکار دیر ہےحسرت عظیم آبادی
  7. ایک دم خشک مرا دیدۂ تر ہے کہ نہیںماجرے سے مرے تجھ کو بھی خبر ہے کہ نہیںحسرت عظیم آبادی
  8. بے وفا گو ملے نہ تو مجھ کوبس ہے تیری یہ آرزو مجھ کوحسرت عظیم آبادی
  9. پھری سی دیکھتا ہوں اس چمن کی کچھ ہوا بلبلتجھے فرصت ہے جب تک آشیاں یاں سے اٹھا بلبلحسرت عظیم آبادی
  10. جان کر کہتا ہے ہم سے اپنے جانے کی خبرجی ڈوبا دیتی ہے میرا یہ بہانے کی خبرحسرت عظیم آبادی
  11. جس کا میسر نہ تھا بھر کے نظر دیکھناکہتا ہے خط آئے پر ٹک تو ادھر دیکھناحسرت عظیم آبادی
  12. جو ہمیں چاہے اس کے چاکر ہیںیار شاطر نہ بار خاطر ہیںحسرت عظیم آبادی
  13. چاہے سو ہمیں کر تو گنہ گار ہیں تیرےتقدیر تھی اپنی کہ گرفتار ہیں تیرےحسرت عظیم آبادی
  14. حسن کو اس کے خط کا داغ لگاپر ہمیں تو بہار و باغ لگاحسرت عظیم آبادی
  15. دامن ہے میرا دشت کا دامان دوسرامیری طرح نہ پھاڑے گریبان دوسراحسرت عظیم آبادی
  16. دل نے پایا جو مرے مژدہ تری پاتی کامنہ پھرا سوئے بدن جان بلب آتی کاحسرت عظیم آبادی
  17. دیکھیں تجھے نہ آویں گے ہمکہنا نہیں کر دکھاویں گے ہمحسرت عظیم آبادی
  18. راہ رستے میں تو یوں رہتا ہے آ کر ہم سے ملکم گیا لیکن وہ یار خانگی گھر ہم سے ملحسرت عظیم آبادی
  19. رکھا پا جہاں میں نگارا زمیں پربہت سر کو واں ہم نے مارا زمیں پرحسرت عظیم آبادی
  20. ساقی ہیں روز نو بہار یک دو سہ چار پنج و ششدے مجھے جام خوش گوار یک دو سہ چار پنج و ششحسرت عظیم آبادی
  21. سینہ تو ڈھونڈ لیا متصل اپنا ہم نےنہیں معلوم دیا کس کو دل اپنا ہم نےحسرت عظیم آبادی
  22. عزیزو تم نہ کچھ اس کو کہو ہوا سو ہوانپٹ ہی تند ہے ظالم کی خو ہوا سو ہواحسرت عظیم آبادی
  23. عشق میں گل کے جو نالاں بلبل غم ناک ہےگل بھی اس کے غم میں دیکھو کیا گریباں چاک ہےحسرت عظیم آبادی
  24. قاصد خوش فال لایا اس کے آنے کی خبردل تو خوش کرتا ہے بارے یہ بہانے کی خبرحسرت عظیم آبادی
  25. کب تلک پیوے گا تو تر دامنوں سے مل کے ملایک دم اے غنچہ لب ہم سے کبھی تو کھل کے کھلحسرت عظیم آبادی
  26. کب تلک ہم کو نہ آوے گا نظر دیکھیں توکیسے ترساتا ہے یہ دیدۂ تر دیکھیں توحسرت عظیم آبادی
  27. کرے عاشق پہ وہ بیداد جتنا اس کا جی چاہےرکھے دل کو مرے ناشاد جتنا اس کا جی چاہےحسرت عظیم آبادی
  28. کیا کہوں تجھ سے مری جان میں شب کا احوالتجھ پہ روشن ہے دل وصل طلب کا احوالحسرت عظیم آبادی
  29. گر عشق سے واقف مرے محبوب نہ ہوتاہوتا نہ میں مہجور وہ محجوب نہ ہوتاحسرت عظیم آبادی
  30. میری اس پیاری جھب سے آنکھ لگیاس سراپا عجب سے آنکھ لگیحسرت عظیم آبادی
  31. نہ چھٹا ہاتھ سے یک لحظہ گریباں میراچشم تر ہی پہ رہا گوشۂ داماں میراحسرت عظیم آبادی
  32. نہ غرض ننگ سے رکھتے ہیں نہ کچھ نام سے کامخواریٔ عشق میں اپنی ہے ہمیں کام سے کامحسرت عظیم آبادی
  33. وفا کے ہیں خوان پر نوالے ز آب اول دوم بہ آتشبھرے ہے ساقی یہاں پیالے ز آب اول دوم بہ آتشحسرت عظیم آبادی
  34. ہر طرف ہے اس سے میرے دل کے لگ جانے میں دھومبلبل و گل میں ہے چہ چہ شمع و پروانے میں دھومحسرت عظیم آبادی
  35. ہر گھڑی مت روٹھ اس سے پھیر پل میں مل نہ جاگر بھلا مانس ہے اس کوچہ میں تو اے دل نہ جاحسرت عظیم آبادی
  36. ہم آپ کو تو عشق میں برباد کریں گےتاثیر وفا پر تجھے کیا یاد کریں گےحسرت عظیم آبادی
  37. ہم عشق سوا کم ہیں کسی نام سے واقفنہ کفر کے محرم ہیں نہ اسلام سے واقفحسرت عظیم آبادی
  38. ہے رشک وصل سے غم دل دار ہی بھلاراحت سے ایسی ہم کو وو دل آزار ہی بھلاحسرت عظیم آبادی
  39. ہے یاد تجھ سے میرا وہ شرح حال دینااور سن کے تیرا اس کو ہنس ہنس کے ٹال دیناحسرت عظیم آبادی
  40. یا الٰہی مرا دل دار سلامت باشدوہ ولی نعمت دیدار سلامت باشدحسرت عظیم آبادی
  41. یار ابتدائے عشق سے بے زار ہی رہابے درد دل کے در پئے آزار ہی رہاحسرت عظیم آبادی
  42. کم تر یا بیشتر گئے ہماس در سے بہ چشم نم گئے ہمحسرت عظیم آبادی