Poetry
- آتا ہوں جب اس گلی سے سو سو خواری کھینچ کرپھر وہیں لے جائے مجھ کو بے قراری کھینچ کرحسرت عظیم آبادی
- آشنا کب ہو ہے یہ ذکر دل شاد کے ساتھلب کو نسبت ہے مرے زمزمۂ داد کے ساتھحسرت عظیم آبادی
- آئے ہیں ہم جہاں میں غم لے کردل پر خوں و چشم نم لے کرحسرت عظیم آبادی
- اب تجھ سے پھرا یہ دل ناکام ہمارااس کوچے میں کم ہی رہے گا کام ہماراحسرت عظیم آبادی
- اس زلف سے دل ہو کر آزاد بہت رویایہ سلسلۂ الفت کر یاد بہت رویاحسرت عظیم آبادی
- ان دونوں گھر کا خانہ خدا کون غیر ہےشیخ حرم عبث تھے انکار دیر ہےحسرت عظیم آبادی
- ایک دم خشک مرا دیدۂ تر ہے کہ نہیںماجرے سے مرے تجھ کو بھی خبر ہے کہ نہیںحسرت عظیم آبادی
- بے وفا گو ملے نہ تو مجھ کوبس ہے تیری یہ آرزو مجھ کوحسرت عظیم آبادی
- پھری سی دیکھتا ہوں اس چمن کی کچھ ہوا بلبلتجھے فرصت ہے جب تک آشیاں یاں سے اٹھا بلبلحسرت عظیم آبادی
- جان کر کہتا ہے ہم سے اپنے جانے کی خبرجی ڈوبا دیتی ہے میرا یہ بہانے کی خبرحسرت عظیم آبادی
- جس کا میسر نہ تھا بھر کے نظر دیکھناکہتا ہے خط آئے پر ٹک تو ادھر دیکھناحسرت عظیم آبادی
- جو ہمیں چاہے اس کے چاکر ہیںیار شاطر نہ بار خاطر ہیںحسرت عظیم آبادی
- چاہے سو ہمیں کر تو گنہ گار ہیں تیرےتقدیر تھی اپنی کہ گرفتار ہیں تیرےحسرت عظیم آبادی
- حسن کو اس کے خط کا داغ لگاپر ہمیں تو بہار و باغ لگاحسرت عظیم آبادی
- دامن ہے میرا دشت کا دامان دوسرامیری طرح نہ پھاڑے گریبان دوسراحسرت عظیم آبادی
- دل نے پایا جو مرے مژدہ تری پاتی کامنہ پھرا سوئے بدن جان بلب آتی کاحسرت عظیم آبادی
- دیکھیں تجھے نہ آویں گے ہمکہنا نہیں کر دکھاویں گے ہمحسرت عظیم آبادی
- راہ رستے میں تو یوں رہتا ہے آ کر ہم سے ملکم گیا لیکن وہ یار خانگی گھر ہم سے ملحسرت عظیم آبادی
- رکھا پا جہاں میں نگارا زمیں پربہت سر کو واں ہم نے مارا زمیں پرحسرت عظیم آبادی
- ساقی ہیں روز نو بہار یک دو سہ چار پنج و ششدے مجھے جام خوش گوار یک دو سہ چار پنج و ششحسرت عظیم آبادی
- سینہ تو ڈھونڈ لیا متصل اپنا ہم نےنہیں معلوم دیا کس کو دل اپنا ہم نےحسرت عظیم آبادی
- عزیزو تم نہ کچھ اس کو کہو ہوا سو ہوانپٹ ہی تند ہے ظالم کی خو ہوا سو ہواحسرت عظیم آبادی
- عشق میں گل کے جو نالاں بلبل غم ناک ہےگل بھی اس کے غم میں دیکھو کیا گریباں چاک ہےحسرت عظیم آبادی
- قاصد خوش فال لایا اس کے آنے کی خبردل تو خوش کرتا ہے بارے یہ بہانے کی خبرحسرت عظیم آبادی
- کب تلک پیوے گا تو تر دامنوں سے مل کے ملایک دم اے غنچہ لب ہم سے کبھی تو کھل کے کھلحسرت عظیم آبادی
- کب تلک ہم کو نہ آوے گا نظر دیکھیں توکیسے ترساتا ہے یہ دیدۂ تر دیکھیں توحسرت عظیم آبادی
- کرے عاشق پہ وہ بیداد جتنا اس کا جی چاہےرکھے دل کو مرے ناشاد جتنا اس کا جی چاہےحسرت عظیم آبادی
- کیا کہوں تجھ سے مری جان میں شب کا احوالتجھ پہ روشن ہے دل وصل طلب کا احوالحسرت عظیم آبادی
- گر عشق سے واقف مرے محبوب نہ ہوتاہوتا نہ میں مہجور وہ محجوب نہ ہوتاحسرت عظیم آبادی
- میری اس پیاری جھب سے آنکھ لگیاس سراپا عجب سے آنکھ لگیحسرت عظیم آبادی
- نہ چھٹا ہاتھ سے یک لحظہ گریباں میراچشم تر ہی پہ رہا گوشۂ داماں میراحسرت عظیم آبادی
- نہ غرض ننگ سے رکھتے ہیں نہ کچھ نام سے کامخواریٔ عشق میں اپنی ہے ہمیں کام سے کامحسرت عظیم آبادی
- وفا کے ہیں خوان پر نوالے ز آب اول دوم بہ آتشبھرے ہے ساقی یہاں پیالے ز آب اول دوم بہ آتشحسرت عظیم آبادی
- ہر طرف ہے اس سے میرے دل کے لگ جانے میں دھومبلبل و گل میں ہے چہ چہ شمع و پروانے میں دھومحسرت عظیم آبادی
- ہر گھڑی مت روٹھ اس سے پھیر پل میں مل نہ جاگر بھلا مانس ہے اس کوچہ میں تو اے دل نہ جاحسرت عظیم آبادی
- ہم آپ کو تو عشق میں برباد کریں گےتاثیر وفا پر تجھے کیا یاد کریں گےحسرت عظیم آبادی
- ہم عشق سوا کم ہیں کسی نام سے واقفنہ کفر کے محرم ہیں نہ اسلام سے واقفحسرت عظیم آبادی
- ہے رشک وصل سے غم دل دار ہی بھلاراحت سے ایسی ہم کو وو دل آزار ہی بھلاحسرت عظیم آبادی
- ہے یاد تجھ سے میرا وہ شرح حال دینااور سن کے تیرا اس کو ہنس ہنس کے ٹال دیناحسرت عظیم آبادی
- یا الٰہی مرا دل دار سلامت باشدوہ ولی نعمت دیدار سلامت باشدحسرت عظیم آبادی
- یار ابتدائے عشق سے بے زار ہی رہابے درد دل کے در پئے آزار ہی رہاحسرت عظیم آبادی
- کم تر یا بیشتر گئے ہماس در سے بہ چشم نم گئے ہمحسرت عظیم آبادی