Poetry
- اب تلک تند ہواؤں کا اثر باقی ہےاک چراغ اور سر راہ گزر باقی ہےHabab Hashmi
- اب مصر میں کہاں کوئی بازار معتبریوسف ہی معتبر نہ خریدار معتبرHabab Hashmi
- امید و بیم کے عالم میں دل دہلتا ہےوہ آتے آتے کئی راستے بدلتا ہےHabab Hashmi
- تصور میں بہت کیں انجمن آرائیاں ہم نےسلیقے سے گزاریں اس طرح تنہائیاں ہم نےHabab Hashmi
- جب اس سے ترک ملاقات کا ارادہ کیاتب اس نے دامن دل کو ذرا کشادہ کیاHabab Hashmi
- جذبۂ شوق نے یوں داد وفا پائی ہےکھنچ کے منزل مرے قدموں میں چلی آئی ہےHabab Hashmi
- حد جنوں سے بھی آگے گئے ہیں دیوانےملے گی منزل مقصود کب خدا جانےHabab Hashmi
- خود پہ وہ فخر کناں کیسا ہےاس کو اپنے پہ گماں کیسا ہےHabab Hashmi
- زندگی اک وبال ہے صاحباب تو جینا محال ہے صاحبHabab Hashmi
- سنی سنائی وہ آواز مر ہی جانے دوصدی کا غم ہے تو لمحے بکھر ہی جانے دوHabab Hashmi
- سوز و گداز و جذب و اثر کون لے گیاہم سے متاع درد جگر کون لے گیاHabab Hashmi
- کبھی ہمارے لئے تیغ بے نیام کروجو داستاں ہے تمہاری اسے تمام کروHabab Hashmi
- کسے بتائیں کہ زاد سفر گیا کب کارہا ہی کیا ہے غم معتبر گیا کب کاHabab Hashmi
- کہاں وہ سیم تناں ہیں کہاں وہ گل بدناںعزیز از دل و جاں ہے حدیث لالہ رخاںHabab Hashmi
- کیا ہوا رنگینیٔ صبح و مسا باقی نہیںاپنے ہی گھر میں وہ پہلی سی فضا باقی نہیںHabab Hashmi
- مری خاطر کوئی نامہ کوئی پیغام تو ہودل مضطر کو کسی طور سے آرام تو ہوHabab Hashmi