Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. جب خاک اڑاتا ہوا نیندوں کا سفر ہوپھر کیوں نہ کسی اور ہی دنیا سے گزر ہوFaisal Hashmi
  2. ترے نشان کو چنتا ہوا میں گلیوں میںنکل گیا ہوں بہت دور ایسے رستوں پرFaisal Hashmi
  3. جو چلتا ہے تو قدموں کی کوئی آہٹ نہیں ہوتیتلاش فرق نیک و بد کی خواہش کو لیے دل میںFaisal Hashmi
  4. جو راہ چھوٹ گئی تھیاسی کا اک کوناFaisal Hashmi
  5. خواب چنتی ہوئی آنکھیں ہیں پرندوں کی طرحاور یہ جسم کہ جیسے کوئی بے برگ شجرFaisal Hashmi
  6. دور تک پھیلے ہوئے ایک گھنے جنگل میںدو شجر کھینچ کے سایوں کو جہاں ملتے ہیںFaisal Hashmi
  7. دیکھتے دیکھتے سب دھند میں تحلیل ہوئےدشت کہسار فلک آب نباتات سبھیFaisal Hashmi
  8. رات کی راہ سے ہٹ کر کسی غم خانے سےچاند چپکے سے نکل آیا تھاFaisal Hashmi
  9. کسی بھی موڑ پہ رک کر جو پیچھے دیکھا ہےتو ایک یاد ملی آنسوؤں میں بھیگی ہوئیFaisal Hashmi
  10. میں اپنے جسم سے باہر نکل کے دیکھوں گایہ کائنات مجھے کس طرح کی لگتی ہےFaisal Hashmi
  11. میں کہ گفتار کا ماہر تھا جہاں دیدہ تھالوگ سنتے تھے مری اور سناتے بھی تھےFaisal Hashmi
  12. یہ ممکن ہےکہ میں تم کو نہ یاد آؤںFaisal Hashmi
  13. اندھیرے دوڑتے ہیں رات کی ویران آنکھوں میںچراغوں کی جڑوں سے روشنی کا خون رستا ہےFaisal Hashmi
  14. بادلوں کے خون سے چپکی ہوئی اس شام میںاڑ رہے تھےFaisal Hashmi
  15. پہاڑوں میں گھری وادی کی بلکھاتی ہوئی سڑکیںگزرتے موڑ پر جھکتی ہوئی شاخوں سے پوچھیں گیFaisal Hashmi
  16. جسم کی آگ کہاں بجھتی ہےلوگ کس وقت محبت کا نشہ سونگھتے ہیںFaisal Hashmi
  17. تمہیں معلوم ہے جب بھیپرانے یارFaisal Hashmi
  18. جسم بے جان ہے پتھر سی بنی ہیں آنکھیںاور اک خوف کا ملبوس پہن کر کوئیFaisal Hashmi
  19. روز اس آس پہ دروازہ کھلا رکھتا ہوںشاید آ جائے وہ چپکے سے کبھی اس جانبFaisal Hashmi
  20. کوئی ذی روح نہ تھااطراف میں ویرانی تھیFaisal Hashmi
  21. میں یہی سوچ کےکل رات نہیں سویا اگرFaisal Hashmi