Poetry
- جب خاک اڑاتا ہوا نیندوں کا سفر ہوپھر کیوں نہ کسی اور ہی دنیا سے گزر ہوFaisal Hashmi
- ترے نشان کو چنتا ہوا میں گلیوں میںنکل گیا ہوں بہت دور ایسے رستوں پرFaisal Hashmi
- جو چلتا ہے تو قدموں کی کوئی آہٹ نہیں ہوتیتلاش فرق نیک و بد کی خواہش کو لیے دل میںFaisal Hashmi
- جو راہ چھوٹ گئی تھیاسی کا اک کوناFaisal Hashmi
- خواب چنتی ہوئی آنکھیں ہیں پرندوں کی طرحاور یہ جسم کہ جیسے کوئی بے برگ شجرFaisal Hashmi
- دور تک پھیلے ہوئے ایک گھنے جنگل میںدو شجر کھینچ کے سایوں کو جہاں ملتے ہیںFaisal Hashmi
- دیکھتے دیکھتے سب دھند میں تحلیل ہوئےدشت کہسار فلک آب نباتات سبھیFaisal Hashmi
- رات کی راہ سے ہٹ کر کسی غم خانے سےچاند چپکے سے نکل آیا تھاFaisal Hashmi
- کسی بھی موڑ پہ رک کر جو پیچھے دیکھا ہےتو ایک یاد ملی آنسوؤں میں بھیگی ہوئیFaisal Hashmi
- میں اپنے جسم سے باہر نکل کے دیکھوں گایہ کائنات مجھے کس طرح کی لگتی ہےFaisal Hashmi
- میں کہ گفتار کا ماہر تھا جہاں دیدہ تھالوگ سنتے تھے مری اور سناتے بھی تھےFaisal Hashmi
- یہ ممکن ہےکہ میں تم کو نہ یاد آؤںFaisal Hashmi
- اندھیرے دوڑتے ہیں رات کی ویران آنکھوں میںچراغوں کی جڑوں سے روشنی کا خون رستا ہےFaisal Hashmi
- بادلوں کے خون سے چپکی ہوئی اس شام میںاڑ رہے تھےFaisal Hashmi
- پہاڑوں میں گھری وادی کی بلکھاتی ہوئی سڑکیںگزرتے موڑ پر جھکتی ہوئی شاخوں سے پوچھیں گیFaisal Hashmi
- جسم کی آگ کہاں بجھتی ہےلوگ کس وقت محبت کا نشہ سونگھتے ہیںFaisal Hashmi
- تمہیں معلوم ہے جب بھیپرانے یارFaisal Hashmi
- جسم بے جان ہے پتھر سی بنی ہیں آنکھیںاور اک خوف کا ملبوس پہن کر کوئیFaisal Hashmi
- روز اس آس پہ دروازہ کھلا رکھتا ہوںشاید آ جائے وہ چپکے سے کبھی اس جانبFaisal Hashmi
- کوئی ذی روح نہ تھااطراف میں ویرانی تھیFaisal Hashmi
- میں یہی سوچ کےکل رات نہیں سویا اگرFaisal Hashmi