Poetry
- آتشیں لہر نہ برفاب میں رکھی جائےشب غنودہ مرے اعصاب میں رکھی جائےDaniyal Tareer (1980–2015)
- آگ میں جلتے ہوئے دیکھا گیا ہےآسماں گلتے ہوئے دیکھا گیا ہےDaniyal Tareer (1980–2015)
- اجالا ہی اجالا روشنی ہی روشنی ہےاندھیرے میں جو تیری آنکھ مجھ کو دیکھتی ہےDaniyal Tareer (1980–2015)
- ایک بجھاؤ ایک جلاؤ خواب کا کیا ہےآنکھوں میں رکھ کر سو جاؤ خواب کا کیا ہےDaniyal Tareer (1980–2015)
- بدن پر ٹانک کر تارے اڑایا جا رہا ہےمجھے آخر پرندہ کیوں بنایا جا رہا ہےDaniyal Tareer (1980–2015)
- بلا جواز نہیں ہے فلک سے جنگ مریاٹک گئی ہے ستارے میں اک پتنگ مریDaniyal Tareer (1980–2015)
- بہ طرز خواب سجانی پڑی ہے آخر کارنئی زمین بنانی پڑی ہے آخر کارDaniyal Tareer (1980–2015)
- پانی کے شیشوں میں رکھی جاتی ہےسندرتا جھیلوں میں رکھی جاتی ہےDaniyal Tareer (1980–2015)
- تسلسل سے گماں لکھا گیا ہےیقیں تو ناگہاں لکھا گیا ہےDaniyal Tareer (1980–2015)
- جرس اور ساربانوں تک پہنچنا چاہتا ہےیہ دل اگلے زمانوں تک پہنچنا چاہتا ہےDaniyal Tareer (1980–2015)
- چاند چھونے کی طلب گار نہیں ہو سکتیکیا مری خاک چمکدار نہیں ہو سکتیDaniyal Tareer (1980–2015)
- خاموشی کی قرأت کرنے والے لوگابو جی اور سارے مرنے والے لوگDaniyal Tareer (1980–2015)
- خواب جزیرہ بن سکتے تھے نہیں بنےہم بھی قصہ بن سکتے تھے نہیں بنےDaniyal Tareer (1980–2015)
- خواب کاری وہی کمخواب وہی ہے کہ نہیںشعر کا حسن ابد تاب وہی ہے کہ نہیںDaniyal Tareer (1980–2015)
- رنگ اور نور کی تمثیل سے ہوگا کہ نہیںشب کا ماتم مری قندیل سے ہوگا کہ نہیںDaniyal Tareer (1980–2015)
- ریت مٹھی میں بھری پانی سے آغاز کیاسخت مشکل میں تھا آسانی سے آغاز کیاDaniyal Tareer (1980–2015)
- ساکت ہو مگر سب کو روانی نظر آئےاس ریت کے صدقے کہ جو پانی نظر آئےDaniyal Tareer (1980–2015)
- کھنڈر یہ پھر بسانے کا ارادہ ہی نہیں تھابدن میں لوٹ آنے کا ارادہ ہی نہیں تھاDaniyal Tareer (1980–2015)
- گماں اندر گماں کی کیفیت ہےزمیں پر آسماں کی کیفیت ہےDaniyal Tareer (1980–2015)
- گیا کہ سیل رواں کا بہاؤ ایسا تھاوہ ایک خواب جو کاغذ کی ناؤ ایسا تھاDaniyal Tareer (1980–2015)
- مٹی تھا اور دودھ میں گوندھا گیا مجھےاک چاند کے وجود میں گوندھا گیا مجھےDaniyal Tareer (1980–2015)
- نئی نئی صورتیں بدن پر اجالتا ہوںلہو سے کیسے عجیب منظر نکالتا ہوںDaniyal Tareer (1980–2015)
- حرفوں کی ترتیب الٹ کرکان کو ناک بنا سکتا ہوںDaniyal Tareer (1980–2015)
- گڑیا! بولوگڑیا! اپنی آنکھیں کھولوDaniyal Tareer (1980–2015)
- نظم کہوگےکہہ لوگے کیا؟Daniyal Tareer (1980–2015)
- ہوا نے سانس لیا تھاابھی کہانی میںDaniyal Tareer (1980–2015)
- چیخنا ہے مجھےاس زمیں پرDaniyal Tareer (1980–2015)
- کہاں پر لفظ لکھ کر فاصلہ دیناکہاں کومہ لگانا ہےDaniyal Tareer (1980–2015)
- نہیں میں نہیں ہوںکسی دوسرے نے مجھے ''میں'' کہا ہےDaniyal Tareer (1980–2015)
- وقت اور نا وقت کے مابینکتنا فاصلہDaniyal Tareer (1980–2015)
- ہمارے غم جدا تھےقریۂ دل کی فضا آب و ہواDaniyal Tareer (1980–2015)