Poetry
- اب نہیں کوئی مرے دل کو دکھانے والایاد آتا ہے بہت روٹھ کے جانے والاDanish Aligarhi (b. 1931)
- اک ستاروں بھرا آسماں ہو گئےاب خدا کی قسم تم جواں ہو گئےDanish Aligarhi (b. 1931)
- تم نے جب زلف پریشاں کو سنوارا ہوگاصدقۂ حسن گھٹاؤں نے اتارا ہوگاDanish Aligarhi (b. 1931)
- جیسے اس بستی سے ناراض خدا لگتا ہےاپنا ہی گاؤں مجھے آج برا لگتا ہےDanish Aligarhi (b. 1931)
- خشک آنکھوں میں بہت ہیں ابھی آنسو باقیپھول سوکھے ہیں مگر ان میں ہے خوشبو باقیDanish Aligarhi (b. 1931)
- خوشی کا نام سنا ہے مگر خوشی کیا ہےترے بغیر جو گزرے وہ زندگی کیا ہےDanish Aligarhi (b. 1931)
- ذرے ذرے میں مہک پیار کی ڈالی جائےبو تعصب کی ہر اک دل سے نکالی جائےDanish Aligarhi (b. 1931)
- زندگی کر گئی طوفاں کے حوالے مجھ کواے اجل کشمکش غم سے چھڑا لے مجھ کوDanish Aligarhi (b. 1931)
- شرم سے اس نے نگاہوں کو ملانے نہ دیاضبط نے حال دل زار سنانے نہ دیاDanish Aligarhi (b. 1931)
- ظالم سے محبت کا صلہ مانگ رہے ہیںنادان ہیں پتھر سے وفا مانگ رہے ہیںDanish Aligarhi (b. 1931)
- عجیب قید لگائی ہے تم نے پیار کے ساتھخزاں نصیب رہوں رہ کے میں بہار کے ساتھDanish Aligarhi (b. 1931)
- قریب تم ہو تو ہر اک سے دوستی سی لگےجو تم ہو دور تو ذات اپنی اجنبی سی لگےDanish Aligarhi (b. 1931)
- کیا خبر تھی منحرف اہل جہاں ہو جائیں گےہوتے ہوتے مہرباں نا مہرباں ہو جائیں گےDanish Aligarhi (b. 1931)
- واعظ تو اگر ان کے کوچے سے گزر جائےفردوس کا منظر بھی نظروں سے اتر جائےDanish Aligarhi (b. 1931)
- ہنگامہ کس لیے ہے بپا تیرے شہر میںکیا پھر کوئی غریب لٹا تیرے شہر میںDanish Aligarhi (b. 1931)
- یہ کیسے کہہ دوں کہ کچھ تم سے واسطہ ہی نہیںبچھڑ کے تم سے کہیں اور دل لگا ہی نہیںDanish Aligarhi (b. 1931)
- تیرے فراق نے کی زندگی عطا مجھ کوتیرا وصال جو ملتا تو مر گیا ہوتاDanish Aligarhi (b. 1931)