Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اب نہیں کوئی مرے دل کو دکھانے والایاد آتا ہے بہت روٹھ کے جانے والاDanish Aligarhi (b. 1931)
  2. اک ستاروں بھرا آسماں ہو گئےاب خدا کی قسم تم جواں ہو گئےDanish Aligarhi (b. 1931)
  3. تم نے جب زلف پریشاں کو سنوارا ہوگاصدقۂ حسن گھٹاؤں نے اتارا ہوگاDanish Aligarhi (b. 1931)
  4. جیسے اس بستی سے ناراض خدا لگتا ہےاپنا ہی گاؤں مجھے آج برا لگتا ہےDanish Aligarhi (b. 1931)
  5. خشک آنکھوں میں بہت ہیں ابھی آنسو باقیپھول سوکھے ہیں مگر ان میں ہے خوشبو باقیDanish Aligarhi (b. 1931)
  6. خوشی کا نام سنا ہے مگر خوشی کیا ہےترے بغیر جو گزرے وہ زندگی کیا ہےDanish Aligarhi (b. 1931)
  7. ذرے ذرے میں مہک پیار کی ڈالی جائےبو تعصب کی ہر اک دل سے نکالی جائےDanish Aligarhi (b. 1931)
  8. زندگی کر گئی طوفاں کے حوالے مجھ کواے اجل کشمکش غم سے چھڑا لے مجھ کوDanish Aligarhi (b. 1931)
  9. شرم سے اس نے نگاہوں کو ملانے نہ دیاضبط نے حال دل زار سنانے نہ دیاDanish Aligarhi (b. 1931)
  10. ظالم سے محبت کا صلہ مانگ رہے ہیںنادان ہیں پتھر سے وفا مانگ رہے ہیںDanish Aligarhi (b. 1931)
  11. عجیب قید لگائی ہے تم نے پیار کے ساتھخزاں نصیب رہوں رہ کے میں بہار کے ساتھDanish Aligarhi (b. 1931)
  12. قریب تم ہو تو ہر اک سے دوستی سی لگےجو تم ہو دور تو ذات اپنی اجنبی سی لگےDanish Aligarhi (b. 1931)
  13. کیا خبر تھی منحرف اہل جہاں ہو جائیں گےہوتے ہوتے مہرباں نا مہرباں ہو جائیں گےDanish Aligarhi (b. 1931)
  14. واعظ تو اگر ان کے کوچے سے گزر جائےفردوس کا منظر بھی نظروں سے اتر جائےDanish Aligarhi (b. 1931)
  15. ہنگامہ کس لیے ہے بپا تیرے شہر میںکیا پھر کوئی غریب لٹا تیرے شہر میںDanish Aligarhi (b. 1931)
  16. یہ کیسے کہہ دوں کہ کچھ تم سے واسطہ ہی نہیںبچھڑ کے تم سے کہیں اور دل لگا ہی نہیںDanish Aligarhi (b. 1931)
  17. تیرے فراق نے کی زندگی عطا مجھ کوتیرا وصال جو ملتا تو مر گیا ہوتاDanish Aligarhi (b. 1931)