Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آنکھوں پر آہ یاس کا پردہ سا پڑ گیادنیا اجڑ گئی کہ مرا دل اجڑ گیابیخود موہانی
  2. اب تو ہجوم یاس کی کچھ انتہا نہیںیعنی مجھے امید کا بھی آسرا نہیںبیخود موہانی
  3. ابھی چمن ابھی گل بس یہی سماں دیکھاقفس کو بھی مری آنکھوں نے آشیاں دیکھابیخود موہانی
  4. اپنا جہاں میں رہنا ہے یادگار رہنامشکل تھا اپنے گھر میں بیگانہ وار رہنابیخود موہانی
  5. اجل نے کر دیا خاموش تو کیا ہے زباں ہوں میںکہ ہستی کا فسانہ ہوں عدم کی داستاں ہوں میںبیخود موہانی
  6. ازل کیا ابتدا حسن و محبت کے ترانے کیابد کیا صرف اک بدلی ہوئی سرخی فسانے کیبیخود موہانی
  7. امتحان و صبر کی حد کیوں پڑے تاخیر میںجو نہ لکھوائے کوئی لکھ دے مری تقدیر میںبیخود موہانی
  8. اہل دل اہل نظر شام و سحر رویا کیےدرد کے پتلے تھے آخر عمر بھر رویا کیےبیخود موہانی
  9. پابند حکم گریۂ بے اختیار ہوںمیں سیل آبشار ہوں ابر بہار ہوںبیخود موہانی
  10. پروانہ سوز شمع سے یوں باخبر نہ ہودل سے لگی نہ ہو تو زباں میں اثر نہ ہوبیخود موہانی
  11. تا حشر تو فراق کا احساں ہے اور ہمکیا بعد حشر بھی شب ہجراں ہے اور ہمبیخود موہانی
  12. جب ناز عشق حسن کے قابل نہیں رہاپھر وہ کچھ اور ہی ہے مرا دل نہیں رہابیخود موہانی
  13. جگر کو دیکھ کے زخم جگر کو دیکھتے ہیںمرے عزیز مرے چارہ گر کو دیکھتے ہیںبیخود موہانی
  14. جوش وحشت میں نظر پہنچی نہ اپنے دل کے پاساٹھے آخر تک بگولے آہ اس محمل کے پاسبیخود موہانی
  15. صبر وعدے پہ نہ تھا کام تمنائی کاحشر ہے وصل کا دن یا مری رسوائی کابیخود موہانی
  16. عالم کو اس نے نقش کف پا بنا دیایعنی بنا دیا کبھی گاہے مٹا دیابیخود موہانی
  17. کہتے ہیں تیری لاش پہ آیا نہ جائے گاتو ان سے خاک میں بھی ملایا نہ جائے گابیخود موہانی
  18. کہے یہ کون مکاں اپنا لا مکاں اپناازل کے بعد سے ملتا ہے کچھ نشاں اپنابیخود موہانی
  19. میں نقش ما و من ہوتا کہ نقش ماسوا ہوتاجو پہلے سے خبر ہوتی کہ کیا ہوتا تو کیا ہوتابیخود موہانی
  20. نظیر جس کی مل سکے وہ اپنا ماجرا نہ تھالکھا نہ تھا پڑھا نہ تھا سنا نہ تھا ہوا نہ تھابیخود موہانی
  21. نہ بھولے گا خیال و رنگ رخ کا نامہ بر ہوناحدیث شوق سے حرف و زباں کا بے خبر ہونابیخود موہانی
  22. وہی عاشق ہے قاتل کا نہ جو شاکی وہاں ہوگاجسے دار جزا سمجھے ہیں دار امتحاں ہوگابیخود موہانی
  23. ہنگامہ خیز دعوئ منصور ہو گیالب ہم نوائے خاطر مغرور ہو گیابیخود موہانی
  24. یوں بھی دیکھا نہ کبھی درد کا درماں ہوناہائے وہ نشتر مژگاں کا رگ جاں ہونابیخود موہانی
  25. اف انتہائے شوق میں اب کیا کرے کوئیکہتے ہیں پہلے اپنی تمنا کرے کوئیبیخود موہانی
  26. کیوں اے خیال یار تجھے کیا خبر نہیںمیں کیوں بتاؤں درد کدھر ہے کدھر نہیںبیخود موہانی