Poetry
- اپنی ہستی کا اگر حسن نمایاں ہو جائےآدمی کثرت انوار سے حیراں ہو جائےBedam Warsi (1876–1936)
- اپنے دیدار کی حسرت میں تو مجھ کو سراپا دل کر دےہر قطرۂ دل کو قیس بنا ہر ذرے کو محمل کر دےBedam Warsi (1876–1936)
- اگر کعبہ کا رخ بھی جانب مے خانہ ہو جائےتو پھر سجدہ مری ہر لغزش مستانہ ہو جائےBedam Warsi (1876–1936)
- اللہ رے فیض ایک جہاں مستفید ہےہر مست میرے پیر مغاں کا مرید ہےBedam Warsi (1876–1936)
- بتائے دیتی ہے بے پوچھے راز سب دل کےنگاہ شوق کسی کی نگاہ سے مل کےBedam Warsi (1876–1936)
- بت بھی اس میں رہتے تھے دل یار کا بھی کاشانہ تھاایک طرف کعبے کے جلوے ایک طرف بت خانہ تھاBedam Warsi (1876–1936)
- برہمن مجھ کو بنانا نہ مسلماں کرنامیرے ساقی مجھے مست مے عرفاں کرناBedam Warsi (1876–1936)
- پاس ادب مجھے انہیں شرم و حیا نہ ہونظارہ گاہ میں اثر ماسوا نہ ہوBedam Warsi (1876–1936)
- پردے اٹھے ہوئے بھی ہیں ان کی ادھر نظر بھی ہےبڑھ کے مقدر آزما سر بھی ہے سنگ در بھی ہےBedam Warsi (1876–1936)
- تم خفا ہو تو اچھا خفا ہواے بتو کیا کسی کے خدا ہوBedam Warsi (1876–1936)
- تیری الفت شعبدہ پرواز ہےآرزو گر ہے تمنا ساز ہےBedam Warsi (1876–1936)
- جستجو کرتے ہی کرتے کھو گیاان کو جب پایا تو خود گم ہو گیاBedam Warsi (1876–1936)
- چھڑا پہلے پہل جب ساز ہستیتو ہر پردے نے دی آواز ہستیBedam Warsi (1876–1936)
- داروئے درد نہاں راحت جانی صنماعیسیٰٔ مردہ دلاں یوسف ثانی صنماBedam Warsi (1876–1936)
- دل لیا جان لی نہیں جاتیآپ کی دل لگی نہیں جاتیBedam Warsi (1876–1936)
- سہارا موجوں کا لے لے کے بڑھ رہا ہوں میںسفینہ جس کا ہے طوفاں وہ ناخدا ہوں میںBedam Warsi (1876–1936)
- سینہ میں دل ہے دل میں داغ داغ میں سوز و ساز عشقپردہ بہ پردہ ہے نہاں پردہ نشیں کا راز عشقBedam Warsi (1876–1936)
- شادی و الم سب سے حاصل ہے سبکدوشیسو ہوش مرے صدقے تجھ پر مری بے ہوشیBedam Warsi (1876–1936)
- طور والے تری تنویر لیے بیٹھے ہیںہم تجھی کو بت بے پیر لیے بیٹھے ہیںBedam Warsi (1876–1936)
- غمزہ پیکان ہوا جاتا ہےدل کا ارمان ہوا جاتا ہےBedam Warsi (1876–1936)
- قصر جاناں تک رسائی ہو کسی تدبیر سےطائر جاں کے لیے پر مانگ لوں میں تیر سےBedam Warsi (1876–1936)
- قفس کی تیلیوں سے لے کے شاخ آشیاں تک ہےمری دنیا یہاں سے ہے مری دنیا وہاں تک ہےBedam Warsi (1876–1936)
- کاش مری جبین شوق سجدوں سے سرفراز ہویار کی خاک آستاں تاج سر نیاز ہوBedam Warsi (1876–1936)
- کبھی یہاں لیے ہوئے کبھی وہاں لیے ہوئےپھری ہے جستجو تری کہاں کہاں لیے ہوئےBedam Warsi (1876–1936)
- کعبے کا شوق ہے نہ صنم خانہ چاہئےجانانہ چاہئے در جانانہ چاہئےBedam Warsi (1876–1936)
- کون سا گھر ہے کہ اے جاں نہیں کاشانہ ترا اور جلوہ خانہ ترامیکدہ تیرا ہے کعبہ ترا بت خانہ ترا سب ہے جانانہ تراBedam Warsi (1876–1936)
- کھینچی ہے تصور میں تصویر ہم آغوشیاب ہوش نہ آنے دے مجھ کو مری بے ہوشیBedam Warsi (1876–1936)
- کیا گلہ اس کا جو میرا دل گیامل گئے تم مجھ کو سب کچھ مل گیاBedam Warsi (1876–1936)
- گل کا کیا جو چاک گریباں بہار نےدست جنوں لگے مرے کپڑے اتارنےBedam Warsi (1876–1936)
- مبارک ساقیٔ ستاں مبارکفروغ مجلس رنداں مبارکBedam Warsi (1876–1936)
- مجھ سے چھپ کر مرے ارمانوں کو برباد نہ کرداد خواہی کے لیے آیا ہوں بیداد نہ کرBedam Warsi (1876–1936)
- مجھے جلووں کی اس کے تمیز ہو کیا میرے ہوش و حواس بچا ہی نہیںہے یہ بے خبری کہ خبر ہی نہیں وہ نقاب اٹھا کہ اٹھا ہی نہیںBedam Warsi (1876–1936)
- مجھے شکوہ نہیں برباد رکھ برباد رہنے دےمگر اللہ میرے دل میں اپنی یاد رہنے دےBedam Warsi (1876–1936)
- میں غش میں ہوں مجھے اتنا نہیں ہوشتصور ہے ترا یا تو ہم آغوشBedam Warsi (1876–1936)
- نہ تو اپنے گھر میں قرار ہے نہ تری گلی میں قیام ہےتری زلف و رخ کا فریفتہ کہیں صبح ہے کہیں شام ہےBedam Warsi (1876–1936)
- نہ سنو میرے نالے ہیں درد بھرے دار و اثرے آہ سحرےتمہیں کیا جو کوئی مرتا ہے مرے اے دشمن جاں بیداد گرےBedam Warsi (1876–1936)
- نہ کنشت و کلیسا سے کام ہمیں در دیر نہ بیت حرم سے غرضکہ ازل سے ہمارے سجدوں کو رہی تیرے ہی نقش قدم سے غرضBedam Warsi (1876–1936)
- نہ محراب حرم سمجھے نہ جانے طاق بت خانہجہاں دیکھی تجلی ہو گیا قربان پروانہBedam Warsi (1876–1936)
- ہلاک تیغ جفا یا شہید ناز کرےترا کرم ہے جسے جیسے سرفراز کرےBedam Warsi (1876–1936)
- ہم میکدے سے مر کے بھی باہر نہ جائیں گےمیکش ہماری خاک کے ساغر بنائیں گےBedam Warsi (1876–1936)
- یوں گلشن ہستی کی مالی نے بنا ڈالیپھولوں سے جدا کلیاں کلیوں سے جدا ڈالیBedam Warsi (1876–1936)
- یہ خسروی و شوکت شاہانہ مبارکیہ قصر یہ خدام یہ کاشانہ مبارکBedam Warsi (1876–1936)
- یہ ساقی کی کرامت ہے کہ فیض مے پرستی ہےگھٹا کے بھیس میں مے خانے پر رحمت برستی ہےBedam Warsi (1876–1936)
- اس کو دنیا اور نہ عقبیٰ چاہئےقیس لیلیٰ کا ہے لیلیٰ چاہئےBedam Warsi (1876–1936)
- پہلے شرما کے مار ڈالاپھر سامنے آ کے مار ڈالاBedam Warsi (1876–1936)
- عشق کے آثار ہیں پھر غش مجھے آیا دیکھوپھر کوئی روزن دیوار سے جھانکا دیکھوBedam Warsi (1876–1936)
- کچھ لگی دل کی بجھا لوں تو چلے جائیے گاخیر سینے سے لگا لوں تو چلے جائیے گاBedam Warsi (1876–1936)
- میں یار کا جلوا ہوںیا دیدۂ موسیٰ ہوںBedam Warsi (1876–1936)