Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اپنی ہستی کا اگر حسن نمایاں ہو جائےآدمی کثرت انوار سے حیراں ہو جائےBedam Warsi (1876–1936)
  2. اپنے دیدار کی حسرت میں تو مجھ کو سراپا دل کر دےہر قطرۂ دل کو قیس بنا ہر ذرے کو محمل کر دےBedam Warsi (1876–1936)
  3. اگر کعبہ کا رخ بھی جانب مے خانہ ہو جائےتو پھر سجدہ مری ہر لغزش مستانہ ہو جائےBedam Warsi (1876–1936)
  4. اللہ رے فیض ایک جہاں مستفید ہےہر مست میرے پیر مغاں کا مرید ہےBedam Warsi (1876–1936)
  5. بتائے دیتی ہے بے پوچھے راز سب دل کےنگاہ شوق کسی کی نگاہ سے مل کےBedam Warsi (1876–1936)
  6. بت بھی اس میں رہتے تھے دل یار کا بھی کاشانہ تھاایک طرف کعبے کے جلوے ایک طرف بت خانہ تھاBedam Warsi (1876–1936)
  7. برہمن مجھ کو بنانا نہ مسلماں کرنامیرے ساقی مجھے مست مے عرفاں کرناBedam Warsi (1876–1936)
  8. پاس ادب مجھے انہیں شرم و حیا نہ ہونظارہ گاہ میں اثر ماسوا نہ ہوBedam Warsi (1876–1936)
  9. پردے اٹھے ہوئے بھی ہیں ان کی ادھر نظر بھی ہےبڑھ کے مقدر آزما سر بھی ہے سنگ در بھی ہےBedam Warsi (1876–1936)
  10. تم خفا ہو تو اچھا خفا ہواے بتو کیا کسی کے خدا ہوBedam Warsi (1876–1936)
  11. تیری الفت شعبدہ پرواز ہےآرزو گر ہے تمنا ساز ہےBedam Warsi (1876–1936)
  12. جستجو کرتے ہی کرتے کھو گیاان کو جب پایا تو خود گم ہو گیاBedam Warsi (1876–1936)
  13. چھڑا پہلے پہل جب ساز ہستیتو ہر پردے نے دی آواز ہستیBedam Warsi (1876–1936)
  14. داروئے درد نہاں راحت جانی صنماعیسیٰٔ مردہ دلاں یوسف ثانی صنماBedam Warsi (1876–1936)
  15. دل لیا جان لی نہیں جاتیآپ کی دل لگی نہیں جاتیBedam Warsi (1876–1936)
  16. سہارا موجوں کا لے لے کے بڑھ رہا ہوں میںسفینہ جس کا ہے طوفاں وہ ناخدا ہوں میںBedam Warsi (1876–1936)
  17. سینہ میں دل ہے دل میں داغ داغ میں سوز و ساز عشقپردہ بہ پردہ ہے نہاں پردہ نشیں کا راز عشقBedam Warsi (1876–1936)
  18. شادی و الم سب سے حاصل ہے سبکدوشیسو ہوش مرے صدقے تجھ پر مری بے ہوشیBedam Warsi (1876–1936)
  19. طور والے تری تنویر لیے بیٹھے ہیںہم تجھی کو بت بے پیر لیے بیٹھے ہیںBedam Warsi (1876–1936)
  20. غمزہ پیکان ہوا جاتا ہےدل کا ارمان ہوا جاتا ہےBedam Warsi (1876–1936)
  21. قصر جاناں تک رسائی ہو کسی تدبیر سےطائر جاں کے لیے پر مانگ لوں میں تیر سےBedam Warsi (1876–1936)
  22. قفس کی تیلیوں سے لے کے شاخ آشیاں تک ہےمری دنیا یہاں سے ہے مری دنیا وہاں تک ہےBedam Warsi (1876–1936)
  23. کاش مری جبین شوق سجدوں سے سرفراز ہویار کی خاک آستاں تاج سر نیاز ہوBedam Warsi (1876–1936)
  24. کبھی یہاں لیے ہوئے کبھی وہاں لیے ہوئےپھری ہے جستجو تری کہاں کہاں لیے ہوئےBedam Warsi (1876–1936)
  25. کعبے کا شوق ہے نہ صنم خانہ چاہئےجانانہ چاہئے در جانانہ چاہئےBedam Warsi (1876–1936)
  26. کون سا گھر ہے کہ اے جاں نہیں کاشانہ ترا اور جلوہ خانہ ترامیکدہ تیرا ہے کعبہ ترا بت خانہ ترا سب ہے جانانہ تراBedam Warsi (1876–1936)
  27. کھینچی ہے تصور میں تصویر ہم آغوشیاب ہوش نہ آنے دے مجھ کو مری بے ہوشیBedam Warsi (1876–1936)
  28. کیا گلہ اس کا جو میرا دل گیامل گئے تم مجھ کو سب کچھ مل گیاBedam Warsi (1876–1936)
  29. گل کا کیا جو چاک گریباں بہار نےدست جنوں لگے مرے کپڑے اتارنےBedam Warsi (1876–1936)
  30. مبارک ساقیٔ ستاں مبارکفروغ مجلس رنداں مبارکBedam Warsi (1876–1936)
  31. مجھ سے چھپ کر مرے ارمانوں کو برباد نہ کرداد خواہی کے لیے آیا ہوں بیداد نہ کرBedam Warsi (1876–1936)
  32. مجھے جلووں کی اس کے تمیز ہو کیا میرے ہوش و حواس بچا ہی نہیںہے یہ بے خبری کہ خبر ہی نہیں وہ نقاب اٹھا کہ اٹھا ہی نہیںBedam Warsi (1876–1936)
  33. مجھے شکوہ نہیں برباد رکھ برباد رہنے دےمگر اللہ میرے دل میں اپنی یاد رہنے دےBedam Warsi (1876–1936)
  34. میں غش میں ہوں مجھے اتنا نہیں ہوشتصور ہے ترا یا تو ہم آغوشBedam Warsi (1876–1936)
  35. نہ تو اپنے گھر میں قرار ہے نہ تری گلی میں قیام ہےتری زلف و رخ کا فریفتہ کہیں صبح ہے کہیں شام ہےBedam Warsi (1876–1936)
  36. نہ سنو میرے نالے ہیں درد بھرے دار و اثرے آہ سحرےتمہیں کیا جو کوئی مرتا ہے مرے اے دشمن جاں بیداد گرےBedam Warsi (1876–1936)
  37. نہ کنشت و کلیسا سے کام ہمیں در دیر نہ بیت حرم سے غرضکہ ازل سے ہمارے سجدوں کو رہی تیرے ہی نقش قدم سے غرضBedam Warsi (1876–1936)
  38. نہ محراب حرم سمجھے نہ جانے طاق بت خانہجہاں دیکھی تجلی ہو گیا قربان پروانہBedam Warsi (1876–1936)
  39. ہلاک تیغ جفا یا شہید ناز کرےترا کرم ہے جسے جیسے سرفراز کرےBedam Warsi (1876–1936)
  40. ہم میکدے سے مر کے بھی باہر نہ جائیں گےمیکش ہماری خاک کے ساغر بنائیں گےBedam Warsi (1876–1936)
  41. یوں گلشن ہستی کی مالی نے بنا ڈالیپھولوں سے جدا کلیاں کلیوں سے جدا ڈالیBedam Warsi (1876–1936)
  42. یہ خسروی و شوکت شاہانہ مبارکیہ قصر یہ خدام یہ کاشانہ مبارکBedam Warsi (1876–1936)
  43. یہ ساقی کی کرامت ہے کہ فیض مے پرستی ہےگھٹا کے بھیس میں مے خانے پر رحمت برستی ہےBedam Warsi (1876–1936)
  44. اس کو دنیا اور نہ عقبیٰ چاہئےقیس لیلیٰ کا ہے لیلیٰ چاہئےBedam Warsi (1876–1936)
  45. پہلے شرما کے مار ڈالاپھر سامنے آ کے مار ڈالاBedam Warsi (1876–1936)
  46. عشق کے آثار ہیں پھر غش مجھے آیا دیکھوپھر کوئی روزن دیوار سے جھانکا دیکھوBedam Warsi (1876–1936)
  47. کچھ لگی دل کی بجھا لوں تو چلے جائیے گاخیر سینے سے لگا لوں تو چلے جائیے گاBedam Warsi (1876–1936)
  48. میں یار کا جلوا ہوںیا دیدۂ موسیٰ ہوںBedam Warsi (1876–1936)