Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آنسو مری آنکھوں میں نہیں آئے ہوئے ہیںدریا تیری رحمت کے یہ لہرائے ہوئے ہیںAmeer Minai (1829–1900)
  2. اچھے عیسیٰ ہو مریضوں کا خیال اچھا ہےہم مرے جاتے ہیں تم کہتے ہو حال اچھا ہےAmeer Minai (1829–1900)
  3. اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوںڈھونڈنے اس کو چلا ہوں جسے پا بھی نہ سکوںAmeer Minai (1829–1900)
  4. امیر لاکھ ادھر سے ادھر زمانہ ہواوہ بت وفا پہ نہ آیا میں بے وفا نہ ہواAmeer Minai (1829–1900)
  5. اے ضبط دیکھ عشق کی ان کو خبر نہ ہودل میں ہزار درد اٹھے آنکھ تر نہ ہوAmeer Minai (1829–1900)
  6. بات کرنے میں تو جاتی ہے ملاقات کی راتکیا بری بات ہے رہ جاؤ یہیں رات کی راتAmeer Minai (1829–1900)
  7. بن آئی تیری شفاعت سے رو سیاہوں کیکہ فرد داخل دفتر ہوئی گناہوں کیAmeer Minai (1829–1900)
  8. پلا ساقیا ارغوانی شرابکہ پیری میں دے نوجوانی شرابAmeer Minai (1829–1900)
  9. پوچھا نہ جائے گا جو وطن سے نکل گیابیکار ہے جو دانت دہن سے نکل گیاAmeer Minai (1829–1900)
  10. پہلے تو مجھے کہا نکالوپھر بولے غریب ہے بلا لوAmeer Minai (1829–1900)
  11. پھولوں میں اگر ہے بو تمہاریکانٹوں میں بھی ہوگی خو تمہاریAmeer Minai (1829–1900)
  12. ترا کیا کام اب دل میں غم جانانہ آتا ہےنکل اے صبر اس گھر سے کہ صاحب خانہ آتا ہےAmeer Minai (1829–1900)
  13. تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسولبر آئیں میرے دل کے بھی ارمان یا رسولAmeer Minai (1829–1900)
  14. تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہےسینہ کس کا ہے مری جان جگر کس کا ہےAmeer Minai (1829–1900)
  15. جب سے باندھا ہے تصور اس رخ پر نور کاسارے گھر میں نور پھیلا ہے چراغ طور کاAmeer Minai (1829–1900)
  16. جب سے بلبل تو نے دو تنکے لیےٹوٹتی ہیں بجلیاں ان کے لیےAmeer Minai (1829–1900)
  17. چاند سا چہرہ نور کی چتون ماشاء اللہ ماشاء اللہطرفہ نکالا آپ نے جوبن ماشاء اللہ ماشاء اللہAmeer Minai (1829–1900)
  18. چپ بھی ہو بک رہا ہے کیا واعظمغز رندوں کا کھا گیا واعظAmeer Minai (1829–1900)
  19. حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہےکیا چاند کی تنویر ستاروں میں چھنی ہےAmeer Minai (1829–1900)
  20. دل جدا مال جدا جان جدا لیتے ہیںاپنے سب کام بگڑ کر وہ بنا لیتے ہیںAmeer Minai (1829–1900)
  21. دل جو سینے میں زار سا ہے کچھغم سے بے اختیار سا ہے کچھAmeer Minai (1829–1900)
  22. دل کو طرز نگۂ یار جتاتے آئےتیر بھی آئے تو بے پر کی اڑاتے آئےAmeer Minai (1829–1900)
  23. سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہنکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہAmeer Minai (1829–1900)
  24. شمشیر ہے سناں ہے کسے دوں کسے نہ دوںاک جان ناتواں ہے کسے دوں کسے نہ دوںAmeer Minai (1829–1900)
  25. صاف کہتے ہو مگر کچھ نہیں کھلتا کہنابات کہنا بھی تمہارا ہے معما کہناAmeer Minai (1829–1900)
  26. فراق یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھاکبھی تکیہ ادھر رکھا کبھی تکیہ ادھر رکھاAmeer Minai (1829–1900)
  27. قبلۂ دل کعبۂ جاں اور ہےسجدہ گاہ اہل عرفاں اور ہےAmeer Minai (1829–1900)
  28. کچھ خار ہی نہیں مرے دامن کے یار ہیںگردن میں طوق بھی تو لڑکپن کے یار ہیںAmeer Minai (1829–1900)
  29. کس کے چمکے چاند سے رخسار قیصر باغ میںچاندنی ہے سایۂ دیوار قیصر باغ میںAmeer Minai (1829–1900)
  30. کہا جو میں نے کہ یوسف کو یہ حجاب نہ تھاتو ہنس کے بولے وہ منہ قابل نقاب نہ تھاAmeer Minai (1829–1900)
  31. کیا روکے قضا کے وار تعویذقلعہ ہے نہ کچھ حصار تعویذAmeer Minai (1829–1900)
  32. گزر کو ہے بہت اوقات تھوڑیکہ ہے یہ طول قصہ رات تھوڑیAmeer Minai (1829–1900)
  33. گلے میں ہاتھ تھے شب اس پری سے راہیں تھیںسحر ہوئی تو وہ آنکھیں نہ وہ نگاہیں تھیںAmeer Minai (1829–1900)
  34. مجھ مست کو مے کی بو بہت ہےموتی کی طرح جو ہو خدادادAmeer Minai (1829–1900)
  35. مرے بس میں یا تو یارب وہ ستم شعار ہوتایہ نہ تھا تو کاش دل پر مجھے اختیار ہوتاAmeer Minai (1829–1900)
  36. میں رو کے آہ کروں گا جہاں رہے نہ رہےزمیں رہے نہ رہے آسماں رہے نہ رہےAmeer Minai (1829–1900)
  37. نہ بے وفائی کا ڈر تھا نہ غم جدائی کامزا میں کیا کہوں آغاز آشنائی کاAmeer Minai (1829–1900)
  38. وصل کی شب بھی خفا وہ بت مغرور رہاحوصلہ دل کا جو تھا دل میں بدستور رہاAmeer Minai (1829–1900)
  39. وعدۂ وصل اور وہ کچھ بات ہےہو نہ ہو اس میں بھی کوئی گھات ہےAmeer Minai (1829–1900)
  40. ہٹاؤ آئنہ امیدوار ہم بھی ہیںتمہارے دیکھنے والوں میں یار ہم بھی ہیںAmeer Minai (1829–1900)
  41. ہم جو مست شراب ہوتے ہیںذرے سے آفتاب ہوتے ہیںAmeer Minai (1829–1900)
  42. ہم سر زلف قد حور شمائل ٹھہرالام کا خوب الف مد مقابل ٹھہراAmeer Minai (1829–1900)
  43. ہم لوٹتے ہیں وہ سو رہے ہیںکیا ناز و نیاز ہو رہے ہیںAmeer Minai (1829–1900)
  44. ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میریکیوں تم آسان سمجھتے تھے محبت میریAmeer Minai (1829–1900)
  45. ہوا جو پیوند میں زمیں کا تو دل ہوا شاد مجھ حزیں کابس اب ارادہ نہیں کہیں کا کہ رہنے والا ہوں میں یہیں کاAmeer Minai (1829–1900)
  46. ہیں نہ زندوں میں نہ مردوں میں کمر کے عاشقنہ ادھر کے ہیں الٰہی نہ ادھر کے عاشقAmeer Minai (1829–1900)
  47. ہے خموشی ظلم چرخ دیو پیکر کا جوابآدمی ہوتا تو ہم دیتے برابر کا جوابAmeer Minai (1829–1900)
  48. یارب شب وصال یہ کیسا گجر بجااگلے پہر کے ساتھ ہی پچھلا پہر بجاAmeer Minai (1829–1900)
  49. آفت تو ہے وہ ناز بھی انداز بھی لیکنمرتا ہوں میں جس پر وہ ادا اور ہی کچھ ہےAmeer Minai (1829–1900)
  50. آہوں سے سوز عشق مٹایا نہ جائے گاپھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گاAmeer Minai (1829–1900)