ہوا جو پیوند میں زمیں کا تو دل ہوا شاد مجھ حزیں کا

Ameer Minai (1829–1900)

ہوا جو پیوند میں زمیں کا تو دل ہوا شاد مجھ حزیں کا

بس اب ارادہ نہیں کہیں کا کہ رہنے والا ہوں میں یہیں کا

قریب ہے یارو روز محشر چھپے گا کشتوں کا خون کیوں کر

جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا

عجب مرقع ہے باغ دنیا کہ جس کا صانع نہیں ہویدا

ہزارہا صورتیں ہیں پیدا پتہ نہیں صورت آفریں کا

ہوائے مے میں ہوں محو ایسا چمن میں گھر کر جو ابر آیا

سیاہ مستی میں میں یہ سمجھا جہاز ہے آب آتشیں کا

امیرؔ دیکھا جو اس کا نقش تو نقش یوسف کا دل سے اترا

کہ نقش ثانی کے آگے ہوتا فروغ کیا نقش اولیں کا