Poetry
- آفتاب آئے چمک کر جو سر جام شرابرند سمجھیں کہ ہے صادق سحر جام شراباحمد حسین مائل
- پیار اپنے پہ جو آتا ہے تو کیا کرتے ہیںآئینہ دیکھ کے منہ چوم لیا کرتے ہیںاحمد حسین مائل
- جنبش میں زلف پر شکن ایک اس طرف ایک اس طرفگردش میں چشم سحر فن ایک اس طرف ایک اس طرفاحمد حسین مائل
- چوری سے دو گھڑی جو نظارے ہوئے تو کیاچلمن تو بیچ میں ہے اشارے ہوئے تو کیااحمد حسین مائل
- روئے تاباں مانگ موئے سر دھواں بتی چراغکیا نہیں انساں کی گردن پر دھواں بتی چراغاحمد حسین مائل
- زمزمہ نالۂ بلبل ٹھہرےمیں جو فریاد کروں غل ٹھہرےاحمد حسین مائل
- سمجھ کے حور بڑے ناز سے لگائی چوٹجو اس نے آئنہ دیکھا تو خود ہی کھائی چوٹاحمد حسین مائل
- شب ماہ میں جو پلنگ پر مرے ساتھ سوئے تو کیا ہوئےکبھی لپٹے بن کے وہ چاندنی کبھی چاند بن کے جدا ہوئےاحمد حسین مائل
- قبلۂ آب و گل تمہیں تو ہوکعبۂ جان و دل تمہیں تو ہواحمد حسین مائل
- کوئی حسین ہے مختار کار خانۂ عشقکہ لا مکاں ہی کی چوکھٹ ہے آستانۂ عشقاحمد حسین مائل
- کھڑے ہیں موسیٰ اٹھاؤ پردا دکھاؤ تم آب و تاب عارضحجاب کیوں ہے کہ خود تجلی بنی ہوئی ہے حجاب عارضاحمد حسین مائل
- کیا روز حشر دوں تجھے اے داد گر جواباعمال نامہ کا تو ہے پیشانی پر جواباحمد حسین مائل
- کیوں شوق بڑھ گیا رمضاں میں سنگار کاروزہ نہ ٹوٹ جائے کسی روزہ دار کااحمد حسین مائل
- محشر میں چلتے چلتے کروں گا ادا نمازپڑھ لونگا پل صراط پہ مائلؔ قضا نمازاحمد حسین مائل
- میں ہی مطلوب خود ہوں تو ہے عبثآج سے تیری جستجو ہے عبثاحمد حسین مائل
- نکلی جو روح ہو گئے اجزائے تن خراباک شمع بجھ گئی تو ہوئی انجمن خراباحمد حسین مائل
- وہ بت پری ہے نکالیں نہ بال و پر تعویذہیں دونوں بازو پہ اس کے ادھر ادھر تعویذاحمد حسین مائل
- وہ پارہ ہوں میں جو آگ میں ہوں وہ برق ہوں جو سحاب میں ہوںزمیں پہ بھی اضطراب میں ہوں فلک پہ بھی اضطراب میں ہوںاحمد حسین مائل
- غفلت کے تخم بونے والے اٹھےاوقات عزیز کھونے والے اٹھےاحمد حسین مائل
- مانا واعظ بڑا ہی علامہ ہےمحشر کا زبان پہ اس کے ہنگامہ ہےاحمد حسین مائل
- نقشہ لیل و نہار کا کھینچا ہےموسم کا خط جدا جدا کھینچا ہےاحمد حسین مائل
- اشک آئے غم شہ سے جو چشم تر میںدل جلنے لگا تڑپ تڑپ کر بر میںاحمد حسین مائل
- افزوں جو شباب دم بدم ہوتا ہےگھٹتی ہے عمر کیا ستم ہوتا ہےاحمد حسین مائل
- اقرار نگر کو گدائی کا ہےدعویٰ افلاس و بے نوائی کا ہےاحمد حسین مائل
- اللہ متاع زندگانی مل جائےپھر عہد شباب کی نشانی مل جائےاحمد حسین مائل
- پیدل نہ مجھے روز شمار ان سے دےمرکب پہ لیے گنہ کا بار آنے دےاحمد حسین مائل
- پیری میں شباب کی نشانی نہ ملیافسوس متاع زندگانی نہ ملیاحمد حسین مائل
- ثابت ہے تن میں بادشاہی دل کیپر کی تری نخوت نے تباہی دل کیاحمد حسین مائل
- کچھ لطف سخن وقت ملاقات نہیںلب پر تعریف دل پہ گر ہات نہیںاحمد حسین مائل
- کہتے ہیں کہ رونق جمالی ہوں میںشہرہ ہے کہ جلوۂ جلالی ہوں میںاحمد حسین مائل
- میں اپنے کفن کا سینے والا نکلاہر سانس میں مر کے جینے والا نکلااحمد حسین مائل
- میں سر پہ گناہوں کا لئے بار آیامیں حشر میں پی کے مست و سرشار آیااحمد حسین مائل
- ہم راہ عدم سے اضطراب آیا ہےمیرے لیے دنیا میں عذاب آیا ہےاحمد حسین مائل
- ہے سوئے فلک نظر تماشا کیا ہےانصاف کرو دونوں میں کون اچھا ہےاحمد حسین مائل
- ہے عرش بھی یک فرش قدم کا تیرےتقدیر نوشتہ ہے ہے قلم کا تیرےاحمد حسین مائل
- یا رب مرے دل میں ہے اجالا تیراآئینے کی ہے بغل میں جلوا تیرااحمد حسین مائل
- یہ مجھ سے نہ پوچھ تو نے کیا کیا دیکھایا رب جو کچھ نظر نے دیکھا دیکھااحمد حسین مائل
- ہو گئے مضطر دیکھتے ہی وہ ہلتی زلفیں پھرتی نظر ہمدیتے ہیں دل اک آفت جاں کو تھامے ہوئے ہاتھوں سے جگر ہماحمد حسین مائل