Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آفتاب آئے چمک کر جو سر جام شرابرند سمجھیں کہ ہے صادق سحر‌ جام شراباحمد حسین مائل
  2. پیار اپنے پہ جو آتا ہے تو کیا کرتے ہیںآئینہ دیکھ کے منہ چوم لیا کرتے ہیںاحمد حسین مائل
  3. جنبش میں زلف پر شکن ایک اس طرف ایک اس طرفگردش میں چشم سحر فن ایک اس طرف ایک اس طرفاحمد حسین مائل
  4. چوری سے دو گھڑی جو نظارے ہوئے تو کیاچلمن تو بیچ میں ہے اشارے ہوئے تو کیااحمد حسین مائل
  5. روئے تاباں مانگ موئے سر دھواں بتی چراغکیا نہیں انساں کی گردن پر دھواں بتی چراغاحمد حسین مائل
  6. زمزمہ نالۂ بلبل ٹھہرےمیں جو فریاد کروں غل ٹھہرےاحمد حسین مائل
  7. سمجھ کے حور بڑے ناز سے لگائی چوٹجو اس نے آئنہ دیکھا تو خود ہی کھائی چوٹاحمد حسین مائل
  8. شب ماہ میں جو پلنگ پر مرے ساتھ سوئے تو کیا ہوئےکبھی لپٹے بن کے وہ چاندنی کبھی چاند بن کے جدا ہوئےاحمد حسین مائل
  9. قبلۂ آب و گل تمہیں تو ہوکعبۂ جان و دل تمہیں تو ہواحمد حسین مائل
  10. کوئی حسین ہے مختار کار خانۂ عشقکہ لا مکاں ہی کی چوکھٹ ہے آستانۂ عشقاحمد حسین مائل
  11. کھڑے ہیں موسیٰ اٹھاؤ پردا دکھاؤ تم آب و تاب عارضحجاب کیوں ہے کہ خود تجلی بنی ہوئی ہے حجاب عارضاحمد حسین مائل
  12. کیا روز حشر دوں تجھے اے داد گر جواباعمال نامہ کا تو ہے پیشانی پر جواباحمد حسین مائل
  13. کیوں شوق بڑھ گیا رمضاں میں سنگار کاروزہ نہ ٹوٹ جائے کسی روزہ دار کااحمد حسین مائل
  14. محشر میں چلتے چلتے کروں گا ادا نمازپڑھ لونگا پل صراط پہ مائلؔ قضا نمازاحمد حسین مائل
  15. میں ہی مطلوب خود ہوں تو ہے عبثآج سے تیری جستجو ہے عبثاحمد حسین مائل
  16. نکلی جو روح ہو گئے اجزائے‌ تن خراباک شمع بجھ گئی تو ہوئی انجمن خراباحمد حسین مائل
  17. وہ بت پری ہے نکالیں نہ بال و پر تعویذہیں دونوں بازو پہ اس کے ادھر ادھر تعویذاحمد حسین مائل
  18. وہ پارہ ہوں میں جو آگ میں ہوں وہ برق ہوں جو سحاب میں ہوںزمیں پہ بھی اضطراب میں ہوں فلک پہ بھی اضطراب میں ہوںاحمد حسین مائل
  19. غفلت کے تخم بونے والے اٹھےاوقات عزیز کھونے والے اٹھےاحمد حسین مائل
  20. مانا واعظ بڑا ہی علامہ ہےمحشر کا زبان پہ اس کے ہنگامہ ہےاحمد حسین مائل
  21. نقشہ لیل و نہار کا کھینچا ہےموسم کا خط جدا جدا کھینچا ہےاحمد حسین مائل
  22. اشک آئے غم شہ سے جو چشم تر میںدل جلنے لگا تڑپ تڑپ کر بر میںاحمد حسین مائل
  23. افزوں جو شباب دم بدم ہوتا ہےگھٹتی ہے عمر کیا ستم ہوتا ہےاحمد حسین مائل
  24. اقرار نگر کو گدائی کا ہےدعویٰ افلاس و بے نوائی کا ہےاحمد حسین مائل
  25. اللہ متاع زندگانی مل جائےپھر عہد شباب کی نشانی مل جائےاحمد حسین مائل
  26. پیدل نہ مجھے روز شمار ان سے دےمرکب پہ لیے گنہ کا بار آنے دےاحمد حسین مائل
  27. پیری میں شباب کی نشانی نہ ملیافسوس متاع زندگانی نہ ملیاحمد حسین مائل
  28. ثابت ہے تن میں بادشاہی دل کیپر کی تری نخوت نے تباہی دل کیاحمد حسین مائل
  29. کچھ لطف سخن وقت ملاقات نہیںلب پر تعریف دل پہ گر ہات نہیںاحمد حسین مائل
  30. کہتے ہیں کہ رونق‌ جمالی ہوں میںشہرہ ہے کہ جلوۂ جلالی ہوں میںاحمد حسین مائل
  31. میں اپنے کفن کا سینے والا نکلاہر سانس میں مر کے جینے والا نکلااحمد حسین مائل
  32. میں سر پہ گناہوں کا لئے بار آیامیں حشر میں پی کے مست و سرشار آیااحمد حسین مائل
  33. ہم راہ عدم سے اضطراب آیا ہےمیرے لیے دنیا میں عذاب آیا ہےاحمد حسین مائل
  34. ہے سوئے فلک نظر تماشا کیا ہےانصاف کرو دونوں میں کون اچھا ہےاحمد حسین مائل
  35. ہے عرش بھی یک فرش قدم کا تیرےتقدیر نوشتہ ہے ہے قلم کا تیرےاحمد حسین مائل
  36. یا رب مرے دل میں ہے اجالا تیراآئینے کی ہے بغل میں جلوا تیرااحمد حسین مائل
  37. یہ مجھ سے نہ پوچھ تو نے کیا کیا دیکھایا رب جو کچھ نظر نے دیکھا دیکھااحمد حسین مائل
  38. ہو گئے مضطر دیکھتے ہی وہ ہلتی زلفیں پھرتی نظر ہمدیتے ہیں دل اک آفت جاں کو تھامے ہوئے ہاتھوں سے جگر ہماحمد حسین مائل