Poetry
- وہاں کی روشنیوں نے بھی ظلم ڈھائے بہتمیں اس گلی میں اکیلا تھا اور سائے بہتShakeb Jalali (1934–1966)
- وہ سامنے تھا پھر بھی کہاں سامنا ہوارہتا ہے اپنے نور میں سورج چھپا ہواShakeb Jalali (1934–1966)
- ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پربہتر ہے خاک ڈالیے ایسی اڑان پرShakeb Jalali (1934–1966)
- ہوائے شب سے نہ بجھتے ہیں اور نہ جلتے ہیںکسی کی یاد کے جگنو دھواں اگلتے ہیںShakeb Jalali (1934–1966)
- بد قسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہو سکاہم جس پہ مر مٹے وہ ہمارا نہ ہو سکاShakeb Jalali (1934–1966)
- جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائی دیتا ہےمری طرح سے اکیلا دکھائی دیتا ہےShakeb Jalali (1934–1966)
- گریز پاShakeb Jalali (1934–1966)
- یاد (شکیب جلالی)Shakeb Jalali (1934–1966)
- جشن عیدShakeb Jalali (1934–1966)
- غم دل حیطۂ تحریر میں آتا ہی نہیںجو کناروں میں سمٹ جائے وہ دریا ہی نہیںShakeb Jalali (1934–1966)
- دعوت فکرShakeb Jalali (1934–1966)
- کیا جانیے منزل ہے کہاں جاتے ہیں کس سمتبھٹکی ہوئی اس بھیڑ میں سب سوچ رہے ہیںShakeb Jalali (1934–1966)
- کالا پتھرShakeb Jalali (1934–1966)
- وہی جھکی ہوئی بیلیں وہی دریچہ تھامگر وہ پھول سا چہرہ نظر نہ آتا تھاShakeb Jalali (1934–1966)
- جہت کی تلاشShakeb Jalali (1934–1966)
- یہ جلوہ گاہ ناز تماشائیوں سے ہےرونق جہاں کی انجمن آرائیوں سے ہےShakeb Jalali (1934–1966)
- مجرمShakeb Jalali (1934–1966)
- لرزتا دیپShakeb Jalali (1934–1966)
- شام ہی سے تھی فضا میں کسی جلتے ہوئے کپڑے کی بسانداور ہوا چلتی تھی جیسےShakeb Jalali (1934–1966)
- پاداشShakeb Jalali (1934–1966)
- اندمالShakeb Jalali (1934–1966)
- ساتھیShakeb Jalali (1934–1966)
- مبارک وہ ساعتShakeb Jalali (1934–1966)